Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 5

292 - 508
 ١  دفعاً للضرر عنہا کما فی الجب والعنةبخلاف جانبہ لانہ متمکن من دفع الضرر بالطلاق 

ترجمہ:  ١  عورت سے ضرر کو دفع کرنے کے لئے جیسے کہ ذکر کٹا ہوا ہو ، یا عنین ہو ، بخلاف مرد کی جانب اس لئے کہ طلاق دیکر ضرر کو دفع کرنے کی قدرت ہے ۔ 
تشریح:  امام محمد  فر ماتے ہیں کہ مرد میں یہ بیماریاں ہوں تو عورت خود طلاق تو نہیں دے سکتی البتہ قاضی کی عدالت میں پیش کرے اور قاضی مناسب سمجھے تو تفتیش کے بعد نکاح فسخ کر دے ، حاصل یہ ہے کہ قاضی کے ذریعہ فسخ کرانے کا اختیار ہے ۔ 
وجہ : (١)  اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت کا حق وطی کرانے کا ہے اور ان بیماریوں سے وطی نہیں کرا سکتی اس لئے یہ ضرر ظاہر ہے اس لئے فسخ نکاح کے ذریعہ اس کو دفع کرے گی ، اس کی دو مثالیں دیتے ہیں ]١[ شوہر کا ذکر کٹا ہوا ہو تو وطی نہیں کرا سکتی ، ]٢[ یا عنین ہو تو وطی نہیں کرا سکتی اس لئے دونوں میں فسخ کا اختیار ہے ، اسی طرح ان مرضوں میں بھی فسخ کرانے کا اختیار ہو گا ۔  (٢) ان کا اصول یہ ہے کہ صرف وطی کی قدرت کافی نہیں ہے بلکہ با ضابطہ وطی کرے اس کی ضرورت ہے اور ان مرضوں میں طبیعت بھنانے کی وجہ سے با ضابطہ مشکل ہے اس لئے فسخ  کا اختیار ہو گا ۔ (٣)  حضورۖ نے برص کی وجہ سے بیوی کو علیحدہ کیا تھا۔عن ابن عمر ان النبی ۖ تزوج امرأة من بنی غفار فلما ادخلت علیہ رای بکشحھا بیاضا فناء عنھا وقال ارخی علیک فخلی سبیلھا ولم یاخذ منھا شیئا ۔ (سنن للبیہقی ، باب ما یرد بہ النکاح من العیوب، ج سابع، ص ٣٤٨، نمبر ١٤٢٢١) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عیب کی وجہ سے بیوی کو علیحدہ کر سکتے ہیں، تو اس پر قیاس کرکے عورت بھی تفریق کرا سکتی ہے۔(٤) عن ابن عباس قال قال رسول اللہ اجتنبوا فی النکاح اربعة الجنون والجذام والبرص ۔ (دار قطنی ، کتاب النکاح ،ج ثالث ، ص١٨٦ ،نمبر ٣٦٢٨) (٥) عن سعید بن المسیب قال قضی عمر فی البرصاء والجذماء والمجنونة اذا دخل بھا فرق بینھما والصداق لھا لمسیسہ ایاھا وھو لہ علی ولیھا، قال قلت انت سمعتہ ؟ قال نعم  ۔ (دار قطنی ، کتاب النکاح، ج ثالث، ص ١٨٧، نمبر ٣٦٣١ سنن للبیہقی ، باب مایرد بہ النکاح من العیوب، ج سابع، ص ٣٤٩، نمبر ١٤٢٢٣) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ان عیوب کی وجہ سے میاں بیوی میں تفریق کی جاسکتی ہے۔(٦)  اس حدیث میں بھی ہے  ۔سمعت ابا ھریرة یقول قال رسول اللہ  ۖ لاعدوی و لا طیرة و لا ھامة و لا صفر و فر من المجذوم کما تفر من الاسد۔ ( بخاری شریف ، باب الجذام ، ص ١٠٠٩، نمبر ٥٧٠٧) اس حدیث میں ہے کہ جذام سے شیر کی طرح بھاگو ، جس سے اشارہ ہے کہ جس مرد یا عورت کو جذام ہو اس کو جدا کر سکتے ہو ۔ (٧) شوہر کو امساک بالمعروف کر نا چا ہئے ، اور ان بیماری کی وجہ وہ نہ کر سکا تو احسان کے ساتھ چھوڑ دینا چاہئے ، اور اس نے نہیں چھوڑا تو قاضی اس کا قائم مقام ہو کر تفریق کرائے گا۔اس آیت اس کا ثبوت ہے ۔الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ۔( آیت ٢٢٩، سورة البقرة ٢)(٨) اذا طلقتم النساء فبلغن أجلھن  فأمسکوھن بمعروف أو سرحوھن  بمعروف و لا تمسکوھن ضرارا لتعتدوا(آیت ٢٣١، سورة   

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 بابُ تفویض الطلاق 8 1
3 فصل فی الاختیار 8 2
4 تفویض طلاق کا بیان 8 3
5 فصل فے الامر بالید 22 3
6 فصل فی المشیۃ 35 3
7 باب الایمان فی الطلاق 61 1
9 فصل فی الاستثناء 89 7
10 باب طلاق المریض 94 1
11 باب الرجعة 114 1
12 فصل فیما تحل بہ المطلقة 142 11
14 باب الایلاء 156 1
15 باب الخلع 177 1
16 باب الظہار 207 1
17 فصل فی الکفارة 220 16
18 با ب اللعان 251 1
19 باب العنین وغیرہ 280 1
20 اسباب فسخ نکاح 295 1
21 فسخ نکاح کے اسباب 295 20
22 باب العدة 324 1
23 فصل فی الحداد 357 22
24 سوگ منانے کا بیان 357 23
25 باب ثبوت النسب 379 1
26 ثبوت نسب کا بیان 379 25
27 باب حضانة الولد ومن احق بہ 408 1
28 حضانت کا بیان 408 27
29 فصل بچے کو باہر لیجانے کے بیان میں 424 27
30 باب النفقة 428 1
31 فصل فی نفقة الزوجة علی الغائب 455 30
32 فصل کس طرح کا گھر ہو 455 30
33 فصل فی نفقة المطلقة 467 30
34 فصل مطلقہ عورت کا نفقہ 467 30
35 فصل فی نفقة الاولاد الصغار 475 30
36 فصل چھوٹے بچوں کا نفقہ 475 30
37 فصل فی من یجب النفقة و من لا یجب 483 30
38 فصل والدین کا نفقہ 483 30
40 فصل فی نفقة المملوک 504 30
Flag Counter