١ دفعاً للضرر عنہا کما فی الجب والعنةبخلاف جانبہ لانہ متمکن من دفع الضرر بالطلاق
ترجمہ: ١ عورت سے ضرر کو دفع کرنے کے لئے جیسے کہ ذکر کٹا ہوا ہو ، یا عنین ہو ، بخلاف مرد کی جانب اس لئے کہ طلاق دیکر ضرر کو دفع کرنے کی قدرت ہے ۔
تشریح: امام محمد فر ماتے ہیں کہ مرد میں یہ بیماریاں ہوں تو عورت خود طلاق تو نہیں دے سکتی البتہ قاضی کی عدالت میں پیش کرے اور قاضی مناسب سمجھے تو تفتیش کے بعد نکاح فسخ کر دے ، حاصل یہ ہے کہ قاضی کے ذریعہ فسخ کرانے کا اختیار ہے ۔
وجہ : (١) اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت کا حق وطی کرانے کا ہے اور ان بیماریوں سے وطی نہیں کرا سکتی اس لئے یہ ضرر ظاہر ہے اس لئے فسخ نکاح کے ذریعہ اس کو دفع کرے گی ، اس کی دو مثالیں دیتے ہیں ]١[ شوہر کا ذکر کٹا ہوا ہو تو وطی نہیں کرا سکتی ، ]٢[ یا عنین ہو تو وطی نہیں کرا سکتی اس لئے دونوں میں فسخ کا اختیار ہے ، اسی طرح ان مرضوں میں بھی فسخ کرانے کا اختیار ہو گا ۔ (٢) ان کا اصول یہ ہے کہ صرف وطی کی قدرت کافی نہیں ہے بلکہ با ضابطہ وطی کرے اس کی ضرورت ہے اور ان مرضوں میں طبیعت بھنانے کی وجہ سے با ضابطہ مشکل ہے اس لئے فسخ کا اختیار ہو گا ۔ (٣) حضورۖ نے برص کی وجہ سے بیوی کو علیحدہ کیا تھا۔عن ابن عمر ان النبی ۖ تزوج امرأة من بنی غفار فلما ادخلت علیہ رای بکشحھا بیاضا فناء عنھا وقال ارخی علیک فخلی سبیلھا ولم یاخذ منھا شیئا ۔ (سنن للبیہقی ، باب ما یرد بہ النکاح من العیوب، ج سابع، ص ٣٤٨، نمبر ١٤٢٢١) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عیب کی وجہ سے بیوی کو علیحدہ کر سکتے ہیں، تو اس پر قیاس کرکے عورت بھی تفریق کرا سکتی ہے۔(٤) عن ابن عباس قال قال رسول اللہ اجتنبوا فی النکاح اربعة الجنون والجذام والبرص ۔ (دار قطنی ، کتاب النکاح ،ج ثالث ، ص١٨٦ ،نمبر ٣٦٢٨) (٥) عن سعید بن المسیب قال قضی عمر فی البرصاء والجذماء والمجنونة اذا دخل بھا فرق بینھما والصداق لھا لمسیسہ ایاھا وھو لہ علی ولیھا، قال قلت انت سمعتہ ؟ قال نعم ۔ (دار قطنی ، کتاب النکاح، ج ثالث، ص ١٨٧، نمبر ٣٦٣١ سنن للبیہقی ، باب مایرد بہ النکاح من العیوب، ج سابع، ص ٣٤٩، نمبر ١٤٢٢٣) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ان عیوب کی وجہ سے میاں بیوی میں تفریق کی جاسکتی ہے۔(٦) اس حدیث میں بھی ہے ۔سمعت ابا ھریرة یقول قال رسول اللہ ۖ لاعدوی و لا طیرة و لا ھامة و لا صفر و فر من المجذوم کما تفر من الاسد۔ ( بخاری شریف ، باب الجذام ، ص ١٠٠٩، نمبر ٥٧٠٧) اس حدیث میں ہے کہ جذام سے شیر کی طرح بھاگو ، جس سے اشارہ ہے کہ جس مرد یا عورت کو جذام ہو اس کو جدا کر سکتے ہو ۔ (٧) شوہر کو امساک بالمعروف کر نا چا ہئے ، اور ان بیماری کی وجہ وہ نہ کر سکا تو احسان کے ساتھ چھوڑ دینا چاہئے ، اور اس نے نہیں چھوڑا تو قاضی اس کا قائم مقام ہو کر تفریق کرائے گا۔اس آیت اس کا ثبوت ہے ۔الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ۔( آیت ٢٢٩، سورة البقرة ٢)(٨) اذا طلقتم النساء فبلغن أجلھن فأمسکوھن بمعروف أو سرحوھن بمعروف و لا تمسکوھن ضرارا لتعتدوا(آیت ٢٣١، سورة