(٢٠٦٢) واذا کان بالزوج جنون اوبرص اوجذام فلاخیار لہاعند ابی حنیفة وابی یوسف) (٢٠٦٣)وقال محمدلہاالخیار)
تشریح: ہماری دلیل یہ ہے کہ بیوی کی موت ہو جائے تب پورا فائدہ ختم ہو تا ہے اس کے با وجود موت کے وقت بھی نکاح ختم نہیں ہو تا پورا مہر لازم ہو تا ہے ، اور یہاں تو چاہے وطی نہ کر سکتا ہو لیکن عورت پر قدرت تو حاصل ہے اور وطی کے علاوہ دوسرا استفادہ کر سکتا ہے اس لئے یہاں بدرجہ اولی فسخ کی اجازت نہیں ہو گی ، دوسری بات فر ماتے ہیں کہ وطی کرنا نکاح کا مقصد نہیں ہے یہ نکاح کے ثمرات میں سے ہے ، نکاح کا مقصد عورت پر قدرت ہے ، اور ان بیماری کے با وجود عورت پر قدرت ہے اس لئے نکاح کا مقصد حاصل ہے اس لئے فسخ کی اجازت نہیں ہو گی ۔
نوٹ: عورت میں یہ بیماریاں ہیں تو شوہر کے پاس طلاق کا حربہ موجود ہے اس لئے اس کو فسخ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، خود طلاق دے دے۔
ترجمہ: (٢٠٦٢) اگر شوہر کو جنون ہو یا برص ہو یا جذام ہو تو عورت کے لئے اختیار نہیں ہے امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف کے نزدیک۔
تشریح: اوپر مسئلہ ہے کہ عورت کو بیماری ہو تو فسخ کی اجازت نہیں ہے طلاق دیکر علیحدہ کر دے ، اب مسئلہ ہے کہ مرد کو یہ بیماریاں ہیں تو وہ طلاق نہیں دے سکتی ، لیکن کیا قاضی کے ذریعہ فسخ نکاح کرا سکتی ہے یا نہیں ، تو امام ابو حنیفہ اور امام ابو یوسف فر ماتے ہیں کہ قاضی کے ذریعہ بھی فسخ نکاح نہیں کرا سکتی۔
وجہ : (١) اس کی وجہ یہ فر ماتے ہیں کہ نکاح کا اصل مقصدیہ ہے کہ شوہر کو وطی کرنے کی قدرت ہو ، چاہے وہ ابھی نہ کر رہا ہو ، اور جنون ، یا جذام ، یا برص کی بیماری سے وطی کرنے کی قدرت موجود رہتی ہے، یہ اور بات ہے کہ طبیعت بھناتی ہے اس لئے کما حقہ وطی نہیں کر پاتا اس لئے اس سے تفریق کرانے کی اجازت نہیں ہو گی ۔اور عنین ہو یا ذکر کٹا ہوا ہو تو وطی کی قدرت ہی باقی نہیں رہتی اس لئے ان دو نوں بیماریوں میں تفریق کرانے گنجائش ہوئی (٢) اس اثر میں اس کا ثبوت ہے۔قلت لعطاء فالرجل ان کان بہ بعض الاربع جذام او جنون او برص او عفل،قال لیس لھا شیء ھو احق بھا۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب مارد من النکاح، ج سادس ،ص١٩٧، نمبر ١٠٧٤٣) اس اثر سے معلوم ہوا کہ عیوب کی وجہ سے جدا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ (٣) ایک او راثر میں ہے۔عن الثوری فی رجل یحدث بہ بلاء لایفرق بینھما ھو بمنزلة المرأة لا یرد الرجل ولا ترد المرأة وذکرہ عن حماد عن ابراہیم ۔(مصنف عبد الرزاق ، باب ما رد من النکاح، ج سادس، ص ١٩٧، نمبر١٠٧٤٢) اس اثر سے بھی معلوم ہوا کہ تفریق نہیں کرائی جائیگی۔
ترجمہ:(٢٠٦٣) اور فرمایا امام محمد نے اس کے لئے اختیار ہے۔