٢ ولنا ان فوت الاستیفاء اصلاً بالموت لایوجب الفسخ فاختلالہ بہذہ العیوب اولیٰ وہذا لان الاستیفاء من الثمرات والمستحق ہوالتمکن وہو حاصل
نے برص کی وجہ سے بیوی کو علیحدہ کیا تھا۔عن ابن عمر ان النبی ۖ تزوج امرأة من بنی غفار فلما ادخلت علیہ رای بکشحھا بیاضا فناء عنھا وقال ارخی علیک فخلی سبیلھا ولم یاخذ منھا شیئا ۔ (سنن للبیہقی ، باب ما یرد بہ النکاح من العیوب، ج سابع، ص ٣٤٨، نمبر ١٤٢٢١) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عیب کی وجہ سے بیوی کو علیحدہ کر سکتے ہیں(٣) عن ابن عباس قال قال رسول اللہ اجتنبوا فی النکاح اربعة الجنون والجذام والبرص ۔ (دار قطنی ، کتاب النکاح ،ج ثالث ،نمبر ٣٦٢٨) (٤) عن سعید بن المسیب قال قضی عمر فی البرصاء والجذماء والمجنونة اذا دخل بھا فرق بینھما والصداق لھا لمسیسہ ایاھا وھو لہ علی ولیھا ۔ (دار قطنی ، کتاب النکاح، ج ثالث، ص ١٨٧، نمبر ٣٦٣١ سنن للبیہقی ، باب مایرد بہ النکاح من العیوب، ج سابع، ص ٣٤٩، نمبر ١٤٢٢٣) اس اثر سے معلوم ہوا کہ ان عیوب کی وجہ سے میاں بیوی میں تفریق کی جاسکتی ہے۔(٥) صاحب ہدایہ کی حدیث یہ ہے ۔سمعت ابا ھریرة یقول قال رسول اللہ ۖ لاعدوی و لا طیرة و لا ھامة و لا صفر و فر من المجذوم کما تفر من الاسد۔ ( بخاری شریف ، باب الجذام ، ص ١٠٠٩، نمبر ٥٧٠٧) اس حدیث میں ہے کہ جذام سے شیر کی طرح بھاگو ، جس سے اشارہ ہے کہ جس مرد یا عورت کو جذام ہو اس کو جدا کر سکتے ہو ۔ (٦) شوہر کو امساک بالمعروف کر نا چا ہئے ، اور ان بیماری کی وجہ وہ نہ کر سکا تو احسان کے ساتھ چھوڑ دینا چاہئے ،اس آیت اس کا ثبوت ہے ۔الطلاق مرتان فامساک بمعروف او تسریح باحسان ۔( آیت ٢٢٩، سورة البقرة ٢)(٧) اذا طلقتم النساء فبلغن أجلھن فأمسکوھن بمعروف أو سرحوھن بمعروف و لا تمسکوھن ضرارا لتعتدوا(آیت ٢٣١، سورة البقرة ٢)ان آیتوں میں ہے کہ امساک بالمعروف نہ کر سکو تو احسان کے ساتھ چھوڑ دو ۔
لغت: جذام : کوڑھ کی بیماری ۔برص: جسم پر سفید داغ ہو تا ہے ، جسکو برص کہتے ہیں ۔ جنون : عقل کا زائل ہو جائے ۔رتق: عورت کی شرمگاہ میں دو راستے ہوتے ہیںایک پیشاب کرنے کا دوسرا وطی کرنے کا ، لیکن دونوں راستہ ایک ہی ہو تو اس کو رتق کہتے ہیں ۔قرن : سینگ ، شرمگاہ میں سینگ جیسی ہڈی یا کوئی گوشت کا ٹکڑا ابھرا ہوا ہو جس سے مرد کا عضو تناسل شرمگاہ میں نہ جا سکتا ہو تو اس کو قرن کہتے ہیں ۔
ترجمہ: ٢ ہماری دلیل یہ ہے کہ پورا استفادہ کرنا موت پر ختم ہو تا ہے پھر بھی فسخ واجب نہیں کرتا ، تو ان عیوب سے خلل انداز ہو نے سے بدرجہ اولی فسخ نہیں ہو تا ، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پورا وصول کرنا نکاح کے ثمرات میں سے ہے اور مستحق وہ قدرت ہے جو حاصل ہے ۔