(٢٠٦١) واذاکان بالزوجة عیب فلاخیار للزوج) ١ وقال الشافعی یرد بالعیوب الخمسة وہی الجذام والبرص والجنون والرتق والقرن لانہا تمنع الاستیفاء حساً وطبعاً والطبع مؤید بالشرع قال علیہ السلام فرمن المجذوم فرارک من الاسد
اور شوہر کی بیماری کی مدت اس میں منہا نہیں ہو گی ، بلکہ مثلا ایک ماہ تک عورت بیمار رہی ، اور ایک ماہ تک مرد بیمار رہا تو ایک سال کے علاوہ دو ماہ اور علاج کی مہلت دی جائے گی ، کیونکہ یہ منہا نہیں ہے ۔
ترجمہ: (٢٠٦١) اگر بیوی کو عیب ہو تو اس کے شوہر کے لئے اختیار نہیں ہے۔
تشریح: شادی کرنے سے پہلے شوہر کو عیب کا پتہ نہیں تھا اور نہ اس عیب سے راضی تھا۔شادی کے بعد اس کا علم ہوا تو عیب کی وجہ سے شوہر کو تفریق کرانے کا اختیار نہیں ہے۔ اگر اس کو پسند نہیں ہے تو طلاق دے دے ، یہ اس کے اختیار میں ہے ۔
وجہ : (١)شادی ہوتی ہے ایک دوسرے کے اطمینان کے لئے ۔اور تفریق سے بیوی کو تکلیف ہوگی اس لئے تفریق کی اجازت نہیں ہوگی (٢) اثر میں ہے ۔قال علی ایما رجل تزوج امرأة مجنونة او جذماء او بھا برص او بھا قرن فھی امرأتہ ان شاء امسک وان شاء طلق۔ (دار قطنی ، کتاب النکاح، ج ثالث، ص ١٨٧، نمبر ٣٦٣٣ سنن للبیہقی ، باب ما یرد بہ النکاح من العیوب، ج سابع، ص ٣٥٠، نمبر ١٤٢٢٩) اس اثر سے معلوم ہوا کہ عیب والی عورتیں بیوی ہیں چاہے ان کو رکھیں چاہے ان کو طلاق دیں (٣) اثر میں ہے۔قلت لعطاء فالرجل ان کان بہ بعض الاربع جذام او جنون او برص او عفل،قال لیس لھا شیء ھو احق بھا۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب مارد من النکاح، ج سادس ،ص١٩٧، نمبر ١٠٧٤٣) اس اثر سے معلوم ہوا کہ عیوب کی وجہ سے جدا کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
ترجمہ: ١ امام شافعی نے فر مایا کہ پانچ عیبوں کے ذریعہ سے نکاح توڑا جا سکتا ہے اور وہ جذام ہے ، برص ہے ، جنون ہے ، رتق ہے ، قرن ہے ، اس لئے کہ وہ حسا اور طبعا استفادہ کرنے سے روکتاہے اور طبیعت کی تائید شریعت سے ہو تی ہے ، حضور علیہ السلام نے فر مایا کہ جذام والے سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو ۔
تشریح: حضرت امام شافعی نے فر مایا کہ ان پانچ عیوب سے مرد کو اور عورت کو بھی نکاح توڑنے کا اختیار ہو گا اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے یا حسی طور پر استفادہ کر نا نا ممکن ہے ، مثلا عورت کو قرن ہے ، یا رتق ہے تو اس کی وجہ سے عضو تناسل اندر جائے گا ہی نہیں ہے اس لئے وطی ہی نہیں کر پائے گا ۔اور جذام ، برص اور جنون میں آدمی کی طبیعت اس کے پاس جانے سے نفرت کرتی ہے اس لئے وطی نہیں کر پائے گا ، اس لئے نکاح کا مقصد حاصل نہیں ہو گا اس لئے فسخ کرانے کا حق ہو گا ۔
وجہ: (١) ان بیماریوں کی وجہ سے استفادہ مشکل ہوگا جو اصل مقصود ہے۔اس لئے شوہر کو جدا کرنے کی اجازت ہوگی (٢) حضور