١ لتایدہا بالنکول وان حلف لاتخیر (٢٠٥٩)وان کانت ثیبا فی الاصل فالقول قولہ مع یمینہ )
١ وقدذکرناہ (٢٠٦٠) فان اختارت زوجہالم یکن لہا بعدذلک خیار) ١ لانہارضیت ببطلان حقہا٢ وفی التاجیل تعتبر السنة القمریة ہوالصحیح ٣ ویحتسب بایام الحیض وبشہررمضان لوجودہ ذلک فی السنة ولایحتسب بمرضہ ومرضہا لان السنة قد تخلوا عنہ
دیا جائے گا ۔] اس لئے کہ قسم سے انکار کرنے سے اس کی تائید ہو گئی [
ترجمہ: ١ اور اگر قسم کھائی تو اختیار نہیں ہو گا ۔
تشریح:اگر معائنہ کرنے والی عورتوں نے کہا کہ بیوی ثیبہ ہے تو بھی شوہر کو قسم کھلائی جائے ، کیونکہ وہ مدعی علیہ ہے اس لئے اس پر قسم ضروری ہے ، پس اگر قسم کھانے سے انکار کرے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ بیوی کی بات صحیح ہے ، اس لئے بیوی کو علیحدہ ہو نے کا اختیار دیا جائے گا ۔اور اگر قسم کھا لی تو عورت کو علیحدہ ہو نے کا اختیار نہیں ہو گا ۔
ترجمہ: ( ٢٠٥٩) اور اگر شروع سے ثیبہ ہو تب بھی شوہر کی بات مانی جائے گی قسم کے ساتھ ۔
ترجمہ: ١ ہم نے اس کی دلیل پہلے ذکر کی ہے ۔
تشریح:اگر عورت شادی سے پہلے ثیبہ تھی تب بھی شوہر سے قسم لی جائے گی اور اس نے قسم کھا لی تو اس کی بات مانی جائے گی ، کیونکہ وہ مدعی علیہ ہے ، اور مدعی کے پاس گواہ نہیں ہے تو مدعی علیہ کی بات قسم کے ساتھ مانی جاتی ہے ۔
ترجمہ: ( ٢٠٦٠) اگر عورت نے شوہر کو اختیار کر لیا تو اس کے بعد اب اختیار نہیں ہو گا۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ وہ اپنے حق باطل کرنے پر راضی ہو گئی ۔
تشریح:ایک سال پورا ہو نے کے بعد عورت کو علیحدہ ہو نے کا اختیار دیا گیا تو عورت نے شوہر کے ساتھ رہنے کو اختیار کر لیا تو اب دوبارہ علیحدہ ہو نے کا اختیار نہیں دیا جائے گا اس لئے کہ اس نے اپنے حق کو خود ہی باطل کر دیا ہے ۔
ترجمہ: ٢ اور تاخیر میں قمری سال کا اعتبار ہو گا ، صحیح یہی ہے ۔
تشریح: قمری سال جو 354 دن کا ہوتا ہے وہ سال مراد ہو گا ۔شمسی سال جو365 دن کا ہوتا ہے وہ سال مراد نہیں ہو گا ۔
ترجمہ: ٣ اور حیض کے ایام اور رمضان کے مہینہ بھی شمار کیا جائے گا۔سال میں اس کے پائے جانے کی وجہ سے ، اور نہیں شمار کیا جائے گا شوہر کے مرض کو اور نہ عورت کے مرض کو اس لئے کہ سال اس سے خالی ہو تا ہے ۔
تشریح: سال بھر میں حیض کا زمانہ ضرور آئے گا اسی طرح رمضان کا مہینہ ضرور آئے گا اس لئے وہ ٣٥٤ دن کے اندر ہی رہے گا الگ سے اس کا حساب نہیں کیا جائے گا ، لیکن ایسا ہو تا ہے کہ سال گزر جائے اور بیماری نہ آئے ، اس لئے عورت کی بیماری کی مدت