(٢٠٥٦) وان کان مجبوبا فرق بینہما فی الحال ) ١ ان طلبت لانہ لافائدة فی التاجیل
٢ والخصی یؤجل کما یؤجل العنینن لان وطیہ مرجؤ (٢٠٥٧) واذا اجل العنین سنة وقال قدجامعتہا وانکر ت نظرالیہا النساء فان قلن ہی بکر خیرت) ١ لان شہادتہن تأیدت بمؤیدٍ وہی البکارة (٢٠٥٨) وان قلن ہی ثیب حلف الزوج فان نکل خیرت )
پس اگر شوہر نے قسم کھالی تو عورت کو کوئی حق نہیں رہے گا ، کیونکہ پہلے وہ باکرہ تھی اب ثیبہ بھی ہے جو جماع کرنے کی ظاہری علامت ہے ، اور شوہر نے جماع کرنے پر قسم بھی کھا لی ہے ۔ اور اگر شوہر نے جماع پر قسم کھانے سے انکار کر لیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس نے جماع نہیں کیا ہے اس لئے علاج کے لئے ایک سال کی مہلت دی جائے گی ۔
ترجمہ: ( ٢٠٥٦) اگر ذکر کٹا ہوا ہے تو دونوں کے درمیان فی الحال تفریق کرادی جائے گی ۔
ترجمہ: ١ اگر عورت نے مطالبہ کیا ، اس لئے کہ مؤخر کرنے میں کوئی فائدہ نہیں ہے ۔
تشریح: اگر ذکر کٹا ہوا ہے تو علاج کی مہلت دینے سے اس کی اصلاح نہیں ہو سکتی اور نہ ہو وطی پر قادر ہو سکتا ہے اس لئے اگر عورت مطالبہ کرے تو ابھی سے تفریق کر دی جائے گی ۔
ترجمہ: ٢ اور خصی کو مہلت دی جائے گی جیسے عنین کو مہلت دی جاتی ہے ، اس لئے کہ اس کی وطی کی امید ہے ۔
تشریح: خصی کے پاس آلہ تناسل ہے صرف خصیہ میں خامی ہے اس لئے علاج سے وطی کے قابل ہو نے کی امید ہے اس لئے اس کو بھی ایک سال کی مہلت دی جائے گی ۔
ترجمہ: ( ٢٠٥٧) ایک سال کی مہلت دی اور شوہر نے کہا میں نے بیوی سے جماع کیا ہے اور بیوی نے انکار کیا تو عورتیں اس کا معائنہ کرے گی ، پس اگر انہوں نے کہا کہ باکرہ ہے تو بیوی کو اختیار دیا جائے گا ۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ عورتوں کی شہادت نے تائید کر دی کہ وہ باکرہ ہے ۔
تشریح: ایک سال مہلت دینے کے بعد شوہر نے کہا کہ میں نے اس دوران وطی کی ہے ، اور بیوی کہتی ہے کہ وطی نہیں کی تو عورتوں کو معائنہ کے لئے کہا جائے گا ، اگر ان لوگوں نے کہہ دیا کہ ابھی بھی بیوی باکرہ ہے تو اب بیوی کو الگ ہو نے کا اختیار دیا جائے گا اگر اس نے علیحدہ کرنے کو کہا تو علیحدہ کر دیا جائے گا ، اور ساتھ رہنے پر راضی ہو تو ساتھ رکھ دیا جائے گا۔
وجہ : اس کی وجہ یہ ہے کہ عورت نے جماع سے انکار کیا ہے اور عورتوں نے بھی گواہی دی کہ یہ باکرہ ہے اس لئے بیوی کی بات کی تائید ہو گئی اس لئے بیوی کو علیحدہ ہو نے کا اختیار دیا جائے گا ۔
ترجمہ: (٢٠٥٨) اور اگر عورتوں نے کہا کہ بیوی ثیبہ ہے تو شوہر قسم کھائے ، پس اگر قسم کھانے سے انکار کر دیا تو بیوی کو اختیار