١ فان خلوة العنین صحیحة ٢ ویجب العدةلمابینا من قبل ہٰذااذا اقرالزوج انہ لم یصل الیہا (٢٠٥٣) ولواختلف الزوج والمرأة فی الوصول الیہا فان کانت ثیبا فالقول قولہ مع یمینہ) ١ لانہ ینکرا ستحقاق حق الفرقة والاصل ہوالسلامة فی الجبلة
ترجمہ: ١ اس لئے کہ عنین کی خلوت صحیح ہے ۔
تشریح: عنین کے پاس آلہ تناسل موجود ہے ، اتنی بات ہے کہ اس میں جماع کی طاقت نہیں ہے اس لئے اس کی خلوت سے مہر لازم ہو گا ، کیونکہ عورت نے اپنا بضع سپرد کر دیا ہے ۔
ترجمہ: ٢ اور عورت پر عدت واجب ہو گی ، اس دلیل کی بنا پر جو ہم نے پہلے بیان کیا ، اور یہ اس وقت ہے جبکہ شوہر نے اقرار کیا ہو کہ عورت سے جماع نہیں کر پایا ہے ۔
تشریح: مسئلہ نمبر ١٦٠٠،باب المہر کہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اس میں مہر بھی لازم ہو گا اور عدت بھی لازم ہو گی ، کیونکہ رحم میں منی ہو اور یہ شریعت کا حق ہے اس لئے اس کو ختم نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ تفصیل اس صورت میں ہے جبکہ شوہر کہتا ہو کہ میں وطی نہیں کر پایا ہوں اور اگر وہ یہ کہتا ہو کہ میں نے وطی کی ہے تب تو اس کے اقرار پر مہر بھی لازم ہو گا اور عدت بھی لازم ہو گی ۔
وجہ : (١) اس اثر میں گزرا کہ اس پر عدت بھی لازم ہو گی ۔ عن عمر بن الخطاب انہ قال فی العنین یوجل سنة فان قدر علیھا والا فرق بینھما ولھا المہر وعلیھا العدة۔ (سنن للبیہقی ، باب اجل العنین ،ج سابع، ص٣٦٨،نمبر ١٤٢٨٩)
ترجمہ: (٢٠٥٣) میاں بیوی میں عورت کے پاس پہنچنے میں اختلاف ہو گیا ، پس اگر ثیبہ ہے تو شوہر کی بات کا اعتبار ہو گا قسم کے ساتھ ۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ حق فرقت کے مستحق ہو نے کا انکار کرتا ہے ، اور اصل یہ ہے کہ فطری طور پر آلہ تناسل سلامت رہتا ہے ۔
تشریح: شوہر کہتا ہے کہ میں نے جماع کیا ہے اور عورت کہتی ہے کہ جماع نہیں کیا ہے ، تو اگر عورت ثیبہ ہے تو چونکہ پہلے سے جماع شدہ ہے اس لئے یہ نہیں پتہ چلے گا کہ اس شوہر نے جماع کیا ہے ، یا پہلے شوہر سے ثیبہ ہوئی ہے ، اس لئے عورت تفریق کرانے کی مدعیہ ہوئی اور شوہر مدعی علیہ ہوا ، اور عورت کے پاس بینہ نہیں ہے تو شوہر کی بات قسم کے ساتھ مانی جائے گی ۔
وجہ : (١) صاحب ہدایہ نے٫ ینکر استحقاق الفرقة ، سے پہلی دلیل یہ دی ہے کہ عورت تفریق کا دعوی کر رہی ہے اور شوہر اس کا منکر ہے اس لئے شوہر کی بات قسم کے ساتھ مانی جائے(٢) اور ٫ و الاصل ھو السلامة ، کہہ کردوسری دلیل عقلی اس طرح پیش کی ہے ، کہ عام طور پر مرد کا آلہ تناسل صحیح سالم رہتا ہے اس لئے مرد جب کہہ رہا ہے کہ میں جماع کیا ہے تو وہ ظاہر کے موافق کہہ رہا ہے ، اور جو ظاہر کے موافق کہتا ہے وہ مدعی علیہ ہو تا ہے اس لئے شوہر مدعی علیہ ہے ، اور مدعی کے پاس بینہ نہ ہو تو مدعی کی بات قسم کے ساتھ مانی جاتی