٤ وانما تقع بائنة لان المقصود وہودفع الظلم عنہا لایحصل الابہا لانہا لولم تکن بائنة تعودمعلقة بالمراجعة (٢٠٥٢)ولہا کمال مہرہا ان کان خلابہا)
شوہر تین طلاق کا مالک ہو گا ، کیونکہ فسخ نکاح میںصرف عورت مرد الگ ہو جاتے ہیں طلاق واقع نہیں ہو تی ۔ ]٣[ اگر مہر پہلے سے مؤکد نہ ہو یعنی وطی نہ کی ہو ، یا خلوت صحیحہ نہ کی ہو ، یا دو نوں میں سے کسی ایک کی موت واقع نہ ہو ئی ہو تو فسخ کی صورت میں مہر لازم نہیں ہو تا ، اور طلاق کی صورت میں مہر لازم ہو تا ہے ]٤[ نکاح فسخ ہوا ہو اور اس کی عدت گزار رہی ہو تو اس عدت میں شوہر طلاق دے تو یہ طلاق واقع نہیں ہو گی ، کیونکہ اس کی بیوی نہیں رہی ، اور طلاق مغلظہ سے کم طلاق کی عدت گزار رہی ہو تو اس عدت میں مزید طلاق دے تو وہ واقع ہو گی ۔ تفریق اور طلاق میں یہ چار بنیادی فرق ہے ۔
ترجمہ: ٤ اور طلاق بائنہ اس لئے واقع ہو گی کہ مقصد عورت سے ظلم کو دفع کرنا ہے ، اور یہ طلاق بائنہ ہی سے حاصل ہو گا ، اور اگر بائنہ نہ ہو رجعت کرنے کی وجہ سے لوٹ کر معلقہ ہو جائے گی ۔
تشریح: طلاق رجعی کیوں واقع نہیں ہو گی ، بائنہ کیوں واقع ہو گی ، اس کی وجہ بتاتے ہیں کہ اگر طلاق رجعی واقع کریں تو شوہر دوبارہ رجعت کر لے گا اور عورت پھر عنین شوہر کے پاس جا کر بغیر جماع کے رہے گی ، اور بیچ میں لٹکی رہے گی اس لئے چھٹکارے کا مقصد حاصل نہیں ہو گا ، اس لئے اس تفریق سے طلاق بائنہ واقع ہو گی ۔ اصل تو اوپر کا اثر ہے ۔
ترجمہ: (٢٠٥٢) عورت کے لئے پورا مہر ہوگا اگر اس سے خلوت کر چکا ہو۔
تشریح : عنین اگر چہ صحبت کاملہ نہیں کر سکتا اسی لئے علیحدگی ہوئی ہے پھر بھی مسئلہ یہ ہے کہ خلوت کر چکا ہو تو پورا مہر لازم ہوگا۔
وجہ : (١) عورت نے اپنا مال سپرد کر دیا ہے اس لئے اس کو مہر ملے گا (٢) اس اثر میں ہے کہ عدت بھی لازم ہو گی اور مہر بھی پورا دینا ہو گا ، اثر یہ ہے ۔عن عمر بن الخطاب انہ قال فی العنین یوجل سنة فان قدر علیھا والا فرق بینھما ولھا المہر وعلیھا العدة۔ (سنن للبیہقی ، باب اجل العنین ،ج سابع، ص٣٦٨،نمبر ١٤٢٨٩ مصنف عبد الرزاق ، باب اجل العنین، ج سادس ،ص٢٠٠ ،نمبر١٠٧٦٨دار قطنی ، کتاب النکاح، ج ثالث، ص ٢١١ ،نمبر ٣٧٦٩) (٣) عن ابراہیم قال یوجل العنین سنة فان دخل بھا و الا فرق بینھما و لھا الصداق کاملا ۔( مصنف عبد الرزاق ، باب اجل العنین، ج سادس ،ص٢٠٠ ،نمبر١٠٧٦٨) اس اثر میں ہے کہ عورت کو پورا مہر ملے گا ۔(٤) اور خلوت کرنے پر مہر لازم ہوگا اس کی دلیل یہ حدیث مرسل ہے۔عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان قال قال رسول اللہ ۖ من کشف خمارامرأة ونظر الیھا فقد وجب الصداق دخل بھا او لم یدخل بھا۔ (دار قطنی ، کتاب النکاح ،ج ثالث، ص ٢١٣ ،نمبر ٣٧٨٠) (٥)اور حضرت علی کا یہ اثر ہے۔عن علی قال اذا اغلق بابا وارخی سترا او رای عورة فقد وجب علیہ الصداق۔ (دار قطنی ، کتاب النکاح، ج ثالث، ص ٢١٢، نمبر ٢٧٧٧ ) اس اثر سے معلوم ہوا کہ خلوت ہوئی ہوتو پورا مہر لازم ہوگا۔