Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 5

283 - 508
  ٢   وقال الشافعی ہوفسخ   ٣   لکن النکاح لایقبل الفسخ عندنا 

تشریح : عنین ہونے کی وجہ سے جو علیحدگی ہوگی یہ طلاق بائنہ کے درجے میں ہوگی۔   
وجہ:  (١)  قاضی مرد کی جانب سے نائب بنکر  تفریق کرا رہا ہے  اور قاعدہ یہ ہے کہ مرد کی جانب سے جو تفریق ہو طلاق کے درجے میں ہو تی ہے ، اور طلاق رجعی سے عورت کی جان نہیں چھوٹے  گی اس لئے طلاق بائنہ ہو گی ۔(٢) اثر میں اس کا ثبوت ہے۔عن عمر بن الخطاب انہ قال فی العنین یوجل سنة فان قدر علیھا والا فرق بینھما ولھا المہر وعلیھا العدة۔ (سنن للبیہقی ، باب اجل العنین ج سابع، ص٣٦٨،نمبر ١٤٢٨٩ مصنف عبد الرزاق ، باب اجل العنین، ج سادس ،ص٢٠٠ ،نمبر١٠٧٦٢دار قطنی ، کتاب النکاح، ج ثالث، ص ٢١١ ،نمبر ٣٧٦٩)  اس٫ فّرق، سے پتہ چلا کہ وطی نہ کرنے پر تفریق کی جائے گی ، اور تفریق طلاق  بائنہ سے ہوتی ہے اس لئے طلاق بائنہ ہو گی ۔ (٣)  اس اثر میں طلاق بائنہ کی صراحت ہے ۔ عن عمر بن الخطاب  أن امرأة أتتہ فأخبرتہ ان زوجھا لا یصل الیھا فأجلہ حولا فلما انقضی الحول و لم یصل الیھا خیرھا فاختارت نفسھا ففرق بینھما عمر و جعلھا تطلیقة بائنا قال محمد ناخذ و ھو قول ابی حنیفہ  ۔( کتاب الاثار لامام محمد  ، باب العنین ، ص ١٠٧، نمبر ٤٩٣)اس اثر میں ہے کہ تفریق طلاق بائنہ ہو گی ۔
 ترجمہ:   ٢  امام شافعی  نے فر مایا کہ وہ فسخ نکاح ہے ۔
تشریح: عنین کی وجہ سے قاضی جو تفریق کرائے گا امام شافعی  کے یہاں  یہ فسخ نکاح ہو گا ، اور امام ابو حنیفہ  کے یہاں طلاق بائنہ ہو گی ۔ 
 ترجمہ:  ٣   لیکن نکاح ہمارے نزدیک فسخ قبول نہیں کرتا ۔ 
 تشریح:  یہ امام شافعی  کو جواب ہے کہ نکاح مکمل ہو نے کے بعد فسخ کو قبول نہیں کرتا ، اور جہاں جہاں فسخ ہے وہ نکاح مکمل ہو نے سے پہلے فسخ ہے ، مثلا خیار عتق میں باندی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تھا ، یا خیار بلوغ میں بچے کی  اجازت کے بغیر نکاح کیا تھا اس لئے وہ مکمل ہی نہیں تھا اس لئے وہ فسخ ہو گیا ، اور یہاں بیوی کی رضامندی سے نکاح ہوا ہے ، اس لئے یہ فسخ نہیں ہو گا ، البتہ شوہر ٹھیک سے نہیں رکھ رہا ہے اس لیے اس کی جانب سے قاضی نکاح توڑے گا  جو طلاق بائنہ ہو گی ۔  
لغت:   فسخ نکاح ۔ اور طلاق میں فرق یہ ہے کہ ]١[ فسخ نکاح عورت کی جانب سے ہو تا ہے اور اس کی جانب سے قاضی فسخ کرتے ہیں ، کیونکہ عورت طلاق نہیں دے سکتی ، اور مرد کی جانب سے جو تفریق ہو تی ہے وہ عموما طلاق ہوتی ہے ، چا ہے قاضی تفریق کرے ۔ ]٢[ دوسرا فرق یہ ہے کہ اگر طلاق ہو تو اگلے نکاح کے بعد شوہر ایک طلاق کم کا مالک ہو گا ، مثلا بیوی کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے طلاق ہوئی ، اور بعد میں عورت مسلمان ہوئی اور شوہر نے اس عورت سے نکاح کیا تو شوہر اب دو ہی طلاق کا مالک ہو گا اور اسی سے عورت مغلظہ ہو جائے گی ، کیونکہ شوہر نے ایک طلاق پہلے دے دیا ہے ، اور اگر اس کو فسخ نکاح شمار کریں تو دوسرے نکاح کے بعد بھی 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 بابُ تفویض الطلاق 8 1
3 فصل فی الاختیار 8 2
4 تفویض طلاق کا بیان 8 3
5 فصل فے الامر بالید 22 3
6 فصل فی المشیۃ 35 3
7 باب الایمان فی الطلاق 61 1
9 فصل فی الاستثناء 89 7
10 باب طلاق المریض 94 1
11 باب الرجعة 114 1
12 فصل فیما تحل بہ المطلقة 142 11
14 باب الایلاء 156 1
15 باب الخلع 177 1
16 باب الظہار 207 1
17 فصل فی الکفارة 220 16
18 با ب اللعان 251 1
19 باب العنین وغیرہ 280 1
20 اسباب فسخ نکاح 295 1
21 فسخ نکاح کے اسباب 295 20
22 باب العدة 324 1
23 فصل فی الحداد 357 22
24 سوگ منانے کا بیان 357 23
25 باب ثبوت النسب 379 1
26 ثبوت نسب کا بیان 379 25
27 باب حضانة الولد ومن احق بہ 408 1
28 حضانت کا بیان 408 27
29 فصل بچے کو باہر لیجانے کے بیان میں 424 27
30 باب النفقة 428 1
31 فصل فی نفقة الزوجة علی الغائب 455 30
32 فصل کس طرح کا گھر ہو 455 30
33 فصل فی نفقة المطلقة 467 30
34 فصل مطلقہ عورت کا نفقہ 467 30
35 فصل فی نفقة الاولاد الصغار 475 30
36 فصل چھوٹے بچوں کا نفقہ 475 30
37 فصل فی من یجب النفقة و من لا یجب 483 30
38 فصل والدین کا نفقہ 483 30
40 فصل فی نفقة المملوک 504 30
Flag Counter