٢ وقال الشافعی ہوفسخ ٣ لکن النکاح لایقبل الفسخ عندنا
تشریح : عنین ہونے کی وجہ سے جو علیحدگی ہوگی یہ طلاق بائنہ کے درجے میں ہوگی۔
وجہ: (١) قاضی مرد کی جانب سے نائب بنکر تفریق کرا رہا ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ مرد کی جانب سے جو تفریق ہو طلاق کے درجے میں ہو تی ہے ، اور طلاق رجعی سے عورت کی جان نہیں چھوٹے گی اس لئے طلاق بائنہ ہو گی ۔(٢) اثر میں اس کا ثبوت ہے۔عن عمر بن الخطاب انہ قال فی العنین یوجل سنة فان قدر علیھا والا فرق بینھما ولھا المہر وعلیھا العدة۔ (سنن للبیہقی ، باب اجل العنین ج سابع، ص٣٦٨،نمبر ١٤٢٨٩ مصنف عبد الرزاق ، باب اجل العنین، ج سادس ،ص٢٠٠ ،نمبر١٠٧٦٢دار قطنی ، کتاب النکاح، ج ثالث، ص ٢١١ ،نمبر ٣٧٦٩) اس٫ فّرق، سے پتہ چلا کہ وطی نہ کرنے پر تفریق کی جائے گی ، اور تفریق طلاق بائنہ سے ہوتی ہے اس لئے طلاق بائنہ ہو گی ۔ (٣) اس اثر میں طلاق بائنہ کی صراحت ہے ۔ عن عمر بن الخطاب أن امرأة أتتہ فأخبرتہ ان زوجھا لا یصل الیھا فأجلہ حولا فلما انقضی الحول و لم یصل الیھا خیرھا فاختارت نفسھا ففرق بینھما عمر و جعلھا تطلیقة بائنا قال محمد ناخذ و ھو قول ابی حنیفہ ۔( کتاب الاثار لامام محمد ، باب العنین ، ص ١٠٧، نمبر ٤٩٣)اس اثر میں ہے کہ تفریق طلاق بائنہ ہو گی ۔
ترجمہ: ٢ امام شافعی نے فر مایا کہ وہ فسخ نکاح ہے ۔
تشریح: عنین کی وجہ سے قاضی جو تفریق کرائے گا امام شافعی کے یہاں یہ فسخ نکاح ہو گا ، اور امام ابو حنیفہ کے یہاں طلاق بائنہ ہو گی ۔
ترجمہ: ٣ لیکن نکاح ہمارے نزدیک فسخ قبول نہیں کرتا ۔
تشریح: یہ امام شافعی کو جواب ہے کہ نکاح مکمل ہو نے کے بعد فسخ کو قبول نہیں کرتا ، اور جہاں جہاں فسخ ہے وہ نکاح مکمل ہو نے سے پہلے فسخ ہے ، مثلا خیار عتق میں باندی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تھا ، یا خیار بلوغ میں بچے کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تھا اس لئے وہ مکمل ہی نہیں تھا اس لئے وہ فسخ ہو گیا ، اور یہاں بیوی کی رضامندی سے نکاح ہوا ہے ، اس لئے یہ فسخ نہیں ہو گا ، البتہ شوہر ٹھیک سے نہیں رکھ رہا ہے اس لیے اس کی جانب سے قاضی نکاح توڑے گا جو طلاق بائنہ ہو گی ۔
لغت: فسخ نکاح ۔ اور طلاق میں فرق یہ ہے کہ ]١[ فسخ نکاح عورت کی جانب سے ہو تا ہے اور اس کی جانب سے قاضی فسخ کرتے ہیں ، کیونکہ عورت طلاق نہیں دے سکتی ، اور مرد کی جانب سے جو تفریق ہو تی ہے وہ عموما طلاق ہوتی ہے ، چا ہے قاضی تفریق کرے ۔ ]٢[ دوسرا فرق یہ ہے کہ اگر طلاق ہو تو اگلے نکاح کے بعد شوہر ایک طلاق کم کا مالک ہو گا ، مثلا بیوی کے ایمان نہ لانے کی وجہ سے طلاق ہوئی ، اور بعد میں عورت مسلمان ہوئی اور شوہر نے اس عورت سے نکاح کیا تو شوہر اب دو ہی طلاق کا مالک ہو گا اور اسی سے عورت مغلظہ ہو جائے گی ، کیونکہ شوہر نے ایک طلاق پہلے دے دیا ہے ، اور اگر اس کو فسخ نکاح شمار کریں تو دوسرے نکاح کے بعد بھی