Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 5

282 - 508
٣  ولا بدمن طلبہا لان التفریق حقہا     (٢٠٥١) وتلک الفرقة تطلیقة بائنة)
  ١   لان فعل القاضی اضیف الیٰ فعل الزوج فکانہ طلقہا بنفسہ 

تفریق کرا دی جائے ، اور وہ ایک سال کی مدت ہے ، جس میں چاروں موسم ہیں اور اچھی طرح علاج بھی کرا سکتا ہے ، اس کے باوجود وطی پر قادر نہیں ہوا اس لئے اب عورت کے دوبارہ مطالبے کے بعد تفریق کرا دی گئی ۔ کیونکہ امساک بالمعروف ، یعنی اچھی طرح سے بیوی کو رکھنا فوت ہو گیا تو شوہر کو چاہئے کہ تسریح بالاحسان ، یعنی اچھے انداز میں طلاق دیکر روانہ کر دے ، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تو اب قاضی اس کا نائب بنے گا اور شوہر کی جانب سے اس کا قائم مقام بن کر تفریق کرائے گا ۔ 
وجہ:(١) عورت کو وطی کرانے کا حق ہے اس کی دلیل ایک تو حضرت رفاعة والی حدیث  ۔فقال أتریدین أن ترجعی الی رفاعة ؟لا حتی تذوقی عسیلتہ و یذوق عسیلتک ۔ (مسلم شریف ، باب لا تحل المطلقة ثلاثا لمطلقھا الخ، ص ٤٦٣ ،نمبر ٣٥٢٦١٤٣٣ ) اس حدیث میں وطی نہ کرنے کی وجہ سے خلع کے ذریعہ حضور ۖ  تفریق کرائی ۔(٢) عورت کو جماع کرانے کا حق ہے اس کے لئے یہ اثر ہے ۔عن ابی سلمة بن عبد الرحمن ان امرأة  جائت عمر فقالت : زوجی رجل صدق یقوم اللیل و یصوم النھار ، و لا أصبر علی ذالک قال فدعاہ فقال لھا من کل أربعة أیام یوم ، و فی کل أربع لیال لیلة ۔ ( مصنف عبدالرزاق، باب حق المرأة علی زوجھا و فی کم تشتاق؟ ، ج سابع، ص ١١٧، نمبر ١٢٦٤٠) اس اثر میں ہے کہ ہر چار روز میں عورت کو وطی کرانے کا حق ہے ۔(٣) اس اثر میں بھی ہے ۔عن زید بن أسلم قال بلغنی ان عمر ابن الخطاب جائتہ امرأة فقالت ان زوجھا لا یصیبھا فأرسل الی زوجھا فجاء فسألہ فقال قد کبرت و ذھبت قوتی فقال عمر أتصیبھا فی کل شہر مرة ؟ قال فی اکثر من ذالک قال عمر فی کم ؟ قال أصیبھا فی کل طہر مرة قال عمر اذھبی فان فی ذالک ما یکفی المرأة ۔ ( مصنف عبدالرزاق، باب حق المرأة علی زوجھا و فی کم تشتاق؟ ، ج سابع، ص ١١٧، نمبر ١٢٦٤١) اس اثر میں ہے کہ بوڑھے آدمی سے ہر طہر میں ایک مرتبہ عورت کو وطی کرانے کا حق ہے ۔
 لغت: علة معترضة : پیش آنے والی علت ، عارضی مرض ۔آفة اصلیہ : اصلی مرض ، دائمی مرض ۔ معرفة : اتنی مدت جس میں پہچانا جا سکتا ہو کہ یہ مرض اصلی ہے ۔الفصول الاربعة : چاروں فصل ، چاروں موسم ۔
ترجمہ:٣  اور ضروری ہے عورت کا مطالبہ کرنا ، اس لئے کہ تفریق عورت کا حق ہے ۔   
 تشریح:  عنین کے لئے ایک سال کی مہلت کے بعد عورت کو دوبارہ تفریق کامطالبہ کرنا ہو گا تب قاضی تفریق کریں گے ، اور اگر دوبارہ مطالبہ نہیں کیا تو قاضی تفریق نہیں کریں گے ، کیونکہ یہ عورت کا حق ہے ، ہوسکتا ہے کہ وہ  بعد میں علیحدہ نہیں ہو نا چاہتی ہو ۔
ترجمہ:(٢٠٥١)اور فرقت طلاق بائنہ کے درجے میں ہوگی۔
ترجمہ:  ١  اس لئے کہ قاضی کا فعل شوہر کی طرف منسوب ہو گیا ، تو گویا کہ شوہر نے طلاق دی ۔    

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 بابُ تفویض الطلاق 8 1
3 فصل فی الاختیار 8 2
4 تفویض طلاق کا بیان 8 3
5 فصل فے الامر بالید 22 3
6 فصل فی المشیۃ 35 3
7 باب الایمان فی الطلاق 61 1
9 فصل فی الاستثناء 89 7
10 باب طلاق المریض 94 1
11 باب الرجعة 114 1
12 فصل فیما تحل بہ المطلقة 142 11
14 باب الایلاء 156 1
15 باب الخلع 177 1
16 باب الظہار 207 1
17 فصل فی الکفارة 220 16
18 با ب اللعان 251 1
19 باب العنین وغیرہ 280 1
20 اسباب فسخ نکاح 295 1
21 فسخ نکاح کے اسباب 295 20
22 باب العدة 324 1
23 فصل فی الحداد 357 22
24 سوگ منانے کا بیان 357 23
25 باب ثبوت النسب 379 1
26 ثبوت نسب کا بیان 379 25
27 باب حضانة الولد ومن احق بہ 408 1
28 حضانت کا بیان 408 27
29 فصل بچے کو باہر لیجانے کے بیان میں 424 27
30 باب النفقة 428 1
31 فصل فی نفقة الزوجة علی الغائب 455 30
32 فصل کس طرح کا گھر ہو 455 30
33 فصل فی نفقة المطلقة 467 30
34 فصل مطلقہ عورت کا نفقہ 467 30
35 فصل فی نفقة الاولاد الصغار 475 30
36 فصل چھوٹے بچوں کا نفقہ 475 30
37 فصل فی من یجب النفقة و من لا یجب 483 30
38 فصل والدین کا نفقہ 483 30
40 فصل فی نفقة المملوک 504 30
Flag Counter