٣ ولا بدمن طلبہا لان التفریق حقہا (٢٠٥١) وتلک الفرقة تطلیقة بائنة)
١ لان فعل القاضی اضیف الیٰ فعل الزوج فکانہ طلقہا بنفسہ
تفریق کرا دی جائے ، اور وہ ایک سال کی مدت ہے ، جس میں چاروں موسم ہیں اور اچھی طرح علاج بھی کرا سکتا ہے ، اس کے باوجود وطی پر قادر نہیں ہوا اس لئے اب عورت کے دوبارہ مطالبے کے بعد تفریق کرا دی گئی ۔ کیونکہ امساک بالمعروف ، یعنی اچھی طرح سے بیوی کو رکھنا فوت ہو گیا تو شوہر کو چاہئے کہ تسریح بالاحسان ، یعنی اچھے انداز میں طلاق دیکر روانہ کر دے ، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا تو اب قاضی اس کا نائب بنے گا اور شوہر کی جانب سے اس کا قائم مقام بن کر تفریق کرائے گا ۔
وجہ:(١) عورت کو وطی کرانے کا حق ہے اس کی دلیل ایک تو حضرت رفاعة والی حدیث ۔فقال أتریدین أن ترجعی الی رفاعة ؟لا حتی تذوقی عسیلتہ و یذوق عسیلتک ۔ (مسلم شریف ، باب لا تحل المطلقة ثلاثا لمطلقھا الخ، ص ٤٦٣ ،نمبر ٣٥٢٦١٤٣٣ ) اس حدیث میں وطی نہ کرنے کی وجہ سے خلع کے ذریعہ حضور ۖ تفریق کرائی ۔(٢) عورت کو جماع کرانے کا حق ہے اس کے لئے یہ اثر ہے ۔عن ابی سلمة بن عبد الرحمن ان امرأة جائت عمر فقالت : زوجی رجل صدق یقوم اللیل و یصوم النھار ، و لا أصبر علی ذالک قال فدعاہ فقال لھا من کل أربعة أیام یوم ، و فی کل أربع لیال لیلة ۔ ( مصنف عبدالرزاق، باب حق المرأة علی زوجھا و فی کم تشتاق؟ ، ج سابع، ص ١١٧، نمبر ١٢٦٤٠) اس اثر میں ہے کہ ہر چار روز میں عورت کو وطی کرانے کا حق ہے ۔(٣) اس اثر میں بھی ہے ۔عن زید بن أسلم قال بلغنی ان عمر ابن الخطاب جائتہ امرأة فقالت ان زوجھا لا یصیبھا فأرسل الی زوجھا فجاء فسألہ فقال قد کبرت و ذھبت قوتی فقال عمر أتصیبھا فی کل شہر مرة ؟ قال فی اکثر من ذالک قال عمر فی کم ؟ قال أصیبھا فی کل طہر مرة قال عمر اذھبی فان فی ذالک ما یکفی المرأة ۔ ( مصنف عبدالرزاق، باب حق المرأة علی زوجھا و فی کم تشتاق؟ ، ج سابع، ص ١١٧، نمبر ١٢٦٤١) اس اثر میں ہے کہ بوڑھے آدمی سے ہر طہر میں ایک مرتبہ عورت کو وطی کرانے کا حق ہے ۔
لغت: علة معترضة : پیش آنے والی علت ، عارضی مرض ۔آفة اصلیہ : اصلی مرض ، دائمی مرض ۔ معرفة : اتنی مدت جس میں پہچانا جا سکتا ہو کہ یہ مرض اصلی ہے ۔الفصول الاربعة : چاروں فصل ، چاروں موسم ۔
ترجمہ:٣ اور ضروری ہے عورت کا مطالبہ کرنا ، اس لئے کہ تفریق عورت کا حق ہے ۔
تشریح: عنین کے لئے ایک سال کی مہلت کے بعد عورت کو دوبارہ تفریق کامطالبہ کرنا ہو گا تب قاضی تفریق کریں گے ، اور اگر دوبارہ مطالبہ نہیں کیا تو قاضی تفریق نہیں کریں گے ، کیونکہ یہ عورت کا حق ہے ، ہوسکتا ہے کہ وہ بعد میں علیحدہ نہیں ہو نا چاہتی ہو ۔
ترجمہ:(٢٠٥١)اور فرقت طلاق بائنہ کے درجے میں ہوگی۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ قاضی کا فعل شوہر کی طرف منسوب ہو گیا ، تو گویا کہ شوہر نے طلاق دی ۔