(٢٠٤٩) وان اعترف بالاول ونفی الثانی یثبت نسبہما لما ذکرنا ولاعن ) ١ لانہ قاذف بنفی الثانی ولم یرجع عنہ والااقرار بالعفة سابق علی القذف فصار کما اذا قال انہاعفیفة ثم قال ہی زانیة وفی ذلک التلا عن کذا ہٰذا
لئے اوپر کے اثر اور حدیث کی وجہ سے دونوں کا نسب ثابت ہوگا۔اور حد اس لئے لگے گی کہ پہلے بچے کا انکار کرکے بیوی پر تہمت لگائی،اور بعد میں دوسرے بچے کا اقرار کرکے اپنی تکذیب کی ۔(٢) اور پہلے اثر گزر چکا ہے کہ انکار کے بعد اپنی تکذیب کرے تو حد لگے گی۔عن عمربن الخطاب انہ قضی فی رجل انکر ولد امرأتہ وھو فی بطنھا ثم اعترف بہ وھو فی بطنھا حتی اذا ولد انکرہ فامر بہ عمر بن الخطاب فجلد ثمانین جلدة لفریتہ علیھا ثم الحق بہ ولدھا۔ (سنن للبیہقی ، باب الرجل یقر بحبل امرأتہ او بولدھا مرة فلا یکون لہ نفیہ بعدہ ،ج سابع ،ص٦٧٦، نمبر ١٥٣٦٧ مصنف عبد الرزاق ، باب لا یجتمع المتلاعنان ابدا ،ج سابع ،ص٨٥، نمبر ١٢٤٩٢)اس اثر سے پتہ چلا کہ اقرار کے بعد انکار کرے تو حد بھی لگے گی اور بچے کا نسب بھی باپ سے ثابت ہوگا۔(٣) اس اثر میں بھی ہے ۔ان شریحا قال فی الرجل یقر بولدہ ثم ینکر یلاعن ،فبلغ ذلک عمر بن الخطاب فکتب الیہ ان اذا اقربہ طرفہ عین فلیس لہ ان ینکر۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب الرجل ینتفی من ولدہ ،ج سابع، ص ٧٥، نمبر١٢٤٢٣سنن للبیہقی ، باب الرجل یقر بحبل امرأتہ او بولدھا مرة فلا یکون لہ نفیہ بعدہ ،ج سابع، ص ٦٧٦، نمبر١٥٣٦٨) اس اثر میں ہے کہ ایک لمحہ کے لئے بھی بچے کا اقرار کیا تب بھی اس کا نسب باپ سے ثابت ہو گا ، چاہے بعد میں اس کا انکار کرے ۔
ترجمہ: (٢٠٤٩) اور اگر پہلے بچے کا اعتراف کیا اور دوسرے کی نفی کی تو دونوں بچوں کا نسب ثابت ہو گا ] اس دلیل کی وجہ سے جو ہم نے ذکر کیا [ اور لعان کرے ۔
تشریح: شوہر نے پہلے بچے کا اقرار کیا کہ یہ میرا ہے اور دوسرے بچے کا انکار کیا کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے تو دونوں بچوں کا نسب باپ سے ثابت ہوگا۔اور لعان بھی کرنا پڑے گا۔
وجہ: (١) ایک بچے کا اقرار کیا تو چونکہ دونوں ایک ہی منی سے پیدا ہوئے ہیں اس لئے ایک کے اقرار سے دونوں کا نسب ثابت ہوگا۔اور حد اس لئے نہیںلگے گی کہ دوسرے بچے کے انکار کرنے کے بعد پھر اپنی تکذیب نہیں کی ہے۔ البتہ چونکہ بعد والے بچے کے انکار کرنے کی وجہ سے عورت پر تہمت لگائی اس لئے لعان کرنا ہوگا (٢) اس کے لئے حدیث اوپر گزر گئی ہے۔کہ ایک مرتبہ بھی تھوڑی دیر کے لئے بچے کا اقرار کیا تو بچے کا نسب ثابت ہو گا ، اور یہ بھی گزرا کہ عورت پر تہمت لگائی تولعان کر نا ہو گا ۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ دوسرے بچے کی نفی کرنے سے تہمت لگانے والا ہے ، اور اس سے رجوع نہیں کیا ، اور پاکدامنی کا اقرار