Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 5

277 - 508
٣  ولوکان غائباً ولم یعلم بالولادة ثم قدم تعتبر المدة التی ذکرنا ہا علی الاصلین (٢٠٤٨)قال واذاولدت ولدین فی بطن واحد فنفی الاول واعترف بالثانی یثبت نسبہما)(   لانہما توامان خلقا من ماء واحد)حدالزوج )  ١   لانہ اکذب نفسہ بدعوی الثانی

تشریح :  امام ابو حنیفہ  کی دلیل یہ ہے کہ نسب نفی کرنے کے لئے کسی مدت کا تعین کرنا صحیح نہیں ہے کیونکہ ہر آدمی کاحال الگ الگ ہو تا ہے کوئی لمبی مدت میں غور کر سکتا ہے اور کوئی مختصر مدت میں غور کر سکتا ہے ، اس لئے نفاس کی مدت متعین کر نا صحیح ہے ، البتہ ایسے احوال جن میں یہ پتہ چلے کہ باپ بچے کی ولادت سے خوش ہے یا ناراض ہے ان حالتوں میں انکار کرنے سے نسب کی نفی ہو گی ، اور اس حالت کے گزر جانے کے بعد نفی کرنے سے نسب کی نفی نہیں ہو گی ،اور ولادت کی مبارکبادی کے وقت یا ولادت کے لئے سامان خریدتے وقت ، یہ موقع ہے کہ باپ کی رضامندی یا نا راضگی کا پتہ چلتا ہے اس لئے اس وقت بچے کی نفی کرنے سے نسب کی نفی ہو گی ، اور اس وقت کے گزرنے کے بعد نفی کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ پہلے نسب کا اقرار کر لیا اور بعد میں اس کی نفی کر رہا ہے ، اس لئے اقرار کے بعد انکار کرنے سے بچے کا نسب بحال رہے گا ۔
 ترجمہ:  ٣  اور اگر شوہر غائب ہو اور بچے کی پیدائش سے بے خبر ہو پھر آئے تو اس مدت کا اعتبار کیا جائے گا جو دو نوں قاعدوں پر ہم نے بیان کیا ۔ 
تشریح:  جس وقت بچہ پیدا ہوا اس وقت باپ غائب تھا اور بچے کی ولادت کے بارے میں علم نہیں تھا ، اب گھر آیاتو اس کی ولادت کے بارے میں معلوم ہوا تو امام ابو حنیفہ  نزدیک اتنی دیر تک جس میں مبارکبادی قبول کی جا سکتی ہو ، یا ولادت کا سامان خریدا جا سکتا ہواس میں بچے کا انکار کرے تو نسب کی نفی کی جائے گی ورنہ نہیں ، اور صاحبین  کے نزدیک والد کے گھر آنے کے بعد مدت نفاس تک بچے کا انکار کرے تو نسب کی نفی کی جائے گی ، ورنہ نہیں ۔ دونوں حضرات کے قاعدے کا حاصل یہی ہے ۔         
ترجمہ:  (٢٠٤٨)  اگر عورت نے دو بچے دیئے ایک ہی حمل سے ،پس پہلے کی نفی کی اور دوسرے کا اعتراف کیا تو دونوں کے نسب ثابت ہوںگے ]اس لئے کہ دونوں جوڑواں ہیں ، ایک ہی منی پیدا ہوئے ہیں [ اور شوہر کو حد لگے گی۔  
ترجمہ:   ١  اس لئے کہ دوسرے بچے کا دعوی کرکے  اپنے آپ کو جھٹلایا ۔ 
تشریح:  دو بچے ایک حمل سے ہوں۔اس کو جڑواں بچے] توامان [کہتے ہیں ۔اس میں ایک ہی منی سے دونوں بچے کی پیدائش ہوتی ہے۔ اب ایک ہی حمل سے دو بچے ہوئے ہیں ۔اب شوہر پہلے کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ میرا بچہ نہیں ہے اور دوسرے کے بارے میں کہتا ہے کہ یہ میرا بچہ ہے تو نسب تو دونوں کا باپ ہی سے ثابت ہوگا لیکن باپ کو حد بھی لگے گی۔   
وجہ:  (١) دونوں کا نسب تو اس لئے ثابت ہوگاکہ ایک کے بارے میں بھی ایک بار اقرار کرنا دونوں کے لئے اقرار کرنا ہے۔ اس 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 بابُ تفویض الطلاق 8 1
3 فصل فی الاختیار 8 2
4 تفویض طلاق کا بیان 8 3
5 فصل فے الامر بالید 22 3
6 فصل فی المشیۃ 35 3
7 باب الایمان فی الطلاق 61 1
9 فصل فی الاستثناء 89 7
10 باب طلاق المریض 94 1
11 باب الرجعة 114 1
12 فصل فیما تحل بہ المطلقة 142 11
14 باب الایلاء 156 1
15 باب الخلع 177 1
16 باب الظہار 207 1
17 فصل فی الکفارة 220 16
18 با ب اللعان 251 1
19 باب العنین وغیرہ 280 1
20 اسباب فسخ نکاح 295 1
21 فسخ نکاح کے اسباب 295 20
22 باب العدة 324 1
23 فصل فی الحداد 357 22
24 سوگ منانے کا بیان 357 23
25 باب ثبوت النسب 379 1
26 ثبوت نسب کا بیان 379 25
27 باب حضانة الولد ومن احق بہ 408 1
28 حضانت کا بیان 408 27
29 فصل بچے کو باہر لیجانے کے بیان میں 424 27
30 باب النفقة 428 1
31 فصل فی نفقة الزوجة علی الغائب 455 30
32 فصل کس طرح کا گھر ہو 455 30
33 فصل فی نفقة المطلقة 467 30
34 فصل مطلقہ عورت کا نفقہ 467 30
35 فصل فی نفقة الاولاد الصغار 475 30
36 فصل چھوٹے بچوں کا نفقہ 475 30
37 فصل فی من یجب النفقة و من لا یجب 483 30
38 فصل والدین کا نفقہ 483 30
40 فصل فی نفقة المملوک 504 30
Flag Counter