٤ ولوکان مانعا ینفسخ بمقتضی الاعتاق اذہو یحتملہ ٥ الاانہ یسلم لہ الاکساب والاولادلأن العتق فی المحل بجہة الکتابة ٦ اولان الفسخ ضروری لایظہر فی حق الولد والکسب
جاتا ہے اس لئے خود آقا کے ہاتھ میں ہے کہ بغیر غلام کی رضامندی کے بھی تجارت کی اجازت ختم کرنا چاہے تو کر سکتا ہے ۔
لغت: فیلزم من جانبہ : کا مطلب یہ ہے کہ رقم کے بدلے میں آزاد کر رہا ہے اس لئے آقا کی جانب سے لازم ہو گیا کہ اب آزاد کر نا ہی ہے ، اس بات کو توڑنا چاہے تو مکاتب کی رضامندی کے بغیر نہیں توڑ سکتا ۔ فک الحجر : حجر کا معنی ہے غلامیت کی پابندی ، اور فک الحجر کا معنی ہے اس پابندی کو اٹھا لینا ، یعنی آزاد کر نا ۔
ترجمہ: ٤ اور اگر مکاتب بنانا آزاد کرنے سے مانع ہو تو آزاد کرنے کے تقاضے سے کتابت فسخ ہو جائے گی ، اس لئے کہ کتابت فسخ ہو نے کا احتمال رکھتی ہے ۔
تشریح: مکاتب بنانا آزاد کرنے کے منافی نہیں ہے ، اور اگر ہو بھی تو چونکہ آقا آزاد کر رہا ہے اس لئے یوں مانا جائے گا کہ آزاد کر نے کے تقاضے کی وجہ سے اندر اندر کتابت فسخ ہو گئی اور غلام مکمل غلام ہو گیا پھر آقا نے اس کو کفارے میں آزاد کر دیا ، اور چونکہ مکاتب کی رضامندی سے کتابت فسخ ہو سکتی ہے اس لئے اقتضاء فسخ ہو کر غلام کفارے میں آزاد ہو جائے گا ۔
ترجمہ: ٥ مگر یہ کہ کمائی اور اولاد مکاتب کو سپرد کی جائے گی ، اس لئے کہ آزادگی اس محل میں مکاتب ہو نے کی وجہ سے ہے ۔
تشریح: یہ ایک اشکال کا جواب ہے ، اشکال یہ ہے کہ جب اندر اندر کتابت فسخ ہوئی اور اس کے بعد غلام آزاد ہوا تو مکاتب کے زمانے کی کمائی اور اولاد سب آقا کی ہونی چاہئے ، جیسے مأذون التجارت غلام کو آزاد کرے تو اس کی کمائی اور اولاد آقا کی ہو تی ہے اسی طرح یہاں بھی ہونی چاہئے ، تو اس کا جواب دیا جا رہا ہے کہ یہاںآزاد گی مکاتب ہونے کی وجہ سے ہے اس لئے اس زمانے میں جو کچھ کمایا وہ سب مکاتب کی ہو گی ۔
ترجمہ: ٦ اور اس لئے کہ فسخ مجبوری کے درجے میں ہے اس لئے بچے اور کمائی کے حق میں ظاہر نہیں ہو گا ۔
تشریح: یہ دوسرا جواب ہے کہ یہاں جو کتابت فسخ کیا ہے یہ مجبوری کے درجے میں اندر اندر فسخ ہوا ہے ، ] جسکو اقتضاء فسخ کرنا کہتے ہیں [، اس لئے جتنی مجبوری تھی اسی کا اعتبار کیا ، اور اولاد اور کمائی کے حق میں کتابت فسخ نہیں کی جائے گی اس لئے وہ دونوں مکاتب کو ملے گی ۔
اصول : مکاتب ہو نے کے زمانے میں جو کچھ کمایا مال کتابت کرنے کے بعد جب وہ آزاد ہو گا تو وہ سب مکاتب کو ہی ملے گا آقا کا نہیں ہو گا ، آقا کو اب صرف مال کتابت ملے گا ۔