Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 5

227 - 508
  ١  خلافا للشافعی لہ انہ استحق لحرےة بجہة الکتابة فاشبہ المدبر ٢  ولنا ان الرق قائم من کل وجہ علی مابینا ولقولہ علیہ السلام المکاتب عبد مابقی علیہ درہم ٣  والکتابة لاینافیہ فانہ فک الجحربمنزلة الاذن فی التجارة الاانہ بعوض فیلزم من جانبہ 

بھی آزادگی کا شائبہ نہیں آیا ہے اور کچھ رقم لیکر آزاد کرنا نہیں پایا گیا ہے ۔ 
ترجمہ:  ١  خلاف امام شافعی  کے انکی دلیل یہ ہے کہ کتابت کی جہت سے آزادگی کا مستحق ہو گیا ہے، اس لئے وہ مدبر کی طرح ہو گیا  ] اس لئے کفارے کے لئے جائز نہیں ہے[ 
تشریح: امام شافعی فر ماتے ہیں کہ کتابت کرنے کی وجہ سے اس میں آزادگی کا شائبہ آچکا ہے اس لئے اس کو کفارے کے لئے آزاد کر نا کافی نہیں ہے ۔ اس لئے وہ مدبر کی طرح ہو گیا ۔موسوعہ میں عبارت یہ ہے۔ و لا تجزی فیھا مکاتب ادی من نجومہ شیئا او لم یود لانہ ممنوع من بیعہ ، فاذا  عجزالمکاتب او اختار العجز فأعتق بعد عجزہ او اختیارہ العجز اجزاہ ۔ ( موسوعة امام شافعی ، باب من یجزی من الرقاب اذا عتق و من لا یجزی ، ج احدی عشرة ، ص ٤٨٩، نمبر ٢٠٤٣٠) اس عبارت میں ہے کہ مکاتب کچھ ادا کر چکا ہو یا نہ  ادا کر چکا ہو ہر حال میں کفارہ ظہار میں آزاد کر نا جائز نہیں ہے ، ہاں کتابت فسخ کر دے  پھر آزاد کرے تو جائز ہے ۔    
ترجمہ:  ٢  ہماری دلیل یہ ہے کہ غلامیت ہر طرح کی قائم ہے ] اس لئے اس کو آزاد کر نا جائز ہے ، اور حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے کہ  مکاتب غلام ہے جب تک اس پر ایک درہم بھی باقی ہے ۔ 
تشریح: مصنف دو دلیلیں بیان فر ما رہے ہیں ]١[ ایک یہ کہ یہ مکاتب ابھی بھی مکمل غلام ہے اس لئے اس کو کفارے میں آزاد کر نا جائز ہے ، ]٢[ اور دوسری دلیل یہ ہے کہ حضور   نے فر مایا کہ مکاتب مکمل غلام ہے جب تک اس پر مال کتابت کا ایک درہم بھی باقی ہے ، اس لئے اس کو آزاد کر نا جائز ہو گا ، یہ حدیث اوپر گزر گئی ہے۔  
ترجمہ:  ٣  کتابت آزادگی کے منافی نہیں ہے اس لئے کہ کتابت رکاوٹ کو دور کرنے کا نام ہے ، تجارت کی اجازت کے درجے میں ہے ، مگر یہ کہ مال کے بدلے میں آزادگی ہے اس لئے آقا کی جانب سے لازم ہے ۔
تشریح:  اس میں بتانا یہ چاہتے ہیں کہ مال کتابت کچھ ادا کر دیا ہو تب تو کفارہ کے منافی ہے لیکن صرف مکاتب بنا نا آزاد کرنے کے منافی نہیں ہے ، کیونکہ کتابت میں بھی غلامیت کو دور کرنا ہے ، تو جس طرح تجارت کی اجازت دینا غلامیت کے منافی نہیں ہے اسی طرح مکاتب بنانا بھی آزاد کرنے کے منافی نہیں ہے ، لیکن چونکہ یہ قیمت لیکر آزاد کر نا ہے اس لئے آقا کی جانب سے یہ لازم ہو گیا اس لئے اب کتابت توڑنا ہو تو مکاتب کی رضامندی کے بغیر نہیں توڑ سکتا ، اور تجارت کی اجازت میں غلام کی جانب سے کچھ لیا نہیں 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 بابُ تفویض الطلاق 8 1
3 فصل فی الاختیار 8 2
4 تفویض طلاق کا بیان 8 3
5 فصل فے الامر بالید 22 3
6 فصل فی المشیۃ 35 3
7 باب الایمان فی الطلاق 61 1
9 فصل فی الاستثناء 89 7
10 باب طلاق المریض 94 1
11 باب الرجعة 114 1
12 فصل فیما تحل بہ المطلقة 142 11
14 باب الایلاء 156 1
15 باب الخلع 177 1
16 باب الظہار 207 1
17 فصل فی الکفارة 220 16
18 با ب اللعان 251 1
19 باب العنین وغیرہ 280 1
20 اسباب فسخ نکاح 295 1
21 فسخ نکاح کے اسباب 295 20
22 باب العدة 324 1
23 فصل فی الحداد 357 22
24 سوگ منانے کا بیان 357 23
25 باب ثبوت النسب 379 1
26 ثبوت نسب کا بیان 379 25
27 باب حضانة الولد ومن احق بہ 408 1
28 حضانت کا بیان 408 27
29 فصل بچے کو باہر لیجانے کے بیان میں 424 27
30 باب النفقة 428 1
31 فصل فی نفقة الزوجة علی الغائب 455 30
32 فصل کس طرح کا گھر ہو 455 30
33 فصل فی نفقة المطلقة 467 30
34 فصل مطلقہ عورت کا نفقہ 467 30
35 فصل فی نفقة الاولاد الصغار 475 30
36 فصل چھوٹے بچوں کا نفقہ 475 30
37 فصل فی من یجب النفقة و من لا یجب 483 30
38 فصل والدین کا نفقہ 483 30
40 فصل فی نفقة المملوک 504 30
Flag Counter