١ خلافا للشافعی لہ انہ استحق لحرےة بجہة الکتابة فاشبہ المدبر ٢ ولنا ان الرق قائم من کل وجہ علی مابینا ولقولہ علیہ السلام المکاتب عبد مابقی علیہ درہم ٣ والکتابة لاینافیہ فانہ فک الجحربمنزلة الاذن فی التجارة الاانہ بعوض فیلزم من جانبہ
بھی آزادگی کا شائبہ نہیں آیا ہے اور کچھ رقم لیکر آزاد کرنا نہیں پایا گیا ہے ۔
ترجمہ: ١ خلاف امام شافعی کے انکی دلیل یہ ہے کہ کتابت کی جہت سے آزادگی کا مستحق ہو گیا ہے، اس لئے وہ مدبر کی طرح ہو گیا ] اس لئے کفارے کے لئے جائز نہیں ہے[
تشریح: امام شافعی فر ماتے ہیں کہ کتابت کرنے کی وجہ سے اس میں آزادگی کا شائبہ آچکا ہے اس لئے اس کو کفارے کے لئے آزاد کر نا کافی نہیں ہے ۔ اس لئے وہ مدبر کی طرح ہو گیا ۔موسوعہ میں عبارت یہ ہے۔ و لا تجزی فیھا مکاتب ادی من نجومہ شیئا او لم یود لانہ ممنوع من بیعہ ، فاذا عجزالمکاتب او اختار العجز فأعتق بعد عجزہ او اختیارہ العجز اجزاہ ۔ ( موسوعة امام شافعی ، باب من یجزی من الرقاب اذا عتق و من لا یجزی ، ج احدی عشرة ، ص ٤٨٩، نمبر ٢٠٤٣٠) اس عبارت میں ہے کہ مکاتب کچھ ادا کر چکا ہو یا نہ ادا کر چکا ہو ہر حال میں کفارہ ظہار میں آزاد کر نا جائز نہیں ہے ، ہاں کتابت فسخ کر دے پھر آزاد کرے تو جائز ہے ۔
ترجمہ: ٢ ہماری دلیل یہ ہے کہ غلامیت ہر طرح کی قائم ہے ] اس لئے اس کو آزاد کر نا جائز ہے ، اور حضور علیہ السلام کے قول کی وجہ سے کہ مکاتب غلام ہے جب تک اس پر ایک درہم بھی باقی ہے ۔
تشریح: مصنف دو دلیلیں بیان فر ما رہے ہیں ]١[ ایک یہ کہ یہ مکاتب ابھی بھی مکمل غلام ہے اس لئے اس کو کفارے میں آزاد کر نا جائز ہے ، ]٢[ اور دوسری دلیل یہ ہے کہ حضور نے فر مایا کہ مکاتب مکمل غلام ہے جب تک اس پر مال کتابت کا ایک درہم بھی باقی ہے ، اس لئے اس کو آزاد کر نا جائز ہو گا ، یہ حدیث اوپر گزر گئی ہے۔
ترجمہ: ٣ کتابت آزادگی کے منافی نہیں ہے اس لئے کہ کتابت رکاوٹ کو دور کرنے کا نام ہے ، تجارت کی اجازت کے درجے میں ہے ، مگر یہ کہ مال کے بدلے میں آزادگی ہے اس لئے آقا کی جانب سے لازم ہے ۔
تشریح: اس میں بتانا یہ چاہتے ہیں کہ مال کتابت کچھ ادا کر دیا ہو تب تو کفارہ کے منافی ہے لیکن صرف مکاتب بنا نا آزاد کرنے کے منافی نہیں ہے ، کیونکہ کتابت میں بھی غلامیت کو دور کرنا ہے ، تو جس طرح تجارت کی اجازت دینا غلامیت کے منافی نہیں ہے اسی طرح مکاتب بنانا بھی آزاد کرنے کے منافی نہیں ہے ، لیکن چونکہ یہ قیمت لیکر آزاد کر نا ہے اس لئے آقا کی جانب سے یہ لازم ہو گیا اس لئے اب کتابت توڑنا ہو تو مکاتب کی رضامندی کے بغیر نہیں توڑ سکتا ، اور تجارت کی اجازت میں غلام کی جانب سے کچھ لیا نہیں