(٢٠٠٦) وان اشتری اباہ اوابنہ ینوی بالشرا ء الکفارة جازعنہا) ١ وقال الشافعی لایجوز وعلیٰ ہٰذا الخلاف کفارةالیمین ،والمسألة تاتیک فی کتاب الایمان ان شاء اللٰہ (٢٠٠٧) فان اعتق نصف عبد مشترک وہوموسروضمن قیمة باقیہ لم یجز عندابی حنیفة ویجوز عندہما)
ترجمہ: (٢٠٠٦) اگر خریدا اپنے باپ کو ، یا اپنے بیٹے کو اور خریدنے سے نیت کرتا ہے کفارے کا تو کفارے سے جائز ہے ۔
تشریح : باپ ، بیٹے یا ذی رحم محرم کو خریدنے سے پہلے کفارے کی نیت تھی تو خریدتے ہی آزاد ہو جائیںگے لیکن کفارہ بھی ادا ہو جائے گا۔
وجہ : (١) یہاں آزاد ہونے کے دو اسباب ہیں۔ایک ذی رحم محرم ہونے کی وجہ سے آزاد ہونا اور دوسرا کفارے کی وجہ سے آزاد ہونا۔چونکہ خریدنے وا لے کی نیت کفارہ کی جانب سے آزاد کرنا ہے اس لئے اس کی رعایت ہوگی اور کفارہ ادا ہو جائے گا (٢) حدیث میں اس کا اشارہ ہے۔عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ۖ لا یجزی ولد والدا الا ان یجد مملوکا فیشتریہ فیعتقہ ۔ (مسلم شریف ، باب فضل عتق الوالد، ص ٦٥٧، نمبر ٣٧٩٩١٥١٠ ابو داؤد شریف ، باب فی بر الوالدین، ج ثانی ،ص ٣٥٢ ،نمبر ٥١٣٧) اس حدیث میں اگرچہ والد کو آزاد کرنے کی فضیلت ہے لیکن اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کفارے کی جانب سے ادا کرے تب بھی کفارہ ادا ہو جائے گا۔(٣)اور ذی رحم محرم کے مالک ہوتے ہی آزاد ہو جائے گا اس کی حدیث یہ ہے۔عن سمرة بن جندب فیما یحسب حماد قال قال رسول اللہ من ملک ذا رحم محرم فھو حر ۔ (ابو داؤد شریف ، باب فیمن ملک ذارحم محرم، ص ١٩٤ ،نمبر ٣٩٤٩) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ذی رحم محرم کامالک ہوا تو وہ اس پر آزاد ہو جائے گا۔
ترجمہ: ١ اور امام شافعی نے فر مایا کہ جائز نہیں ہے ، اور اسی اختلاف پر ہے قسم کا کفارہ ، اور مسئلہ کتاب الایمان میں آئے گا ۔
تشریح: امام شافعی فر ماتے ہیں کہ ذی رحم محرم جو مالک پر آزاد ہو جاتا ہو اس کو کفارہ میں آزاد کرنا جائز نہیں ہے ، موسوعة میں عبارت یہ ہے ۔وان وجبت علیہ رقبة فاشتری من یعتق علیہ عتق علیہ اذا ملکہ مو کان عتقہ و صمتہ سواء ساعة یملکہ یعتق علیہ و لا یجزیہ عتقہ ۔ ( موسوعة امام شافعی ، باب من یجزی من الرقاب اذا عتق و من لا یجزی ، ج احدی عشرة ، ص ٤٩٠، نمبر ٢٠٤٣٧) اس عبارت میں ہے کہ جو مالک بنتے ہی آزاد ہو جائے وہ غلام بھی کفارے میں کافی نہیں ہے ۔ اس کی باقی بحث کتاب الایمان میں آئے گی ۔ ان شاء اللہ ۔
ترجمہ: (٢٠٠٧) اگر مشترک غلام کے آدھے کو آزاد کیا کفارے کی طرف سے اس حال میں کہ وہ مالدار ہے ، اور ضامن ہو گیا باقی کی قیمت کا پھر اس کو آزاد کیا تو کافی نہیں ہے امام ابو حنیفہ کے نزدیک۔اورفرمایا صاحبین نے کہ کہا کافی ہوگا
تشریح: یہ مسئلہ دو قاعدوں پر ہے۔]١[ایک قاعدہ یہ ہے کہ غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو اور ایک آدمی اپنا حصہ آزاد