Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 5

229 - 508
(٢٠٠٦) وان اشتری اباہ اوابنہ ینوی بالشرا ء الکفارة جازعنہا)  ١  وقال الشافعی لایجوز وعلیٰ ہٰذا الخلاف کفارةالیمین ،والمسألة تاتیک فی کتاب الایمان ان شاء اللٰہ  (٢٠٠٧) فان اعتق نصف عبد مشترک وہوموسروضمن قیمة باقیہ لم یجز عندابی حنیفة ویجوز عندہما)

ترجمہ:  (٢٠٠٦)  اگر خریدا اپنے باپ کو ، یا اپنے بیٹے کو اور خریدنے سے نیت کرتا ہے کفارے کا تو کفارے سے جائز ہے ۔ 
تشریح :   باپ ، بیٹے یا ذی رحم محرم کو خریدنے سے پہلے کفارے کی نیت تھی تو خریدتے ہی آزاد ہو جائیںگے لیکن کفارہ بھی ادا ہو جائے گا۔  
وجہ :   (١) یہاں آزاد ہونے کے دو اسباب ہیں۔ایک ذی رحم محرم ہونے کی وجہ سے آزاد ہونا اور دوسرا کفارے کی وجہ سے آزاد ہونا۔چونکہ خریدنے وا لے کی نیت کفارہ کی جانب سے آزاد کرنا ہے اس لئے اس کی رعایت ہوگی اور کفارہ ادا ہو جائے گا (٢) حدیث میں اس کا اشارہ ہے۔عن ابی ھریرة قال قال رسول اللہ ۖ لا یجزی ولد والدا الا ان یجد مملوکا فیشتریہ فیعتقہ ۔ (مسلم شریف ، باب فضل عتق الوالد، ص ٦٥٧، نمبر ٣٧٩٩١٥١٠ ابو داؤد شریف ، باب فی بر الوالدین، ج ثانی ،ص ٣٥٢ ،نمبر ٥١٣٧) اس حدیث میں اگرچہ والد کو آزاد کرنے کی فضیلت ہے لیکن اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کفارے کی جانب سے ادا کرے تب بھی کفارہ ادا ہو جائے گا۔(٣)اور ذی رحم محرم کے مالک ہوتے ہی آزاد ہو جائے گا اس کی حدیث یہ ہے۔عن سمرة بن جندب فیما یحسب حماد قال قال رسول اللہ من ملک ذا رحم محرم فھو حر ۔ (ابو داؤد شریف ، باب فیمن ملک ذارحم محرم، ص ١٩٤ ،نمبر ٣٩٤٩) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ذی رحم محرم کامالک ہوا تو وہ اس پر آزاد ہو جائے گا۔
ترجمہ:   ١  اور امام شافعی  نے فر مایا کہ جائز نہیں ہے ، اور اسی اختلاف پر ہے قسم کا کفارہ ، اور مسئلہ کتاب الایمان میں آئے گا ۔
تشریح: امام شافعی  فر ماتے ہیں کہ ذی رحم محرم جو مالک پر آزاد ہو جاتا ہو اس کو کفارہ میں آزاد کرنا جائز نہیں ہے ، موسوعة میں عبارت یہ ہے ۔وان وجبت علیہ رقبة فاشتری من یعتق علیہ عتق علیہ اذا ملکہ مو کان عتقہ و صمتہ سواء ساعة  یملکہ یعتق علیہ و لا یجزیہ عتقہ ۔ ( موسوعة امام شافعی ، باب من یجزی من الرقاب اذا عتق و من لا یجزی ، ج احدی عشرة ، ص ٤٩٠، نمبر ٢٠٤٣٧) اس عبارت میں ہے کہ جو مالک بنتے ہی آزاد ہو جائے وہ غلام بھی کفارے میں کافی نہیں ہے ۔ اس کی باقی بحث کتاب الایمان میں آئے گی ۔ ان شاء اللہ ۔ 
ترجمہ:  (٢٠٠٧)  اگر مشترک غلام کے آدھے کو آزاد کیا کفارے کی طرف سے اس حال میں کہ وہ مالدار ہے ، اور ضامن ہو گیا باقی کی قیمت کا پھر اس کو آزاد کیا تو کافی نہیں ہے امام ابو حنیفہ کے نزدیک۔اورفرمایا صاحبین نے کہ کہا کافی ہوگا
تشریح:  یہ مسئلہ دو قاعدوں پر ہے۔]١[ایک قاعدہ یہ ہے کہ غلام دو آدمیوں کے درمیان مشترک ہو اور ایک آدمی اپنا حصہ آزاد 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 بابُ تفویض الطلاق 8 1
3 فصل فی الاختیار 8 2
4 تفویض طلاق کا بیان 8 3
5 فصل فے الامر بالید 22 3
6 فصل فی المشیۃ 35 3
7 باب الایمان فی الطلاق 61 1
9 فصل فی الاستثناء 89 7
10 باب طلاق المریض 94 1
11 باب الرجعة 114 1
12 فصل فیما تحل بہ المطلقة 142 11
14 باب الایلاء 156 1
15 باب الخلع 177 1
16 باب الظہار 207 1
17 فصل فی الکفارة 220 16
18 با ب اللعان 251 1
19 باب العنین وغیرہ 280 1
20 اسباب فسخ نکاح 295 1
21 فسخ نکاح کے اسباب 295 20
22 باب العدة 324 1
23 فصل فی الحداد 357 22
24 سوگ منانے کا بیان 357 23
25 باب ثبوت النسب 379 1
26 ثبوت نسب کا بیان 379 25
27 باب حضانة الولد ومن احق بہ 408 1
28 حضانت کا بیان 408 27
29 فصل بچے کو باہر لیجانے کے بیان میں 424 27
30 باب النفقة 428 1
31 فصل فی نفقة الزوجة علی الغائب 455 30
32 فصل کس طرح کا گھر ہو 455 30
33 فصل فی نفقة المطلقة 467 30
34 فصل مطلقہ عورت کا نفقہ 467 30
35 فصل فی نفقة الاولاد الصغار 475 30
36 فصل چھوٹے بچوں کا نفقہ 475 30
37 فصل فی من یجب النفقة و من لا یجب 483 30
38 فصل والدین کا نفقہ 483 30
40 فصل فی نفقة المملوک 504 30
Flag Counter