١ لان اعتاقہ یکون ببدل ٢ وعن ابی حنیفة یجزیہ لقیا م الرق من کل وجہ ولہذا تقبل الکتابةالانفساخ بخلاف امومیة الولدوالتدبیر لانہما لایحتملان الانفساخ (٢٠٠٥) فان اعتق مکاتبالم یود شیئاًجاز)
ترجمہ: ١ کیونکہ اس کا آزاد کر نا بدل کے ساتھ ہو جائے گا ۔
تشریح: مکاتب نے اپنے مال کتابت کا کچھ حصہ ادا کر دیا ہے تو اتنا حصہ گویا کہ آزاد ہو گیا تو یہ غلام ناقص ہو گیا اس لئے اس کا آزاد کرنا کفارے کے لئے کافی نہیں ہے ، صاحب ہدایہ نے یہ دلیل دی ہے کہ جتنا درہم ادا کیا اتنی آزادگی رقم کے بدلے میں ہوئی اس لئے خالص قربت نہیں ہوئی اس لئے کفارے کے لئے کافی نہیں ہے ۔
وجہ: (١) حدیث میں اس کا اشارہ ہے۔سمعت ام سلمة تقول قال لنا رسول اللہ اذا کان لاحد اکن مکاتب فکان عندہ ما یودی فلتحتجب منہ ۔ (ابو داؤد شریف، باب فی المکاتب یودی بعض کتابتہ فیعجز او یموت ،ص ١٩١ ،نمبر ٣٩٢٨) اس حدیث کے اشارے سے پتہ چلا کہ کچھ نہ کچھ آزادگی آچکی ہے اس لئے وہ کفارے میں کافی نہیں۔
ترجمہ: ٢ امام ابو حنیفہ سے ایک روایت یہ ہے کہ کفارہ کے لئے کافی ہو جائے گا ہر اعتبار سے غلامیت قائم ہو نے کی وجہ سے ، اسی لئے کتابت انفساخ کو قبول کرتا ہے ، بخلاف ام ولد ہونے اور مدبر ہونے کے اس لئے کہ وہ دونوں فسخ کو قبول نہیں کرتا ۔
تشریح: امام ابو حنیفہ کی ایک روایت یہ ہے کہ مکاتب نے بعض حصہ ادا کیا ہو تب بھی کفارہ میں آزاد کر نا جائز ہے ، کیونکہ مکاتب پر ایک درہم بھی باقی ہو تو وہ پورا غلام ہے ، یہی وجہ ہے کہ اگر مال کتابت فسخ کر کے واپس غلام بننا چاہے تو بن سکتا ہے ، اس کے بر خلاف ام ولد اور مدبر اب پورا غلام نہیں ہے کیونکہ اس میں آزادگی کا شائبہ آچکا ہے ، چنانچہ ام ولد ہونے کو فسخ کرنا چاہے تو نہیں کر سکتا ، اسی طرح مدبر ہونے کو فسخ کر نا چاہے تو نہیں کر سکتا ، اس لئے وہ پورا غلام نہیں ہے اس لئے انکو کفارے میں آزاد کر نا جائز نہیں ہے ۔
وجہ : (١)اس حدیث میں اس کا ثبوت ہے جسکو صاحب ہدایہ نے پیش کیا ہے ۔عن عمر بن شعیب عن ابیہ عن جدہ عن النبی ۖ قال المکاتب عبد مابقی علیہ من کتابتہ درھم۔ (ابو داؤد شریف ، باب فی المکاتب یودی بعض کتابتہ فیعجز او یموت ،ص ١٩١ ،نمبر ٣٩٢٦) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک درہم بھی باقی ہوتو مکاتب ابھی مکمل غلام ہے اس لئے اس کو کفارے میں آزاد کرنا جائز ہے۔
ترجمہ: (٢٠٠٥) پس اگر ایسے مکاتب کو آزاد کیا جس نے کچھ ادا نہیں کیا ہے تو جائز ہے ۔
تشریح: جس مکاتب نے ابھی تک کچھ ادا نہیں کیا ہے اگر اس کو آزاد کیا تو جائز ہے اس لئے کہ کچھ ادا نہیں کیا ہے تو اس میں کچھ