(٢٠٠١) ولایجوز المجنون الذی لایعقل ) ١ لان الانتفاع بالجوارح لایکون الابالعقل فکان فائت المنافع (٢٠٠٢) والذی یجن ویفیق یجزیہ) ١ لان الاختلال غیرمانع (٢٠٠٣)ولایجزی عتق المدبر وام الولد) ١ لاستحقاقہما الحریة بجہة فکان الرق فیہما ناقصا (٢٠٠٤)وکذا المکاتب الذی ادی بعض المال)
وجہ : (١) دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے کٹے ہوئے ہوں تو وہ غلام انتہائی عیب دار ہو گیا۔اب وہ کوئی کام نہیں کر سکتا۔کیونکہ کام انگوٹھے ہی سے کرتا ہے۔ اب گویا کہ دونوں ہاٹھ کٹے ہوئے ہوں ایسا ہو گیا، اس لئے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے کٹے ہوئے ہوں تو وہ غلام کفارہ میں نہیں چلے گا۔
ترجمہ: (٢٠٠١) اور نہیں جائز ہے وہ مجنون جس کو بالکل سمجھ نہ ہو۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ اعضاء سے فائدہ اٹھا نا نہیں ہو تا ہے مگر عقل سے تو گویاکہ عقل فوت ہونے سے سبب منفعت فوت ہو گئی ] اس لئے مجنون کو آزاد کرنا کافی نہیں [
وجہ: جس کو بالکل سمجھ نہ ہو اس کا ہاتھ پاؤں کام نہیں کرتا ہے۔اس لئے وہ بہت عیب دار ہوگیا اور جنس منفعت ختم ہوگئی اس لئے مجنون بھی کافی نہیں ہے۔
ترجمہ: (٢٠٠٢) اور جو مجنون ہوتا ہے اور افاقہ ہوتا ہے وہ کافی ہے ۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ اختلال مانع نہیں ہے ۔
تشریح: جو غلام مجنون ہوتا ہو اورافاقہ بھی ہو جاتا ہو اس کی عقل بدستور موجود ہے ، صرف اس میں خلل ہے اس لئے اس کا آزاد کرنا جائز ہے ۔
ترجمہ: (٢٠٠٣) اور نہیں جائز ہے مدبر اور ام ولد۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ یہ دونوں کسی نہ کسی درجے میں آزادگی کے مستحق ہیں ، اس لئے ان دونوں میں غلامیت ناقص ہے ۔
تشریح :کفارے میں مدبر غلام ، ام ولد باندی کو آزاد کرنا چاہے توکافی نہیں ہے۔جس غلام کو آقا نے کہا ہو کہ میرے مرنے کے بعد تم آزاد ہو تو اس کو مدبر غلام کہتے ہیں ، اور جس باندی سے آقا نے بچہ پیدا کیا ہو اس کو ام ولد کہتے ہیں ، یہ باندی آقا کے مرنے کے بعد تہائی مال میں سے آزاد ہو جائے گی ، تو چونکہ ان دونوں میں آزاد گی کا شائبہ آچکا ہے اس لئے یہ پورے غلام، یا پوری باندی باقی نہیں رہے اس لئے اس کو آزاد کرنا کافی نہیں ہے ۔
ترجمہ: (٢٠٠٤) ایسے ہی مکاتب جس نے بعض مال ادا کر دیا ہو ۔