Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 5

224 - 508
٣  و یجوز الاصم والقیاس ان لا یجوز وہو روایةالنوادر لان  الفائت جنس المنفعة الا انا استحسنا الجوازلان اصل المنفعة باق فانہ اذا صیح علیہ لیسمع حتی لوکان بحال لایسمع اصلابان ولداصم وہوالاخرص لا یجزیہ (٢٠٠٠)ولایجوز مقطوع ابہامی الیدین) ١  لان قوة البطش بہما فبفواتہمایفوت جنس المنفعة 

کے فوت ہو نے کی وجہ سے ، اس لئے کہ اب چلنا متعذر ہے ۔ 
تشریح : یہاں کی صورتیں ہیں ]١[  اگر صرف ایک ہاتھ کٹا ہوا ہے ]٢[  یا صرف ایک پاؤں کٹا ہوا ہو تو کفارہ میں ادا کر نا جائز ہے کیونکہ وہ دوسرے ہاتھ سے پکڑ سکتا ہے ، یا دوسرے پاؤں سے چل سکتا ہے۔]٣[ ایک ہاتھ اور ایک پاؤں بھی کٹا ہوا ہے ، لیکن اس کی صورت یہ ہے کہ خلاف جانب سے  کٹا ہوا ہے مثلا دائیں ہاتھ کٹا ہوا ہے ، اور بائیں پاؤں کٹا ہوا ہے تو دوسرے ہاتھ کے سہارے چل سکتا ہے اس لئے اس کو آزاد کر نا جائز ہے ]٤[ یا  بائیں ہاتھ کٹا ہوا ہے ، اور دائیں پاؤں کٹا ہوا ہے تو دوسرے ہاتھ کے سہارے چل سکتا ہے اس لئے اس کو آزاد کر نا جائز ہے۔]٥[ اور اگر ایک ہی جانب سے ہاتھ اور اسی جانب سے پاؤں کٹا ہوا ہے ، مثلا دائیں ہاتھ کٹا ہوا ہے اور دائیں پاؤں کٹا ہوا ہے ]٦[  یامثلا بائیں ہاتھ کٹا ہوا ہے اوربائیں پاؤں کٹا ہوا ہے تو اس کو آزاد کر نا کفارے کے لئے جائز نہیں ہے ، کیونکہ ایک ہی جانب سے کٹے ہوئے ہونے کی وجہ سے چل نہیں سکتا ہے ، اس لئے چلنے کی منفعت ختم ہو ئی، اس لئے ایسے غلام کو کفارے میں آزاد کر نا درست نہیں ہے ۔  
ترجمہ:  ٣   اور جائز ہے بہرا غلام کو آزاد کرنا۔ اور قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ جائز نہ ہو چنانچہ نوادر کی ایک روایت یہی ہے اس لئے کہ منفعت کی جنس فوت ہے مگر یہ کہ ہم نے استحسانا جائز قرار دیا ، اس لئے کہ اصل منفعت باقی ہے اس لئے اگر چیخا جائے تو تو سن لے گا ، یہاں تک کہ اس حال میں ہو کہ ب بالکل نہیں سنتا ہو اس طرح کہ بہرا پیدا ہوا اور وہ گونگا بھی ہو تو کافی نہیں ہے ۔  
تشریح :  بہرے کی دو قسمیں ہیں ]١[ ایک پیدائشی بہرا جو بالکل نہیں سنتا ہے اور وہ نہ سننے کی وجہ سے گونگا بھی ہے تو اس کو آزاد کر نا کفارے کے لئے کافی نہیں ہے اس لئے کہ سننے کی منفعت بالکل ختم ہے ، لیکن اگر پیدائشی بہرا نہیں ہے بلکہ بہت زور سے چیخنے سے سنن لیتا ہے تو اس کو آزاد کرنا کافی ہے اس لئے سننے کی منفعت کچھ نہ کچھ باقی ہے ۔   
لغت:  الاصم  :  بہرا۔اخرس: گونگا ۔صیح : چیخا جائے ۔
ترجمہ:(٢٠٠٠) اور نہیں جائز ہے جس کے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے کٹے ہوئے ہوں۔  
ترجمہ:   ١  اس لئے کہ پکڑنے کی قوت دونوں انگوٹھے سے ہی ہے ، اور دونوں کے فوت ہونے سے منفعت کی جنس فوت ہو جائے گی ۔ 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 بابُ تفویض الطلاق 8 1
3 فصل فی الاختیار 8 2
4 تفویض طلاق کا بیان 8 3
5 فصل فے الامر بالید 22 3
6 فصل فی المشیۃ 35 3
7 باب الایمان فی الطلاق 61 1
9 فصل فی الاستثناء 89 7
10 باب طلاق المریض 94 1
11 باب الرجعة 114 1
12 فصل فیما تحل بہ المطلقة 142 11
14 باب الایلاء 156 1
15 باب الخلع 177 1
16 باب الظہار 207 1
17 فصل فی الکفارة 220 16
18 با ب اللعان 251 1
19 باب العنین وغیرہ 280 1
20 اسباب فسخ نکاح 295 1
21 فسخ نکاح کے اسباب 295 20
22 باب العدة 324 1
23 فصل فی الحداد 357 22
24 سوگ منانے کا بیان 357 23
25 باب ثبوت النسب 379 1
26 ثبوت نسب کا بیان 379 25
27 باب حضانة الولد ومن احق بہ 408 1
28 حضانت کا بیان 408 27
29 فصل بچے کو باہر لیجانے کے بیان میں 424 27
30 باب النفقة 428 1
31 فصل فی نفقة الزوجة علی الغائب 455 30
32 فصل کس طرح کا گھر ہو 455 30
33 فصل فی نفقة المطلقة 467 30
34 فصل مطلقہ عورت کا نفقہ 467 30
35 فصل فی نفقة الاولاد الصغار 475 30
36 فصل چھوٹے بچوں کا نفقہ 475 30
37 فصل فی من یجب النفقة و من لا یجب 483 30
38 فصل والدین کا نفقہ 483 30
40 فصل فی نفقة المملوک 504 30
Flag Counter