٣ و یجوز الاصم والقیاس ان لا یجوز وہو روایةالنوادر لان الفائت جنس المنفعة الا انا استحسنا الجوازلان اصل المنفعة باق فانہ اذا صیح علیہ لیسمع حتی لوکان بحال لایسمع اصلابان ولداصم وہوالاخرص لا یجزیہ (٢٠٠٠)ولایجوز مقطوع ابہامی الیدین) ١ لان قوة البطش بہما فبفواتہمایفوت جنس المنفعة
کے فوت ہو نے کی وجہ سے ، اس لئے کہ اب چلنا متعذر ہے ۔
تشریح : یہاں کی صورتیں ہیں ]١[ اگر صرف ایک ہاتھ کٹا ہوا ہے ]٢[ یا صرف ایک پاؤں کٹا ہوا ہو تو کفارہ میں ادا کر نا جائز ہے کیونکہ وہ دوسرے ہاتھ سے پکڑ سکتا ہے ، یا دوسرے پاؤں سے چل سکتا ہے۔]٣[ ایک ہاتھ اور ایک پاؤں بھی کٹا ہوا ہے ، لیکن اس کی صورت یہ ہے کہ خلاف جانب سے کٹا ہوا ہے مثلا دائیں ہاتھ کٹا ہوا ہے ، اور بائیں پاؤں کٹا ہوا ہے تو دوسرے ہاتھ کے سہارے چل سکتا ہے اس لئے اس کو آزاد کر نا جائز ہے ]٤[ یا بائیں ہاتھ کٹا ہوا ہے ، اور دائیں پاؤں کٹا ہوا ہے تو دوسرے ہاتھ کے سہارے چل سکتا ہے اس لئے اس کو آزاد کر نا جائز ہے۔]٥[ اور اگر ایک ہی جانب سے ہاتھ اور اسی جانب سے پاؤں کٹا ہوا ہے ، مثلا دائیں ہاتھ کٹا ہوا ہے اور دائیں پاؤں کٹا ہوا ہے ]٦[ یامثلا بائیں ہاتھ کٹا ہوا ہے اوربائیں پاؤں کٹا ہوا ہے تو اس کو آزاد کر نا کفارے کے لئے جائز نہیں ہے ، کیونکہ ایک ہی جانب سے کٹے ہوئے ہونے کی وجہ سے چل نہیں سکتا ہے ، اس لئے چلنے کی منفعت ختم ہو ئی، اس لئے ایسے غلام کو کفارے میں آزاد کر نا درست نہیں ہے ۔
ترجمہ: ٣ اور جائز ہے بہرا غلام کو آزاد کرنا۔ اور قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ جائز نہ ہو چنانچہ نوادر کی ایک روایت یہی ہے اس لئے کہ منفعت کی جنس فوت ہے مگر یہ کہ ہم نے استحسانا جائز قرار دیا ، اس لئے کہ اصل منفعت باقی ہے اس لئے اگر چیخا جائے تو تو سن لے گا ، یہاں تک کہ اس حال میں ہو کہ ب بالکل نہیں سنتا ہو اس طرح کہ بہرا پیدا ہوا اور وہ گونگا بھی ہو تو کافی نہیں ہے ۔
تشریح : بہرے کی دو قسمیں ہیں ]١[ ایک پیدائشی بہرا جو بالکل نہیں سنتا ہے اور وہ نہ سننے کی وجہ سے گونگا بھی ہے تو اس کو آزاد کر نا کفارے کے لئے کافی نہیں ہے اس لئے کہ سننے کی منفعت بالکل ختم ہے ، لیکن اگر پیدائشی بہرا نہیں ہے بلکہ بہت زور سے چیخنے سے سنن لیتا ہے تو اس کو آزاد کرنا کافی ہے اس لئے سننے کی منفعت کچھ نہ کچھ باقی ہے ۔
لغت: الاصم : بہرا۔اخرس: گونگا ۔صیح : چیخا جائے ۔
ترجمہ:(٢٠٠٠) اور نہیں جائز ہے جس کے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے کٹے ہوئے ہوں۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ پکڑنے کی قوت دونوں انگوٹھے سے ہی ہے ، اور دونوں کے فوت ہونے سے منفعت کی جنس فوت ہو جائے گی ۔