Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 5

223 - 508
١  لان الفائت جنس المنفعة وہی البصر اوالبطش اوالمشی وہوالمانع ٢  اما اذا اختلت المنفعة فہو غیرمانع حتی یجوز العوراء ومقطوعة احدی الیدین واحدی الرجلین من خلاف لانہ مافات جنس المنفعة بل اختلت بخلاف مااذا کانتا مقطوعتین من جانب واحد حیث لایجوز لفوات جنس  منفعة المشی اذہو علیہ متعذر 

ہوگا۔ہاں ایک آنکھ موجود ہو یا ایک ہاتھ کٹا ہوا ہو ، یا ایک پاؤں کٹا ہوا ہو تو آزاد کر نا جائز ہے ۔    
وجہ:  (١)ان اعضاء کے معذور ہونے سے غلام کی منفعت ختم ہوئی اور مکمل غلام باقی نہیں رہا۔ اور آیت میں تحریر رقبة سے مکمل غلام مراد ہے۔اس لئے انتہائی معذور غلام کو آزاد کرنا کافی نہیں ہے (٢)جس طرح قربانی میں انتہائی معذور جانور ذبح کرنا کافی نہیں اسی طرح کفارے میں انتہائی معذور غلام آزاد کرنا کافی نہیں ہے۔البتہ تھوڑا بہت عیب ہو تو چل جائے گا۔جس طرح قربانی کے جانور میں تھوڑا بہت عیب ہوتا ہے تو چل جاتا ہے۔  حدیث یہ ہے ۔ سألت البراء بن عازب مالایجوز فی الاضاحی فقال قام فینا رسول اللہ ... فقال اربع لاتجوز فی الاضاحی العوراء بین عورھا والمریضة بین مرضھا والعرجاء بین ظلعھا والکسیر التی لا تنقی ۔ (ابو داؤد شریف ، باب ما یکرہ من الضحایا ،ص ٣١ ،نمبر ٢٨٠٢ ترمذی شریف ، باب مالایجوز من الاضاحی ،ص ٢٧٥ ،نمبر ١٤٩٧) اس حدیث میں ہے کہ عیب دار جانور عبادت میں کافی نہیں۔اسی پر غلام کو قیاس کیا جائے گا۔
اصول:  ناقص غلام کفارے میں کافی نہیں۔   
لغت:  العمیاء  :  عمی کی جمع ہے ،اندھا۔
ترجمہ:   ١  اس لئے کہ منفعت کی جنس فوت کرنے والا ہے اور وہ نگاہ ہے ، اور پکڑنا ہے ، اور چلنا ہے اور وہی کفارہ سے مانع ہے۔ 
تشریح: قاعدہ یہ ہے کہ غلامیت کا منفعت مکمل ختم ہو جائے تو اس غلام کو آزاد کرنے سے رقبہ کا مفہوم پورے طور پر ادا نہیں ہوا ، اس لئے نا بینا ہونے کی وجہ سے دیکھنے کی منفعت مکمل ختم ہو تا دونوں ہاتھ کٹے ہونے کی وجہ سے پکڑنے کی منفعت مکمل طور پر ختم ہو جائے ، یا دونوں پاؤں کٹے ہونے کی وجہ سے چلنے کی منفعت مکمل طور پر ختم ہو جائے تو اس  کے آزاد کرنے سے کفارہ ادا نہیں ہو گا ، کیونکہ منفعت کا ختم ہو نا ادا کے لئے مانع ہے ۔ 
 ترجمہ:  ٢  بہر حال اگر منفعت میں خلل انداز ہو جائے تو وہ کفارہ میں مانع نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ کانا جائز ہے ، اور دو نوں ہاتھوں میں سے ایک کٹا ہوا جائز ہے ، اور دونوں پاؤں میں سے ایک خلاف سے کٹا ہوا جائز ہے اس لئے کہ منفعت کی جنس فوت نہیں ہوئی بلکہ خلل انداز ہو گئی ، بخلاف جبکہ ایک ہی جانب سے دونوں کٹے ہوئے ہوں اس طرح کہ جائز نہیں ہے چلنے کی منفعت کی جنس 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 بابُ تفویض الطلاق 8 1
3 فصل فی الاختیار 8 2
4 تفویض طلاق کا بیان 8 3
5 فصل فے الامر بالید 22 3
6 فصل فی المشیۃ 35 3
7 باب الایمان فی الطلاق 61 1
9 فصل فی الاستثناء 89 7
10 باب طلاق المریض 94 1
11 باب الرجعة 114 1
12 فصل فیما تحل بہ المطلقة 142 11
14 باب الایلاء 156 1
15 باب الخلع 177 1
16 باب الظہار 207 1
17 فصل فی الکفارة 220 16
18 با ب اللعان 251 1
19 باب العنین وغیرہ 280 1
20 اسباب فسخ نکاح 295 1
21 فسخ نکاح کے اسباب 295 20
22 باب العدة 324 1
23 فصل فی الحداد 357 22
24 سوگ منانے کا بیان 357 23
25 باب ثبوت النسب 379 1
26 ثبوت نسب کا بیان 379 25
27 باب حضانة الولد ومن احق بہ 408 1
28 حضانت کا بیان 408 27
29 فصل بچے کو باہر لیجانے کے بیان میں 424 27
30 باب النفقة 428 1
31 فصل فی نفقة الزوجة علی الغائب 455 30
32 فصل کس طرح کا گھر ہو 455 30
33 فصل فی نفقة المطلقة 467 30
34 فصل مطلقہ عورت کا نفقہ 467 30
35 فصل فی نفقة الاولاد الصغار 475 30
36 فصل چھوٹے بچوں کا نفقہ 475 30
37 فصل فی من یجب النفقة و من لا یجب 483 30
38 فصل والدین کا نفقہ 483 30
40 فصل فی نفقة المملوک 504 30
Flag Counter