Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 5

179 - 508
(١٩٥٨) وان کان النشوز من قبلہ یکرہ لہ ان یاخذ منہا عوضا )   ١  لقولہ تعالی وان اردتم استبدال زوج مکان زوج الی ان قال فلاتاخذوا منہ شیئا ٢  ولانہ اوحشہا بالاستبدال فلایزید فی وحشتہا باخذ المال (١٩٥٩) وان کان النشوز منہا کرہنا لہ ان یاخذ منہا اکثر مما اعطاہا)

لایری الخلع طلاقا ،ج رابع، ص ١٢٣، نمبر ١٨٤٤٥) اس اثرسے معلوم ہوا کہ خلع طلاق نہیں ہے۔
ترجمہ:  (١٩٥٨)  اگر نا فرمانی مرد کی جانب سے ہو تو اس کے لئے مکروہ ہے کہ عورت سے عوض لے۔
ترجمہ:  ١   و ان أردتم استبدال زوج مکان زوج و آتیتم احداھن قنطارا فلا تأخذوا منہ شیئا أتأخذونہ بھتانا و اثما مبینا ۔( آیت ٢٠، سورة النساء ٤) اس آیت کی وجہ سے ۔    
تشریح:   شرارت مرد کی ہے جس کی وجہ سے عورت خلع کرنے پر مجبور ہے تو مرد کو عوض لینا مکروہ ہے۔  
وجہ  :(١)  اس آیت میں اس کا اشارہ ہے جس کو صاحب ہدایہ نے پیش کی ہے ۔و ان أردتم استبدال زوج مکان زوج و آتیتم احداھن قنطارا فلا تأخذوا منہ شیئا أتأخذونہ بھتانا و اثما مبینا ۔( آیت ٢٠، سورة النساء ٤) اس آیت میں اشارہ ہے کہ عورت سے خلع کے طور پر نہیں لینا چاہئے ، اور مرد کی جانب سے ظلم ہو تو بدرجہ اولی نہیں  لینا چاہئے ۔(٢) اس لئے کہ مرد کی شرارت بھی ہے اور مجبور کرکے عوض بھی لے رہا ہے تویہ خوشی سے نہیں ہوا۔اور بغیر خوشی کے مال لینا اچھا نہیں ہے۔عن عمروبن یثربی قال شھدت رسول اللہ ۖ فی حجة الوداع بمنی فسمعتہ یقول لا یحل لامرء من مال اخیہ شیء الا ماطابت بہ نفسہ۔ (دار قطنی ،کتاب البیوع، ج ثالث، ص ٢٢ ،نمبر ٢٨٦٠)(٣)   اثر میں ہے۔ عن الزھری قال اذا افتدت امرأة من زوجھا واخرجت البینة ان النشوز کا ن من قبلہ وانہ کان یضرھا ویضارھا رد الیھا مالھا۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب یضارھا حتی تختلع منہ، ج سادس، ص٣٨٢، نمبر ١١٨٧٩) اس اثر سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر کی شرارت ہوتو رقم بیوی کو واپس کی جائے۔
ترجمہ:  ٢  اور اس لئے کہ دوسری بیوی بدلنے کے ساتھ اس کو متوحش کیا تو مال لیکر مزید متوحش نہ کرے ۔ 
تشریح:  اس بیوی کے بدلے میں دوسری بیوی لا رہا ہے اسی سے اس بیوی کو متنفر کر دیا ، اور شرارت بھی مرد کی ہی ہے اس لئے اس سے مال لیکر مزید متوحش نہ کرے ۔
ترجمہ:  (١٩٥٩)  اگر نافرمانی عورت کی جانب سے ہو تو مکروہ ہے شوہر کے لئے کہ اس سے زیادہ لے جتنا عورت کو دیا ہے۔ 
تشریح :  اگر عورت کی شرارت ہو تو شوہر نے جتنا دیا ہے اتنا تو لے سکتا ہے اس سے زیادہ لینا مکروہ ہے۔تاہم اس سے زیادہ لے لیا تو قضاء کے طور پر جائز ہے۔  

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 بابُ تفویض الطلاق 8 1
3 فصل فی الاختیار 8 2
4 تفویض طلاق کا بیان 8 3
5 فصل فے الامر بالید 22 3
6 فصل فی المشیۃ 35 3
7 باب الایمان فی الطلاق 61 1
9 فصل فی الاستثناء 89 7
10 باب طلاق المریض 94 1
11 باب الرجعة 114 1
12 فصل فیما تحل بہ المطلقة 142 11
14 باب الایلاء 156 1
15 باب الخلع 177 1
16 باب الظہار 207 1
17 فصل فی الکفارة 220 16
18 با ب اللعان 251 1
19 باب العنین وغیرہ 280 1
20 اسباب فسخ نکاح 295 1
21 فسخ نکاح کے اسباب 295 20
22 باب العدة 324 1
23 فصل فی الحداد 357 22
24 سوگ منانے کا بیان 357 23
25 باب ثبوت النسب 379 1
26 ثبوت نسب کا بیان 379 25
27 باب حضانة الولد ومن احق بہ 408 1
28 حضانت کا بیان 408 27
29 فصل بچے کو باہر لیجانے کے بیان میں 424 27
30 باب النفقة 428 1
31 فصل فی نفقة الزوجة علی الغائب 455 30
32 فصل کس طرح کا گھر ہو 455 30
33 فصل فی نفقة المطلقة 467 30
34 فصل مطلقہ عورت کا نفقہ 467 30
35 فصل فی نفقة الاولاد الصغار 475 30
36 فصل چھوٹے بچوں کا نفقہ 475 30
37 فصل فی من یجب النفقة و من لا یجب 483 30
38 فصل والدین کا نفقہ 483 30
40 فصل فی نفقة المملوک 504 30
Flag Counter