(١٩٥٨) وان کان النشوز من قبلہ یکرہ لہ ان یاخذ منہا عوضا ) ١ لقولہ تعالی وان اردتم استبدال زوج مکان زوج الی ان قال فلاتاخذوا منہ شیئا ٢ ولانہ اوحشہا بالاستبدال فلایزید فی وحشتہا باخذ المال (١٩٥٩) وان کان النشوز منہا کرہنا لہ ان یاخذ منہا اکثر مما اعطاہا)
لایری الخلع طلاقا ،ج رابع، ص ١٢٣، نمبر ١٨٤٤٥) اس اثرسے معلوم ہوا کہ خلع طلاق نہیں ہے۔
ترجمہ: (١٩٥٨) اگر نا فرمانی مرد کی جانب سے ہو تو اس کے لئے مکروہ ہے کہ عورت سے عوض لے۔
ترجمہ: ١ و ان أردتم استبدال زوج مکان زوج و آتیتم احداھن قنطارا فلا تأخذوا منہ شیئا أتأخذونہ بھتانا و اثما مبینا ۔( آیت ٢٠، سورة النساء ٤) اس آیت کی وجہ سے ۔
تشریح: شرارت مرد کی ہے جس کی وجہ سے عورت خلع کرنے پر مجبور ہے تو مرد کو عوض لینا مکروہ ہے۔
وجہ :(١) اس آیت میں اس کا اشارہ ہے جس کو صاحب ہدایہ نے پیش کی ہے ۔و ان أردتم استبدال زوج مکان زوج و آتیتم احداھن قنطارا فلا تأخذوا منہ شیئا أتأخذونہ بھتانا و اثما مبینا ۔( آیت ٢٠، سورة النساء ٤) اس آیت میں اشارہ ہے کہ عورت سے خلع کے طور پر نہیں لینا چاہئے ، اور مرد کی جانب سے ظلم ہو تو بدرجہ اولی نہیں لینا چاہئے ۔(٢) اس لئے کہ مرد کی شرارت بھی ہے اور مجبور کرکے عوض بھی لے رہا ہے تویہ خوشی سے نہیں ہوا۔اور بغیر خوشی کے مال لینا اچھا نہیں ہے۔عن عمروبن یثربی قال شھدت رسول اللہ ۖ فی حجة الوداع بمنی فسمعتہ یقول لا یحل لامرء من مال اخیہ شیء الا ماطابت بہ نفسہ۔ (دار قطنی ،کتاب البیوع، ج ثالث، ص ٢٢ ،نمبر ٢٨٦٠)(٣) اثر میں ہے۔ عن الزھری قال اذا افتدت امرأة من زوجھا واخرجت البینة ان النشوز کا ن من قبلہ وانہ کان یضرھا ویضارھا رد الیھا مالھا۔ (مصنف عبد الرزاق ، باب یضارھا حتی تختلع منہ، ج سادس، ص٣٨٢، نمبر ١١٨٧٩) اس اثر سے معلوم ہوا کہ اگر شوہر کی شرارت ہوتو رقم بیوی کو واپس کی جائے۔
ترجمہ: ٢ اور اس لئے کہ دوسری بیوی بدلنے کے ساتھ اس کو متوحش کیا تو مال لیکر مزید متوحش نہ کرے ۔
تشریح: اس بیوی کے بدلے میں دوسری بیوی لا رہا ہے اسی سے اس بیوی کو متنفر کر دیا ، اور شرارت بھی مرد کی ہی ہے اس لئے اس سے مال لیکر مزید متوحش نہ کرے ۔
ترجمہ: (١٩٥٩) اگر نافرمانی عورت کی جانب سے ہو تو مکروہ ہے شوہر کے لئے کہ اس سے زیادہ لے جتنا عورت کو دیا ہے۔
تشریح : اگر عورت کی شرارت ہو تو شوہر نے جتنا دیا ہے اتنا تو لے سکتا ہے اس سے زیادہ لینا مکروہ ہے۔تاہم اس سے زیادہ لے لیا تو قضاء کے طور پر جائز ہے۔