١ وفی رواےة الجامع الصغیر طاب الفضل ایضاً لا طلاق ماتلونا بداً ٢ ووجہ الاخری قولہ علیہ السلام فی امرأة ثابت بن قیس بن شماس اما الزیادة فلاوقد کان النشور منہا
وجہ : (١) صاحب ہدایہ کی حدیث یہ ہے ۔ عن ابن عباس ان جمیلة بنت سلول اتت النبی ۖ فقالت ... لا اطیقہ بغیضا فقال لھا النبی ۖ اتردین علیہ حدیقتہ ؟ قالت نعم فامرہ رسول اللہ ان یأخذمنھا حدیقتہ ولا یزداد۔ (ابن ماجہ شریف ، باب المختلفة یأخذ ما اعطاھا ،ص ٢٩٤ ،نمبر ٢٠٥٦) اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جتنا دیا ہے اس سے زیادہ لینا مکروہ ہے۔اگر زیادہ دے پھر بھی جائز ہے اس کی دلیل یہ اثر ہے۔عن ابن عباس قال یختلع حتی بعقاصھا (مصنف ابن ابی شیبة، ١١٨ من رخص ان یأخذ من المختلفة اکثر مما اعطاھا ،ج رابع ،ص ١٢٩، نمبر ١٨٥٢٢ مصنف عبد الرزاق ، باب المفتدیة بزیادة علی صداقھا ج سادس ص ٥٠٥ نمبر ١١٨٥٤) اس اثر سے معلوم ہوا کہ مہر سے زیادہ دیکر خلع کرے تب بھی جائز ہے۔(٣) اس آیت میں بھی اس کا اشارہ ہے کہ زیادہ لے لے تو جائز ہے ، کیونکہ آیت میں مطلق ہے کہ عورت فدیہ دے تو جائز ہے ۔ آیت یہ ہے ۔ و لا یحل لکم ان تأخذوا مما ء ا تیتموھن شیئاالا أن یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدود اللہ فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ( آیت ٢٢٩، سورة البقرة ٢) اس آیت میں مطلق ہے کہ فدیہ دے تو جائز ہے ۔
ترجمہ: ١ جامع صغیر کی روایت میں ہے کہ زاید لینا بھی جائز ہے ، اس آیت کے مطلق ہونے کی وجہ سے جس کو ہم نے پہلے تلاوت کی ۔
تشریح: جامع صغیر کی روایت میں ہے کہ جتنا مہر دیا ہے اس سے بھی زیادہ شوہر نے لے لیا تب بھی جائز ہے ، کیونکہ آیت میں مطلق ہے کہ جو بھی عورت فدیہ دے سب جائز ہے ۔ یہ آیت گزر چکی ہے ۔فلا جناح علیھما فیما افتدت بہ( آیت ٢٢٩، سورة البقرة ٢)۔
ترجمہ: ٢ دوسرے قول کی وجہ حضور ۖ کا قول ہے ثابت بن قیس بن شماس کی عورت کے بارے میں ، بہر حال زیادہ مال تو نہیں۔ اور اس میں نافرمانی عورت کی جانب سے تھی ۔
تشریح: دوسرے قول میں ہے کہ شوہر نے جتنا دیا ہے اس سے زیادہ لینا مکروہ ہے ، کیونکہ حضور نے حضرت ثابت بن قیس بن شماس کی عورت کے بارے میں فر مایا تھا کہ زیادہ تو مت لو ، حالانکہ اس میں نا فرمانی عورت کی تھی جس سے پتہ چلا کہ زیادہ لینا مکرہ ہے۔ حضرت ثابت والی حدیث یہ ہے ۔ عن ابن عباس ان جمیلة بنت سلول اتت النبی ۖ فقالت ... لا اطیقہ بغیضا فقال لھا النبی ۖ اتردین علیہ حدیقتہ ؟ قالت نعم فامرہ رسول اللہ ان یأخذمنھا حدیقتہ ولا یزداد۔ (ابن ماجہ شریف ، باب المختلفة یأخذ ما اعطاھا ،ص ٢٩٤ ،نمبر ٢٠٥٦) اس حدیث میں ہے کہ زیادہ مت لو ۔
لغت: النشوز:نا فرمانی۔ طاب الفضل : جو کچھ زیادہ دیا وہ بھی ٹھیک ہے ۔ بداء : شروع میں ۔