Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 5

178 - 508
٢   ولانہ یحتمل الطلاق حتی صار من الکنایات والواقع بالکنایات بائن الا ان ذکر المال اغنی عن النےة ہنا  ٣  ولانہا لاتتسلم المال الا لتسلم لہا نفسہا و ذلک بالبینونة 

یکون من الطلاق ؟ ،ج رابع ،ص ١٢١ ١٨٤٢٥)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خلع خود ہی طلاق بائنہ ہے (٢) جب شوہر نے رقم لی تو اس کے بدلے عورت کی جان چھوٹنی چاہئے اور یہ اسی شکل میں ہو سکتا ہے جبکہ خلع طلاق بائنہ کے درجے میں ہو ،ورنہ عورت کو رقم دینے سے فائدہ کیا ہوا ؟
ترجمہ:  ٢  اور اس لئے کہ لفظ خلع طلاق کا احتمال رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ کنایات میں سے ہے ، اور کنایات سے طلاق بائنہ واقع ہوتی ہے ، مگر مال کے ذکر سے یہاں نیت سے بے نیاز کر دیا ۔
تشریح:  یہ دلیل عقلی ہے کہ لفظ خلع الفاظ کنایہ میں سے ہے ، اور کنایہ کے الفاظ سے طلاق بائنہ واقع ہو تی ہے ، اس لئے لفظ خلع سے بھی طلاق بائنہ واقع ہو گی ، البتہ کنایہ میں طلاق کی نیت کی ضرورت پڑتی ہے ، لیکن یہاں مال کا تذکرہ موجود ہے اس لئے مال کا تذکرہ ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ طلاق دینا چاہتا ہے اس لئے اس میں طلاق کی نیت کی ضرورت نہیں ہے ۔
ترجمہ:  ٣  اور اس لئے کہ عورت مال اس لئے دیتی ہے کہ اس کی جان چھوٹ جائے اور یہ طلاق بائنہ سے چھوٹے گی ] اس لئے خلع سے طلاق بائنہ واقع ہو گی [۔
تشریح:  یہ دوسری دلیل عقلی ہے کہ عورت اس لئے مال دے رہی ہے کہ شوہر سے اس کی جان چھوٹ جائے ، پس اگر مال دینے کے با وجود اس کی جان نہ چھوٹے ، اور طلاق بائنہ نہ ہواور دوبارہ طلاق لینے کی ضرورت پڑے تو مال کیوں دے گی ! اس لئے عقلی تقاضا ہے کہ خلع کرنے سے طلاق بائنہ واقع ہو جائے ۔ 
فائدہ:  بعض ائمہ کی رائے ہے کہ خلع سے طلاق واقع نہیں ہوگی بلکہ مال لینے کے بعد با ضابطہ شوہر طلاق دے تب طلاق واقع ہوگی۔  
وجہ:  ان کی دلیل اوپر کی حدیث کا یہ ٹکڑا ہے۔عن ابن عباس قال جائت امراة ثابت ابن قیس بن شماس الی النبی  ۖ فقالت یا رسول اللہ ما انقم علی ثابت فی دین و لا خلق الا انی اخاف الکفر ، فقال رسول اللہ ۖ فتردّین علیہ حدیقتہ ؟ قالت نعم فردت و أمرہ ففارقھا ۔(بخاری شریف ، باب الخلع وکیف الطلاق فیہ، ص٧٩٤ ،نمبر ٥٢٧٦) اس حدیث میں ہے کہ حضور ۖ بعد میں طلاق دینے کا حکم دیا  ،اس کا مطلب یہ ہوا کہ خلع طلاق نہیں ہے(٢) اثر میں ہے۔ عن ابن عباس   قال :سال ابراھیم بن سعد ابن عباس عن امرأة طلقھا زوجھا تطلیقتین ثم اختلعت منہ ایتزوجھا ؟ قال ابن عباس ذکر اللہ عزوجل الطلاق اول الآیة وآخرھا والخلع بین ذلک فلیس الخلع بطلاق ینکحھا۔ (سنن للبیہقی ، باب الخلع ھل ھو فسخ او طلاق ؟ ج سابع ،ص ٥١٧، نمبر ١٤٨٦٣ مصنف ابن ابی شیبة، ١٠٦ من کان 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 بابُ تفویض الطلاق 8 1
3 فصل فی الاختیار 8 2
4 تفویض طلاق کا بیان 8 3
5 فصل فے الامر بالید 22 3
6 فصل فی المشیۃ 35 3
7 باب الایمان فی الطلاق 61 1
9 فصل فی الاستثناء 89 7
10 باب طلاق المریض 94 1
11 باب الرجعة 114 1
12 فصل فیما تحل بہ المطلقة 142 11
14 باب الایلاء 156 1
15 باب الخلع 177 1
16 باب الظہار 207 1
17 فصل فی الکفارة 220 16
18 با ب اللعان 251 1
19 باب العنین وغیرہ 280 1
20 اسباب فسخ نکاح 295 1
21 فسخ نکاح کے اسباب 295 20
22 باب العدة 324 1
23 فصل فی الحداد 357 22
24 سوگ منانے کا بیان 357 23
25 باب ثبوت النسب 379 1
26 ثبوت نسب کا بیان 379 25
27 باب حضانة الولد ومن احق بہ 408 1
28 حضانت کا بیان 408 27
29 فصل بچے کو باہر لیجانے کے بیان میں 424 27
30 باب النفقة 428 1
31 فصل فی نفقة الزوجة علی الغائب 455 30
32 فصل کس طرح کا گھر ہو 455 30
33 فصل فی نفقة المطلقة 467 30
34 فصل مطلقہ عورت کا نفقہ 467 30
35 فصل فی نفقة الاولاد الصغار 475 30
36 فصل چھوٹے بچوں کا نفقہ 475 30
37 فصل فی من یجب النفقة و من لا یجب 483 30
38 فصل والدین کا نفقہ 483 30
40 فصل فی نفقة المملوک 504 30
Flag Counter