ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2011 |
¾اكستان Ù |
|
پہنچ کر مشاہدہ کرتے اَور دارُالعلوم کے مختلف شعبوں کا بھی اچانک معائنہ فرمانے تشریف لے جاتے۔ سچ یہ ہے کہ وہ دارُالعلوم کے سارے کاموں سے اِس طرح دلچسپی لیتے تھے کہ بہت سے لوگوں کو اپنے ذاتی کاموں سے بھی اِتنی دلچسپی نہیں ہوتی۔ تعلیمی وثقافتی سطح پر بہت سے نئے شعبے اُبھرے: معین المدرسین کا نظام اِستوار ہوا جو اَکابر کے زمانے میں کبھی ہوا کرتا تھا، تخصص فی الحدیث اَور تکمیل العلوم کے شعبے قائم ہوئے، عالمی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کے بعد دارُالعلوم میں مستقل شعبہ ختم نبوت قائم ہوا، رابطہ مدارسِ اِسلامیہ کے نام سے ہندگیر تنظیم قائم ہوئی، فرقِ باطلہ کے رد کے لیے محاضرات کا مستقل نظام رُوبہ عمل آیا، نیز تحفظ سنت شعبہ اَور شعبہ ردِّعیسائیت قائم ہوئے، شیخ الہند اَکیڈمی تازہ دم اَور فعال ہوئی، اَنگریزی زبان واَدب کے دوسالہ شعبے کا قیام ہوا جس کے بعد ہی بہت سے مدارس نے طلبہ مدارسِ عربی کے لیے اَنگریزی تعلیم کا اِسی طرح کا نظام اپنے یہاں قائم کرنا شروع کیا، شعبہ کمپیوٹر واِنٹرنیٹ قائم ہوا جس میں طلبہ کی ٹریننگ کا ایک سالہ نظام زیر عمل آیا۔ دارُالعلوم کے اِمتحانی نظام میں ایک بڑی تبدیلی یہ ہوئی کہ سالانہ اِمتحان کے علاوہ مزید دو اِمتحانات سہ ماہی وششماہی ہوا کرتے تھے لیکن ضیاعِ وقت کے ساتھ ساتھ تقریری ہونے کی وجہ سے اُن سے مطلوبہ فائدہ حاصل نہیں ہوپاتا تھا لہٰذا صرف دو اِمتحانات: ششماہی اَور سالانہ کردیے گئے اَور ششماہی کو سالانہ ہی کی طرح باقاعدہ تحریری بنادیاگیا جس سے طلبہ کی صلاحیت سازی کا عمل زیادہ کارگر اَور مفید ثابت ہوا۔ طلبہ کی تعداد حضرت حکیم الاسلام کے دور میں صرف اَٹھارہ سو (١٨٠٠) ہوا کرتی تھی اِسے بڑھا کر ساڑھے تین ہزار اَور چار ہزار (٣٥٠٠ـ ٤٠٠٠) کے قریب کردی گئی، طلبہ کے وظائف میں معقول اِضافہ کیاگیا۔ بہت سے شعبوں کے وظائف لائقِ تذکرہ اَور ریکارڈ ہیں، طلبہ کے کھانے میں بھی مہینے میں دوبار پھر تین بار بریانی کااِنتظام ہوا۔ اِمتحانات کے زمانے میں ساری درس گاہوں کے کھلے رہنے کا اِنتظام ہوا، طلبہ کی سینکڑوں ضلعی وصوبائی اَنجمنوں کو معنوی مدد دی گئی اَور اُن کی حوصلہ اَفزائی کی گئی۔ مالیہ کی فراہمی کا کارگر اَور فعال نظام قائم ہوا اَور دارُالعلوم کا بجٹ تقریباً ٤١کروڑ تک پہنچ گیا جبکہ حضرت حکیم الاسلام کے بعد حضرت رحمة اللہ علیہ کو صرف (٦٠) سا ٹھ لاکھ کے بجٹ کا دارُالعلوم ملا تھا، حضرت رحمة اللہ علیہ کی یہ خوبی رہی کہ جب تک وہ زیادہ ہوش میں اَور زیادہ فعال رہے دارُالعلوم کے حساباتِ