ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2010 |
¾اكستان Ù |
|
وہ زید زمان کے اَحکامات کے مطابق کام کریں۔ زید زمان کو اِس سے قبل ٢٨ فروری کو کذاب یوسف کی نام نہاد وَرلڈ اسمبلی آف مسلم یونٹی کے لاہور میں ہونے والے اجلاس میں خصوصی طور پر بلایا گیا تھا اور تقریباً سو افراد کی موجودگی میں کذاب یوسف نے اِسے (اپنا) صحابی قرار دیتے ہوئے (نعوذباللہ) حضرت ابوبکر صدیق کا خطاب دیا تھا اور کہا تھا کہ ہم نے زید زمان کو حقیقت عطا کردی ہے۔ اِس پروگرام کی ویڈیو اور آڈیو کیسٹ بھی تیار ہوئی، جو پولیس کے ریکارڈ میں محفوظ ہے اور مقدمہ کا حصہ ہے۔ اُس اجلاس میں صحابی قرار پانے کے بعد زید زمان نے تقریر کی اور کذاب یوسف کی تعریف اور عظمت میں زمین و آسمان کے قلابے ملادیے تھے۔ زید زمان اِن دنوں کذاب یوسف کی رہائی کے سلسلہ میں سرگرم ہے اور عدالت میں ہر تاریخ پر موجود ہوتا ہے۔ کذاب یوسف کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اَڈیالہ جیل میں اُس نے عبادات ترک کردی ہیں اور آج کل خط و کتابت کے ذریعہ رُوٹھے مریدوں کو منانے کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔'' (روزنامہ خبریں لاہور ٨نومبر ١٩٩٧ئ) چنانچہ جب یوسف کذاب جیل میں قتل ہوگیا تو زید زمان اَز خود پس ِمنظر میں چلا گیا اور اپنے آپ کو منظر عام پر لانے کے لیے مناسب وقت کا اِنتظار کرنے لگا۔ ایک عرصہ بعد جب عام لوگوں کے ذہن سے یوسف کذاب کا قضیہ اَوجھل ہوگیا اور لو گ یوسف کذاب اوراُس کے چیلے زید زمان کی دینی اور مذہبی حیثیت سے قریب قریب ناآشنا ہوگئے تو اُس نے اپنے باپ کے نام کے پہلے جزؤ کے بجائے دُوسرے جزؤ کو اپنے نام سے ملایا اور زید زمان کی جگہ زید حامد کے نام سے اپنے آپ کو متعارف کرانے اور منوانے کا ناپاک منصوبہ شروع کردیا۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ اِس ملعون کا تعاقب کریں اور اِس کے دامِ تزویر میں نہ آئیں اور دُوسرے مسلمانوں کو بھی اِس کے متعلق بتلائیں تاکہ اُمت ِمسلمہ کا دین و ایمان محفوظ رہ سکے۔ اِس کے علاوہ مسلمانوں کو اِس بات کابھی بطورِ خاص اہتمام کرنا چاہیے کہ مستند علماء اور اَکابر اہل ِ حق کے علاوہ کسی عام آدمی کو درس و تدریس کی مسند پر نہ بیٹھنے دیں اور نہ ہی اُس کے حلقہ درس میں بیٹھیں کیونکہ حجة الاسلام امام غزالی فرماتے ہیں کہ :