ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2010 |
¾اكستان Ù |
|
''وَاِنَّمَا حَقُّ الْعَوَامِ اَنْ یُّؤْمِنُوْا وَیُسْلِمُوْا وَیَشْتَغِلُوْا بِعِبَادَتِہِمْ وَمَعَایِشِہِمْ وَیَتْرُکُوا الْعِلْمَ لِلْعُلَمَائِ ، فَالْعَامِیْ لَوْ یَزْنِیْ وَیَسْرِقَ کَانَ خَیْرًا لَّہ مِنْ اَنْ یَّتَکَلَّمَ فِی الْعِلْمِ ، فَاِنَّہ مَنْ تَکَلَّمَ فِی اللّٰہِ وَفِیْ دِیْنِہ مِنْ غَیْرِ اِتْقَانِ الْعِلْمِ وَقَعَ فِی الْکُفْرِ مِنْ حَیْثُ لَایَدْرِیْ کَمَنْ یَّرْکَبُ لُجَّةَ الْبَحْرِ وَہُوَ لَایَعْرِفُ السَّبَاحَةَ۔'' یعنی عوام کا فرض ہے کہ ایمان اور اِسلام لاکر اپنی عبادتوں اور روزگار میں مشغول رہیں، علم کی باتوں میں مداخلت نہ کریں اِس کو علماء کے حوالہ کردیں۔عامی شخص کا علمی سلسلہ میں حجت کرنا زنا اور چوری سے بھی زیادہ نقصان دہ اور خطرناک ہے کیونکہ جو شخص دینی علوم میں بصیرت اور پختگی نہیںر کھتا وہ اگر اللہ تعالیٰ اور اُس کے دین کے مسائل میں بحث کرتا ہے تو بہت ممکن ہے کہ وہ ایسی رائے قائم کرے جو کفر ہو اَور اُس کو اِس کا احساس بھی نہ ہو کہ جو اُس نے سمجھا ہے وہ کفر ہے، اِس کی مثال اُس شخص کی سی ہے جو تیرنا نہ جانتا ہو اَور سمندر میں کود پڑے۔'' (احیاء العلوم ص:٣٦، ج:٣) لہٰذا غیر مستند حضرات دین ومذہب میں دخل نہ دیںاور نہ ہی درسِ قرآن کی مسندوں پر بیٹھنے کی کوشش کریں،آج کل یہ فتنہ قریب قریب عام ہورہا ہے کہ ہرجاہل وعامی محض اُردو کتب اورتراجم کی مدد سے درسِ قرآن دینے لگاہے جبکہ یہ بہت ہی خطرناک ہے۔اِس سے دینی، مذہبی اور علمی اعتبار سے نوجوان نسل بہت ہی اضطراب کاشکارہورہی ہے کیونکہ وہ دین و مذہب کے بارہ میں علماء سے کچھ سنتے ہیں تو جدید اسکالروں سے کچھ اور،لہٰذا وہ اِس کشمکش میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا؟ اس لیے ضروری ہے کہ اربابِ علم وعمل جگہ جگہ ایسے مستند مدرسین، واعظین اور مقررین کاانتظام کریں جو ہر اعتبار سے لائقِ اعتماد ہوں تاکہ نئی نسل کی ذہن سازی ہواَوروہ اُن جہالت کے علَم برداروں کی گمراہی سے محفوظ رہ سکیں۔وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد وآلہ واصحابہ اجمعین(جاری ہے)