ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2010 |
¾اكستان Ù |
|
قطع ِنظر اِس روایت کی سند کے اِس کا نفس ِمضمون صحیح ہے۔بہرحال اِس روایت میں چند اہم باتوں کی طرف متوجہ فرمایا گیا ہے، مثلاً : (١) مسلمانوں کو ہر اَیرے غیرے اور مجہول اِنسان کے حلقہ درس میں نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ کسی سے علمی استفادہ کرنے سے قبل اِس کی پوری تحقیق کرلینا ضروری ہے کہ یہ آدمی کون ہے،کیسا ہے، کس خاندان اور قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے اَور اس کا خاندانی پس ِمنظر کیا ہے؟ (٢) اُس کے اَساتذہ کون سے ہیں؟ کس درس گاہ سے اُس نے علم حاصل کیا ہے؟ (٣) اُس کا علم خودرَو اور ذاتی مطالعہ کی پیداوار تو نہیں؟ کسی گمراہ، بے دین، ملحد اَور مستشرق اَساتذہ کا شاگرد تو نہیں؟ (٤) اُس شخص کے اَعمال و اَخلاق کیسے ہیں؟ اُس کے ذاتی اور نجی معاملات کیسے ہیں؟ کہیں یہ شعبدہ باز اور دین کے نام پر دُنیا کمانے والا تو نہیں؟ (٥) اُس کا سلسلہ سند کیا ہے؟ یہ جھوٹا اور مکار تو نہیں؟ یہ جھوٹی اَور من گھڑت سندیں تو بیان نہیں کرتا؟ کیونکہ محض سندیں نقل کرنے اور '' اَخْبَرَنَا '' وَ '' حَدَّثَنَا '' کہنے سے کوئی آدمی صحیح عالمِ ربانی نہیں کہلاسکتااِس لیے کہ بعض اَوقات مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے کافر و ملحد بھی اِس طرح کی اصطلاحات استعمال کیا کرتے ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہیے کہ ہر مقرر و مدرس،واعظ یا ''وسیع معلومات'' رکھنے والے ''اسکالر'' و ''ڈاکٹر'' کی بات پر کان نہ دھریں، بلکہ اُس کے بارہ میں پہلے مکمل تحقیق کرلیا کریں کہ یہ صاحب کون ہیں؟ اور اِن کے علم و تحقیق کا حدودِ اَربعہ کیا ہے؟ کہیں یہ منکرِ حدیث، منکر ِدین،منکرِ صحابہ،منکرِ معجزات، مدعیِ نبوت یا اُن کا چیلہ چانٹا تو نہیں؟ چنانچہ ہمارے دَور میں اِس کی بہت سی مثالیںموجود ہیں کہ ریڈیو، ٹی وی یا عام اجتماعات میں ایسے لوگوں کو پذیرائی حاصل ہوجاتی ہے جو اپنی چرب زبانی اور ''وسعت ِمعلومات'' اور تُک بندی کی بنا پر مجمع کو مسحور کرلیتے ہیںجس کی وجہ سے بہت سے لوگ اُن کے قائل، معتقد اور عقیدت مند ہوجاتے ہیں، اُن کے بیانات، دروس اور لیکچر زکا اہتمام کرتے ہیں، اُن کی آڈیو، ویڈیو کیسٹیں، سی ڈیز اور ڈی وِی ڈیز بنا بناکر