ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جنوری 2010 |
¾اكستان Ù |
|
کریں گے، مگر ایسا لگتا ہے کہ اُس کے علاوہ بھی چھوٹے چھوٹے دجال پیدا ہوں گے جو اُمت کو گمراہ کرنے میں دجال ِاکبر کی نمائندگی کی خدمت انجام دیں گے۔ اسی لیے آنحضرت ۖ نے اُمت کو اِس بات کی طرف متوجہ فرمایا ہے کہ وہ ایسے ایمان کُش راہزنوں اور دجالوں سے ہوشیار رہے کیونکہ قربِ قیامت میں شیاطین اِنسانوں کی شکل میں آکر مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کریں گے اور وہ اِس کامیابی سے اپنی تحریک کو اُٹھائیں گے کہ کسی کو اُن کے شیطان، دجال یا جھوٹے ہونے کا وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔ چنانچہ علامہ علاء الدین علی متقی نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف کنزالعمال میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اُن اِنسان نما شیاطین کے دجل و اِضلال ،فتنہ پرور سازشوں اوردجالی طریقہ کار کا تذکرہ کرتے ہوئے نقل فرمایا ہے کہ : اُنْظُرُوْا مَنْ تُجَالِسُوْنَ وَعَمَّنْ تَأْخُذُوْنَ دِیْنَکُمْ، فَاِنَّ الشَّیَاطِیْنَ یَتَصَوَّرُوْنَ فِیْ آخِرِ الزَّمَانِ فِیْ صُوَرِ الرِّجَالِ ، فَیَقُوْلُوْنَ:حَدَّثَنَا وَاَخْبَرَنَا۔ وَاِذَا جَلَسْتُمْ اِلٰی رَجُلٍ فَاسْئَلُوْہُ عَنِ اسْمِہ وَ اسْمِ اَبِیْہِ وَعَشِیْرَتِہ ، فَتُفَقِّدُوْنَہ اِذَا غَابَ۔'' (مستدرک حاکم ، مسند فردوس دیلمی ، کنزالعمال ص٢١٤ ج ١٠) ''حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تم لوگ یہ دیکھ لیا کرو کہ کن لوگوں کے ساتھ بیٹھتے ہو اَور کن لوگوں سے دین حاصل کررہے ہو؟ کیونکہ آخری زمانہ میں شیاطین اِنسانوں کی شکل اختیار کرکے اِنسانوں کو گمراہ کرنے آئیں گے اور اپنی جھوٹی باتوں کو سچا باور کرانے کے لیے من گھڑت سندیں بیان کرکے محدثین کی طرز پرکہیں گے: حَدَّثَنَا وَاَخْبَرَنَا مجھے فلاں نے بیان کیا، مجھے فلاں نے خبر دی وغیرہ وغیرہ لہٰذا جب تم کسی آدمی کے پاس دین سیکھنے کے لیے بیٹھا کرو تواُس سے اُس کا اُس کے باپ کا اور اُس کے قبیلہ کا نام پوچھ لیا کرو اِس لیے کہ جب وہ غائب ہوجائے گا تو تم اُس کو تلاش کروگے۔''