ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2008 |
¾اكستان Ù |
|
یا کہنا ہوتی تو متکلم مجھے ہی بننا پڑتا۔ حضرت میری بات غور سے سُنتے اور جوابِ باصواب سے نوازتے۔ بزرگ کہتے ہیں کہ اچھا شاگرد وہ ہوتا ہے جو اُستاد سے پوچھتا رہے اور اچھا مرید وہ ہوتا ہے جو مرشد سے سوال نہ کرے اور مرشد کے ہر حکم کو مانے سمجھ آئے یا نہ آئے۔ حافظ شیرازی نے بھی ایسا ہی کہا ہے بہ مے سجّادہ رنگیں کن گرت پیرمغاں گوید کہ سالک بے خبرنبود زرا ہ ورسمِ منزلہا اگرتیرامرشدکہے کہ اپنے مصلاّکوشراب کے رنگ سے رنگین کرلے تواُس پرعمل کر لے، کیونکہ منزلِ طریقت کا راہی اُس راستہ کی منزلوں سے خوب واقف ہوتاہے۔ لیکن بندہ کے ساتھ حضرت شاہ صاحب کامعاملہ عام طریقہ سے ہٹ کرہی تھا۔ حضرت کبھی بھی میرے سوالات پرکبیدہ خاطرنہ ہوئے بلکہ ہمیشہ مسکراکرجواب مرحمت فرماتے بعض اوقات ایسابھی ہوتاکہ حضرت کسی کو کوئی بات سمجھارہے ہیں بات ختم کرنے کے بعدمجھ سے مخاطب ہوکرفرماتے ،کیامیں نے دُرست کہاہے؟ بندہ پُرزوراَندازمیں تائیدکرتاتوحضرت مسکرانے لگتے۔ تقریباًدوسال پہلے خانقاہِ سیّد احمد شہید میں حضرت کے پاس بیٹھے تھے آپ کسی ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ''بابوں (بوڑھوں) پرمحنت ضائع نہ کیاکروبلکہ نوجوانوں پرمحنت کرو،بابوں کابدلناتقریباًناممکن ہوتاہے میں نے تائیدمیں سرہلایاتوفرمایاکیامیری بات دُرست ہے؟ میں نے عرض کیاکہ سوفیصددُرست ہے۔ تائید کے لیے میں نے عربی کایہ شعرپڑھا وَاِنَّ سَفَاہَ الشَّیْخِ لَاحِلْمَ بَعْدَہ وَاِنَّ الْفَتٰی بَعْدَ السَّفَاہَةِ یَحْلُم بوڑھاآدمی کوئی بیوقوفی کرلے تواُس سے بازنہیں آتا اورجوان آدمی اپنی بیوقوفی کے بعدنرم بھی ہوجاتاہے۔ حضرت میری بات سُن کر خوش ہوئے اورمسکرادیئے۔ 2004 ء کی بات ہے بندہ عمرے کے سفرپر جارہاتھا، حضرت شاہ صاحب سے ملنے کریم پارک گھرپرحاضرہوا، حضرت خوش ہوئے اورفرمایابڑے خوش قسمت ہوہرسال عمرے کے لیے چلے جاتے ہو۔میں نے عرض کیاحضرت!یہ صرف آپ کی دعاؤ ں کے طفیل ہے۔پھرمجھ سے پوچھاکہ تم ریٹائرمنٹ کے بعداَب کیاکررہے ہو؟ میں حضرت کے سوال کونہ سمجھااورعرض کیاکہ حضرت! آپ کے علم میں ہے کہ میرالاکھوں روپیہ ایک آدمی لے کربھاگ گیاہے جوتھوڑی سی رقم باقی