ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2008 |
اكستان |
|
تو اِرشاد فرمارہے ہیں کہ ایسا ہے کہ وہ آئے بھی تو اُس کا کوئی خیال نہیں کرے گا اور اُس کی خدا کے یہاں جو مقبولیت ہے وہ بھی سامنے نہیں آئے گی ، بعض لوگ ایسے ہیں کہ جو مجذوب جیسے ہوتے ہیں لیکن کہیں جاتے ہیں لوگوں کے ذہن میں یہ ہوتا ہے کہ یہ اللہ والا ہے تو اُس کا بڑا احترام کرتے ہیں اور کام اُس کے لیے چھوڑدیتے ہیں حالانکہ اُس کا حلیہ یہ نہیں ہوتا وہ مجذوب جیسا ہی ہوتا ہے اُس کی تعظیم بہت کرتے ہیں۔ مگریہ شخص ایسا بھی نہیں ہے اِس کے بارے میں یہ گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ خدا کا مقرب ہے نہ ایسے آثار اُس پر پائے جارہے ہیں کہ وہ دُنیا کے اعتبار سے کوئی بلند مرتبہ شخص ہے دونوں اعتبار سے یہ خیال نہیں ہوتا کہ وہ کسی درجے کا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کو ایسے پسند ہیں کہ اگر وہ کسی بات کے بارے میں قسم کھالیں کہ ایسے ہوگا انشاء اللہ تو اللہ تعالیٰ اُس کی قسم پوری کرتے ہیں اگر وہ کوئی بات ایسی کہہ دیں دعوے سے تو اللہ تعالیٰ وہ پوری کردیتا ہے تو ایسے ہوا بھی ہے مگر شاذ و نادر بہت کم۔ حضرتِ انس بن نضر رضی اللہ عنہ اللہ کے پسندیدہ بندے : جیسے کہ حضرتِ انس ابن ِ نضر تھے اُن کی بہن تھیں رُبیّع اُن سے ایک عورت کاجھگڑا ہوا دانت ٹوٹ گیا اُس کا اِن کے ہاتھ سے تو انس ابن ِ نضر کو پتہ چلا کہ میری بہن کے بارے میں یہ فیصلہ ہوا ہے کہ اُس کا دانت توڑا جائے گا قصاص یعنی بدلے میں۔ یہ آئے اور اِنہوں نے آکر عرض کیا کہ کیا دانت توڑا جائے گا اِس کا؟ تو آپ نے فرمایاکہ یَااَنَسُ کِتَابُ اللّٰہِ قِصَاص اللہ کا جو حکم ہے کتاب اللہ کے اعتبار سے جو حکم ہے وہ یہی ہے کہ قصاص ہے اَلسِّنُّ بِالسِّنِّ دانت کے بدلے میں دانت ہوگا تو وہ کہنے لگے کہ اللہ کی قسم اُس کا دانت نہیں ٹوٹے گا۔ اَب اُنہوں نے رسول اللہ ۖ کے مقابلے میں تو نہیں کہی یہ بات، مقابلے میں کہنا تو کفر ہے، زبان سے نکل جانا ویسے ہی اَفسوس میں اور پریشانی کی حالت میں یہ اَلگ بات ہے۔ تو ہوا اِسی طرح پریشانی ہوئی اُن کو اور پریشانی کی حالت میں اِس طرح کی بات زبان سے نکل گئی رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ یہ تو اللہ کا حکم ہے۔ اللہ نے اِن کی قسم کی لاج رکھ لی : تو اَبھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ وہ لوگ راضی ہوگئے کہ اچھا ہمیں پیسے دیں تاوان پر راضی ہوگئے تو رسول اللہ ۖ نے اُن کے بارے میں بھی یہی فرمایا یہ اُن لوگوں میں سے ہیںکہ لَوْاَقْسَمَ عَلَی اللّٰہِ لَاَبَرَّ