Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2008

¾اكستان Ù

52 - 64
خلافت سے نوازدیا۔ سُنا ہے کہ آپ کی خطاطی کی نفاست دیکھ کر حضرت رائے پوری نے ہی آپ کو ''نفیس ِ رقم'' کا لقب مرحمت فرمایا تھا۔ اِس طرح آپ اَنور حسین نفیس رقم ہوگئے۔ بعد میں آپ نے شیخ کے عطا کردہ لقب ہی کو اپنا نام بنالیا اور اپنا نام صرف نفیس الحسینی ہی تحریر کرتے تھے۔ یہ ہے شیخ سے اُلفت و محبت کی اِنتہا۔ 
حضرت شاہ صاحب سے شناسائی تو اپنی جوانی کے وقت ہی سے تھی۔ بندہ کی بیعت پہلے حضرت مولانا عبد العزیز صاحب رائے پوری چک نمبر ١١۔١١۔ ایل چیچہ وطنی والوں سے تھی۔ اُس وقت بندہ گورنمنٹ ڈگری کالج بورے والا میں پڑھاتا تھا۔ جب حضرت   کا وصال ١٩٨٤ء میں ہوا اُس وقت میں ساہیوال آگیا تھا۔ چونکہ شاہ صاحب   کا گیارہ والوں کے پاس آنا جانا رہتا تھا اور آپ نے اپنے تمام بھتیجوں کو حضرت شاہ صاحب   سے بیعت کرایا تھا جن میں سے اکثر حضرت شاہ صاحب کے ہی مجاز ہوئے اِس لیے شاہ صاحب سے اُنس و تعلق حضرت گیارہ والوں کی زندگی میں ہی خاصا بڑھ گیا تھا۔ حضرت گیارہ والوں کی وفات کے بعد  پروفیسر محمد رفیق اذفر اور بندہ نے اوکاڑہ کی ایک مجلس میں حضرت شاہ صاحب سے تجدید ِ بیعت کی درخواست کی تو حضرت نے فرمایا بیعت کی ضرورت نہیں ہے تعلق حضرت گیارہ والوں ہی سے رکھیں ویسے آتے جاتے رہا کریں۔ ہم خاموش ہوگئے اور گاہے گاہے حضرت شاہ صاحب سے ملنے کے لیے لاہور جانا شروع کردیا۔ 
اِس دَوران ہمیں خبر ملی کہ حضرت شاہ صاحب نے حضرت گیارہ والوں کے کچھ مریدوں کو بیعت فرمالیا ہے لیکن ہم خاموش رہے اور آنے جانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایک دن رفیق اذفر صاحب بندہ سے کہنے لگے اَب تو ہم بہت آوارہ ہوگئے ہیں شاہ صاحب   بھی ہمیں بیعت نہیں کرتے کچھ دُوسرے ساتھیوں کو بیعت کرلیا ہے اَب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ میں نے کہا آپ دُعاء فرمائیں اللہ تعالیٰ اِس سلسلہ میں کوئی بہتر صورت پیداکردیں گے۔ پھر ٩ اکتوبر ١٩٩٤ء کو ہم شاہ صاحب کی زیارت کے لیے کریم پارک پہنچے، اذفر صاحب تو حسب ِ معمول مؤدب ہوکر بیٹھ گئے۔ بندہ نے شاہ صاحب سے عرض کیا کہ حضرت! آپ نے اچھے اچھے لوگوں کو تو بیعت فرمالیا ہے اَب ہمارے جیسے نالائق کہاں جائیں گے۔ حضرت میری بات سُن کر مسکرائے اور ہم دونوں کو بھی اپنے دامن ِ اِرادت و بیعت میں قبول فرمالیا۔ 
اِس کے بعد آہستہ آہستہ حضرت کی توجہات اور شفقتوں سے کچھ حصہ ملنے لگا۔ جب بھی میں اور اذفر صاحب حاضر خدمت ہوتے تو اذفر صاحب خاموشی سے بااَدب ہوکر بیٹھ جاتے۔ کوئی بات حضرت سے پوچھنا
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
4 درس حدیث 5 1
5 جمعہ اور صفائی : 6 4
6 حضرتِ انس بن نضر رضی اللہ عنہ اللہ کے پسندیدہ بندے : 7 4
7 اللہ نے اِن کی قسم کی لاج رکھ لی : 7 4
8 اِنہی کا جذ بہ ٔ جہاد اور شوقِ شہادت : 8 4
9 اِن کی نقل میں ایسا کرنے کی ہرآدمی کو اجازت نہیں ہے : 8 4
10 ملفوظات شیخ الاسلام 9 1
11 حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی 9 10
12 حضرت عائشہ کی عمر اور حکیم نیاز احمد صاحب کا مغالطہ 11 1
13 حکیم نیاز احمد صاحب کا خط 11 12
14 عو ر توں کے رُوحانی امراض 15 1
15 لباس، زیور، میک اپ (زینت )کامفسدہ : 15 14
16 عورتوں کی زبردست غلطی : 15 14
17 اِرشادِنبوی ۖ اورضروری مسئلہ : 16 14
18 حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے مناقب 17 1
19 نکاح : 17 18
20 رُخصت و عزیمت 20 1
21 موزے پر مسح رُخصت کی کونسی قسم ہے ؟ 20 20
22 عزیمت : 20 20
23 رُخصت : 20 20
24 حنفیہ کے نزدیک رُخصت کی چار قسمیں ہیں : 20 20
25 پہلی قسم : 20 20
26 اِس رُخصت کی چند اور مثالیں : 22 20
27 دُوسری قسم : 23 20
28 تیسری قسم : 23 20
29 چوتھی قسم : 24 20
30 بقیہ : درس حدیث 32 4
31 گلدستہ ٔ احادیث 33 1
32 چارچیزیں پیغمبروں کی سنتوں میں سے ہیں : 33 31
33 اِس دَور کی اہم ضرورت 35 1
34 اللہ ہی خالق ہے اور و ہی راہ دِکھانے والا ہے 40 1
35 تعلیمی انہماک کو نصب العین بنائیں 47 1
36 وفیات 50 1
37 اُٹھ گیا ناوک فگن مارے گا دِل پر تیر کون 51 1
38 بقیہ : گلدستہ ٔاحادیث 57 31
39 دینی مسائل 58 1
40 ( نومولودکودُودھ پلانے کابیان ) 58 39
41 یہودی خباثتیں 59 1
42 - 5امریکا میں : 59 1
43 بقیہ : اللہ ہی خالق ہے اور وہی راہ دِکھانے والا ہے 61 34
44 اَخبار الجامعہ 62 1
Flag Counter