ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2008 |
¾اكستان Ù |
|
قسط : ٢ ، آخری تعلیمی انہماک کو نصب العین بنائیں جناب مولاناقاری تصورالحق صاحب صدرجمعیت علماء برمنگھم برطانیہ ٥ فروری کو جامعہ مدنیہ جدید تشریف لائے۔ اِس موقع پر اَساتذۂ کرام اور طلباء سے جواُنہوں نے خطاب فرمایا وہ پیش ِخدمت ہے۔ (اِدارہ) میں آپ کو اپنے دل کی طرف سے یہ یقین دلاناچاہتاہوں کہ انشاء اللہ جس راستے آپ چل رہے ہیں یہی راستہ کامیابی کاہے اِس میں ناکامی کاکوئی تصورنہیں ہے آپ کااُٹھنا بیٹھنا، چلنا پھرنا، دیکھناسننا یہ سب آپ کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ کامیابی یہ نہیں ہے کہ آپ کا محل بن جائے گااور کارآپ کے دروازے پرکھڑی ہوگی بلکہ کامیابی یہ ہے کہ جب آپ کاخاتمہ آجائے گا اور فُزْتُ بِرَبِّ الْکَعْبَةِ کہ جان تو جارہی ہے اور نعرہ یہ لگارہے ہیں اللہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا۔ اگراللہ کے دین کے راستے میں ہماری جان جاتی ہے اورآخری سانس اِسی پرمٹ جاتاہے توآپ سمجھیں کہ ہم سب کامیابی کے ساتھ گزررہے ہیں۔ میں آخرمیں یہی بات کہناچاہوں گامیں اپنے مخدوم حضرت مولانامحمودمیاں صاحب دامت برکاتہم کویہ یقین دہانی کراتاہوں میری راستے میںیہی بات ہورہی تھی وہ اِدارہ کی صورتِ حال بتارہے تھے کہ کس طرح ہم مالی مشکلات کاشکارہیں اورطلباء کس طرح خود اپنے طورپرایسی ایسی چیزیں بناکررات دن گزار رہے ہیں، میں نے کہا دُعاء کریں ہم ایک ایسامرکزبنانے جارہے ہیں اِس وقت لندن کے بعددُوسرابڑا شہر برمنگھم ہے۔ یوں تواکثر لوگ یہاں پاکستان میں رہنے والے لندن ہی کہتے ہیں لیکن لندن صرف ایک شہرکانام ہے پورے ملک کو دوہی نام دِیے جاتے ہیں یونائٹیڈ کنگڈم یا اِنگلینڈ۔ اگر یونائٹیڈ کنگڈم کہتے ہیں توپھر اُس میں آئرلینڈ اوراسکاٹ لینڈ شامل ہوتے ہیں اوراگرانگلینڈکہا جائے تویہ علاقے خارج ہو جاتے ہیں تولندن کے بعد دُوسرا بڑا شہر برمنگھم کا ہے، ایک طویل جدوجہدکے بعدجودَس سال پرمشتمل تھی۔ہم نے برمنگھم شہر میں بارہ کنال کی جگہ ایک اِدارے اورمرکزکے لیے لی ہے۔ اُس کا کام الحمدللہ شروع ہوچکا ہے پچھلے سومو ار اَٹھائیس