ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2007 |
¾اكستان Ù |
|
(٣٥) کھانے کی صرف چار چیزیں ہی حرام ہیں۔ خون، مردار، سور کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ۔ (٣٥) اِن کے علاوہ کھانے کی بہت سی اور چیزیں بھی حرام ہیں جیسے کُتے، درندوں، شکاری پرندوں اور پالتو گدھے کا گوشت وغیرہ۔ (٣٦) کئی انبیاء قتل ہوئے ہیں مگر کوئی رسول کبھی قتل نہیں ہوا۔ (٣٦) اَز رُوئے قرآن بہت سے نبیوں اور رسولوں دونوں کو قتل کیا گیا۔ (٣٧) عیسٰی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں (غامدی اور قادیانی وغیرہ) ۔ (٣٧) حضرت عیسٰی علیہ السلام آسمان پر زندہ اُٹھالیے گئے۔ وہ قیامت کے قریب دوبارہ دُنیا میں آئیں گے اور دَجال کو قتل کریں گے۔ (٣٥) ''اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں کے ذریعے اِسے (انسان کو) بتایا کہ سؤر، خون، مردار اور خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیے گئے جانور بھی کھانے کے لیے پاک نہیں ہیں اور انسان کو اِن سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اِس معاملے میں شریعت کا موضوع اصلاً یہ چار ہی چیزیں ہیں۔ قرآن نے بعض جگہ قُلْ لَّااَجِدُ فِیْمَا اُوْحِیَ اِلَیَّ اور بعض جگہ ''اِنَّمَا'' کے اَلفاظ میں پورے حصر کے ساتھ فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف یہی چار چیزیں حرام قرار دی ہیں۔'' (میزان ص ٣١١ طبع اپریل ٢٠٠٢ئ) (٣٦) ''اللہ تعالیٰ ان (رسولوں) کو کسی حال میں اُن کی تکذیب کرنے والوں کے حوالے نہیں کرتا۔ نبیوں کو ہم دیکھتے ہیں کہ اُن کی قوم اُن کی تکذیب ہی نہیں کرتی۔ بارہا اُن کے قتل کے درپے ہوجاتی ہے اور ایسا بھی ہوا ہے کہ وہ اِس میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ لیکن قرآن ہی سے معلوم ہوتا ہے کہ رسولوں کے معاملے میں اللہ کا قانون مختلف ہے۔'' (میزان حصّہ اوّل ص ٢١ مطبوعہ ١٩٨٥ئ) ۔ (٣٧) (الف) ''حضرت مسیح کو یہود نے صلیب پر چڑھانے کا فیصلہ کرلیا تو فرشتوں نے اُن کی رُوح ہی قبض نہیں کی، اُن کا جسم بھی اُٹھالے گئے کہ مبادا یہ سر پھری قوم اِس کی توہین کرے۔'' (میزان حصّہ اوّل ص ٢٢ مطبوعہ ١٩٨٥ئ) ۔ (ب) مسیح علیہ السلام کو جسم و رُوح کے ساتھ قبض کرلینے کا اِعلان کرتے ہوئے فرمایا:'' جب اللہ نے کہا: اے عیسٰی! میں تجھے قبض کرلینے والا ہوں...........'' (میزان حصّہ اوّل ص ٢٣، ٢٤ مطبوعہ ١٩٨٥ئ)