ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2007 |
¾اكستان Ù |
|
بجائے خود ہی اپنے دلائل اپنے نام سے دے رہا ہوں۔ اپنے اَکابر کا نام لے کر آپ سے اِن کی بھی تحقیر کیوں کرائوں۔ اور جس طرح آپ مجتہد ہیں میں بھی مجتہد بن کر جواب کیوں نہ لکھوں۔ میرے جواب میں نہ تعدی تھی نہ تحدی ،نہ رنگ ِ مناظرہ بلکہ میرا مقصد مذاکرہ تھا جو مفید ہوتا ہے۔ آپ نے یہ بھی غلط ہی سمجھا اور مذاکرہ کے فوائد کو مناظرہ کا نام دے کر ختم کرنے پر مجبور کردیا۔ (٣) آپ کی تحریر مکرر سے یہ اَنداز ہوتا ہے کہ آپ ابن ِ تیمیہ رحمة اللہ علیہ اور ابن ِ قیم رحمة اللہ علیہ کی تحریرات کو حرف ِ آخر مانتے ہیں حالانکہ یہ دونوں حضرات وسیع العلم ہونے کے ساتھ ساتھ متشدد بھی تھے۔ اِسی طرح حافظ ذہبی رحمہ اللہ رحمة واسعة بھی قدرے متشدد تھے۔ آپ نے دوبارہ بھی وہی عبارت نقل کردی جو پہلے لکھی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کہیں یہ عبارت دیکھی ہے اور ویسی کی ویسی ہی نقل فرمارہے ہیں۔ اجتہاد کا شوق اور سہولت پسندی غالب ہے۔ اُردو کی کتابوں سے اِستفادہ کرتے ہیں۔ اصل ماخذ کی طرف رُجوع نہیں کرتے یا اتنی اِستعداد نہیں۔ واللہ اعلم۔ جبکہ میں نے یہ عرض کیا تھا کہ آپ عبارت سیاق و سباق سمیت لکھیں تو اُس کے جواب میں کم از کم کتابوں کے حوالے کے لیے صفحہ کا نمبر تو تحریر فرمایا ہوتا۔ مثلاً شاہ ولی اللہ صاحب اور قرة العینین کا نام آپ نے نقل کردیا ہے لیکن قرة العینین اور اِزالة الخفاء دونوں میں اُنہوں نے خود یہ حدیث فضائل سیدنا علی کرم اللہ وجہہ' میں بیان فرمائی ہے۔ اور میزانُ الاعتدال میں اِس حدیث پر کہاں اعتراض ہے؟ وہاں اُنہوں نے حاکم کے بارے میں ابن ِ طاہر کے قول کا ردّ اِن الفاظ سے کیا ہے کہ ''اللہ تعالیٰ انصاف کو پسند کرتا ہے الخ پھر آخر میں حاکم کی تعریف کی ہے کہ اِن کا فی نفسہ سچا ہونا اور علم ِ حدیث کی معرفت تو یہ ایسا اَمر ہے کہ اِس پر سب کا اتفاق ہے۔'' جلد سوم میزان ص ٨٥ ۔اور موضوعات کبریٰ اور تدریب الراوی میں آپ کیا دِکھانا چاہتے ہیں؟ (٤) اگر یہ حدیث صحت کے درجہ کو نہیں پہنچتی تو کیا حدیث ِ حسن قابل ِ احتجاج نہیں ہوتی؟ اور دُنیا میں وہ کون محدث ہے جس نے حدیث ِ حسن کے بارے میں یہ کہا ہو کہ یہ قابل ِ استدلال نہیں ہوا کرتی اِس لیے علماء کی مجلس میں بیان نہ کرنی چاہیے اور ائمۂ متبوعین میں کون سا امام ایسا ہے جس نے حدیث ِ حسن سے احتجاج نہ کیا ہو ؟ (٥) آپ نے مانا ہے کہ حاکم نیسابوری واقعی اِن معنوں میں شیعہ نہیں تھے جیسے آجکل ہیں۔ اِس