ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2007 |
اكستان |
|
سلام کو برباد کیا ہے اور کررہا ہے اور کرنے کی قوت رکھتا ہے۔ دُنیا بھر میں اِس قوم کے علاوہ اور کسی ملک نے نہیں کیا۔ ہندو کی دُشمنی اُس کی دُشمنی کے سامنے ایسی ہے جیسا ذرہ پہاڑ کے مقابل ہوتا ہے اِس لیے انگریز کی مدد اور حمایت کرنا کسی حال میں دُرست اور جائز نہیں ،سخت حرام ہے۔ ٭ ہندو اگر جنگ ِ آزادی کررہے ہیں تو محض ملکی ضروریات کی بنا پر مگر ہمارے لیے تو ملک ،دین، سیاست، فقر و فاقہ وغیرہ سب اِسی کے متقاضی ہیں۔ ہندو اگر ہمارا خون چوسنا چاہتا ہے اور اِس کے بعد بھی چین سے نہیں بیٹھ سکتا تو انگریز تقریبًا تین سو برس سے ہمارا خون چوس رہا ہے اور باوجود ہر طرح سے ہر ملک میں فنا کردینے کے آج بھی اُس کو چین نہیں آیا۔ آج بھی علاوہ ہندوستان کے فلسطین اور سرحد ہم کو قتل و غارت کرتا ہے، ہندئووں کو بھی اَسی نے ہمارا دُشمن بنایا۔ انگریز سے پہلے ہندوستان میں اِس قدر نفرت نہ تھی۔ ٭ مسلمانوں کو غیر مسلموں کی رعایا بن کر رہنا چاہیے لَنْ یَّجْعَلَ اللّٰہُ لِلْکَافِرِیْنَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ سَبِیْلًا ۔ ٭ یہ دارُالاسلام تھا۔ انگریزوں نے ہجوم کرکے دارُالحرب بنایا۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ اِن کو نکالیں۔ ٭ مجھ کو اگر دُنیا اور مال کی فریفتگی ہوتی یا اَب ہو تو آج میں کم از کم سات آٹھ سو روپے ماہوار پاتا ہوتا اور ایک یا کئی کوٹھیوں کا مالک ہوتا۔ مجھ پر صدارت ِتدریس اور پرنسپلی کے عہدے مدارس عالیہ سلہٹ اور کلکتہ، ڈھاکہ وغیرہ میں پیش کیے گئے۔ اَولین تنخواہ 50 روپے پیش کی گئی 25 روپے کا اضافہ سالانہ تجویز کیا گیا مگر میں یہاں پڑا ہوں۔ ٭ جو حالت ملک کی اور بے اطمینانی اور اضطراب وغیرہ کی پیش آرہی ہے سب ہی جگہ درپیش ہے۔ قضا و قدر کی کارسازیوں میں کیا چارہ ہے؟ مَا اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِیْ اَنْفُسِکُمْ ۔ (الاٰیة) ٭ میں اَب بھی جمعیة علماء ہند کا ممبر ہوں جیسا کہ مالٹا کی واپسی کے بعد سے تھا اور ویسا ہی جمعیة کا خادم ہوں جیسا کہ سالہا سال سے چلا آرہا ہوں۔ میں حسب ِطاقت و ضرورت جمعیة علماء ہند کی خدمات انجام دے رہا ہوں اور مسلمانانِ ہند کے لیے ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ فردًا فردًا جمعیة علماء ہند کے ممبر بنیں