ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2007 |
اكستان |
|
میں فرق نہ ہو۔ ٭ ہم ضعیف ہیں مگر انشاء اللہ العزیز پلیگ کے کیڑے ہوکر گورنمنٹ کے موجودہ طریقہ اور جماعت کو وبا ء میں مبتلا کرکے ڈھائی گھڑی کی لگادیں گے۔ پڑا فلک کو ابھی دِل جلوں سے کام نہیں جلاکے خاک نہ کروں تو داغ نام نہیں ٭ مسلمانوں کی ہر قسم کی کمزوریاں اور اِنتشار اُن کی ترقی سے مانع ہی نہیں بلکہ اُن کو ایک ایسے میدان کی طرف دھکیل رہا ہے جس میں سوائے ہلاکت کے کوئی دُوسری صورت موجود نہیں ہے۔ دُوسری قومیں نہایت تیزی سے اپنی جتھابندی کرتی ہوئی گامزن ہیں اور ترقی کے ہر میدان میں ہر طرح بڑھتی جا رہی ہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے ہر قسم کی خلاف کوشش کرتی ہوئی سَدِّرَاہْ ہیں۔ ٭ مسلمانوں کی جان و مال، عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے ہر قوم اور ہر محلہ میں ایسے نوجوانوں کی باقاعدہ منظم جماعت ہونی چاہیے جوکہ ہر طرح حفاظت اور دیگر قومی خدمات کو باقاعدہ انجام دے سکے۔ چونکہ ہمسایہ قومیں بہت زیادہ جتھابندی کرری ہیں اور چھیڑ چھاڑ کرتی ہوئی مسلمانوں پر حملہ آور ہورہی ہیں اِس لیے مسلمانوں کی یہ تنظیم اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ ٭ میں نے کسی جگہ کتاب مذکور (نقش ِحیات جلد ثانی) میں اِس سیکولر اسٹیٹ کو دارُالاسلام نہیں لکھا ہے، نہ جمہور کے قول پر اور نہ حضرت شاہ صاحب کے قول پر۔ پھر میں نہیں سمجھتا کہ آپ کا یہ اعتراض کس طرح وَارد ہوتا ہے؟ ٭ مولانا اشرف علی صاحب زید مجدہم کے خیال سے اِن اُمور میں صرف میں ہی مخالف نہیں ہوں بلکہ حضرت مولانا شیخ الہند قدس اللہ سرہ' العزیز بھی خلاف تھے۔ خلافت کی تمام تحریک میں حضرت رحمة اللہ علیہ شریک ہونا، جد و جہد کرنا ضروری اور واجب سمجھتے تھے اور مولانا تھانوی اِس کو فتنہ و فساد اور حرام سمجھتے رہے۔ میں حضرت شیخ الہند رحمة اللہ علیہ کا ادنیٰ خادم اور اُن کی رائے کا متبع ہوں۔ باوجود اِس اختلاف کے میں مولانا تھانوی کا دُشمن نہیں۔ اُن کی بے ادبی نہیں کرتا اور اُن کو بڑا اور بزرگ جانتا ہوں۔ میرا خیال یہ ہے کہ مولانا اس اَمر میں غلطی پر ہیں۔ انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام کے علاوہ کوئی معصوم نہیں۔ ٭ رُوئے زمین پر اور ہندوستان میں سب سے بڑا دُشمن ِاسلام انگریز ہے۔ اُس نے جس قدر