ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2006 |
اكستان |
|
(٢) ایک مرتبہ حضور سرورِ عالم ۖ ممبر شریف پر چڑھ رہے تھے تو آپ ۖ نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا تو بلند آواز سے آمین کہا۔ پھر دوسری سیڑھی پر قدم رکھا تو بلند آواز سے آمین کہا۔ پھر تیسری سیڑھی پر قدم رکھتے وقت آمین کہا۔ صحابہ کرام نے خلاف ِ معمول بلند آواز سے آمین کہنے کی وجہ دریافت فرمائی تو آپ ۖ نے فرمایا اِس وقت میرے پاس جبرئیل علیہ السلام آئے تو اُنہوں نے کہا ''برباد اور ہلاک ہو وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا پھر بھی اُس نے اپنی مغفرت کا سامان نہ کیا (یعنی روزے نہ رکھے)'' دوسری مرتبہ آمین اس لیے کہی کہ جبرئیل علیہ السلام نے بد دُعا کی کہ'' وہ شخص ہلاک و برباد ہو جس کے سامنے آپ ۖ کا نام ِنامی آئے اور دُرود نہ بھیجے''۔ تیسری مرتبہ آمین کہنے کی وجہ یہ یبان فرمائی کہ جبرئیل علیہ السلام نے اُس شخص کے لیے بد دُعا فرمائی کہ'' جس شخص کے ماں باپ یا اُن میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچے پھر بھی اُنہوں نے اِس کو جنت میں داخل نہ کرایا''۔ آپ ۖ نے جبرئیل علیہ السلام کی بد دُعا پر تینوں مرتبہ آمین کہا۔ غور کریں بد دُعا کرنے والا جبرئیل علیہ السلام جیسا مقرب فرشتہ ہو اور آمین خدا کی ایسی مقرب اور برگزیدہ ہستی کی ہو تو ایسے شخص کی تباہی اور بربادی میں کچھ شبہ ہوسکتا ہے؟ دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر مسلمان کو ماہِ رمضان کے احترام اور روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔