ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اگست 2006 |
اكستان |
|
حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی کریم علیہ التحیة والتسلیم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : قیامت کے دن تین چیزیں عرش الٰہی کے نیچے ہوں گی۔ (ایک) قرآن جو بندوں سے جھگڑے گا، قرآن کے لیے ظاہر بھی ہے اور باطن بھی (دوسری) امانت (تیسری) رَحِم (رشتہ داری) جو پکارے گی کہ خبردار جس نے مجھے جوڑے رکھا اللہ تعالیٰ بھی اُسے جوڑے رکھیں گے اور جس نے مجھے توڑا اللہ تعالیٰ بھی اُسے توڑدیں گے۔ ف : حدیث پاک میں مذکور تین چیزوں کے قیامت کے دن عرش الٰہی کے نیچے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے روز اِن تین چیزوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور میں انتہائی قرب حاصل ہوگا اور اللہ تعالیٰ اِن کے حق کو اور اِن کے ثواب کو جو اِن پر عمل پیرا لوگوں کو ملے گا ضائع نہیں کریں گے۔ قرآن پاک کے بندوں سے جھگڑنے کا مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے اپنی دُنیاوی زندگی میں قرآن پاک کی تعظیم اور اُس پر عمل نہ کیا ہوگا قرآن کریم قیامت کے روز اُن سے جھگڑے گا یعنی اُن کو اللہ تعالیٰ سے اُس بدعملی کی سزا دِلوائے گا اور جن لوگوں نے اپنی دُنیاوی زندگی میں قرآن پاک کی تعظیم اور اُس پر عمل کیا ہوگا تو قرآن اُن کی طرف سے بھی جھگڑے گا یعنی بارگاہِ خداوندی میں اُن کی طرف سے وکالت اور اُن کی شفاعت کرے گا۔ ''قرآن کے لیے ظاہر بھی ہے'' کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک میں جو احکام وغیرہ بیان کیے گئے ہیں اُن کے معنی بالکل ظاہرا ور واضح ہیں جن کو اکثر لوگ سمجھتے ہیں۔ ان میں کسی غور و فکر اور تأمل و تدبر کی ضرورت نہیں، اسی طرح ''قرآن کے لیے باطن بھی ہے'' کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک کے کچھ معنی ایسے ہیں جنہیں سمجھنے کیلیے غور و فکر اور تأمل و تدبر کی ضرورت ہوتی ہے جنہیں ہر شخص نہیں سمجھ سکتا بلکہ خواص اور علماء ہی سمجھتے ہیں۔ امانت کے بارہ میں اس حدیث پاک میں کوئی تفصیل نہیں آئی، اس کے متعلق شارحین حدیث فرماتے ہیں کہ اِس کا تعلق قرآن سے بھی ہوسکتا ہے، اس صورت میں مطلب ہوگا کہ قرآن پاک کی طرح امانت بھی بندوں سے جھگڑے گی، اور اِس کا تعلق رَحِم یعنی رشتہ داری سے بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں مطلب ہوگا کہ رشتہ داری کی طرح امانت بھی پکارے گی۔