ماہنامہ انوار مدینہ لاہور ستمبر 2005 |
اكستان |
|
یہ ہے اصل مسئلہ کی حقیقت جس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اتنی بڑی غلط فہمی پیدا ہوتی ہے ، اور یہ ہے مطلب بعض اُن آیات وروایات کا جس کے ظاہر سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ تین یا اس سے زائد طلاق سے صرف ایک طلاق ہوتی ہے ۔ اِس حقیقت کو امام نووی نے شرح مسلم میں اور حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں اورحضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے ازالة الخفاء میں اورمولانا زکریا صاحب نے اوجز المسالک میں تفصیل سے تحریر فرماکر اصل حقیقت کو واضح فرمایا ہے۔ نیز حافظ ابن حجر نے علامہ قرطبی کے حوالہ سے نقل کرکے لکھا ہے کہ امام قرطبی نے اس تحقیق کو پسند فرمایا ہے ، اور امام نووی نے اس کو سب سے صحیح جواب قراردیاہے : ''ومنھا انہ ورد فی صورة خاصة وھی تکریر لفظ انت طالق ، انت طالق ، انت طالق ، وکانوا اولا علی سلامة صدورھم یقبل منھم أنھم ارادوا التاکید ، وھذا الجواب ارتضاہ القرطبی وقال النووی ھذا اصح الاجوبة'' (فتح الباری اوجز المسالک ٤/٤٢٥) '' فالاصح ان معناہ انہ کان فی الامور الاول اذا قال لھا انت طالق، انت طالق ، انت طالق ، ولم ینو تاکیدا ولا استینافاً یحکم بطلقة لقلة ارادتھم الاستیناف بذلک ... الخ '' (نووی شرح مسلم ١/٤٧٨) ''وقال الشیخ الشاہ ولی اللّٰہ الدھلوی فی ازالة الخفاء فیہ ثلاث تاویلات احدھا معناہ قول الرجل انت طالق ، انت طالق ، انت طالق ، کانوا فی الزمن الاول یصدقون فی انھم ارادوا واحدة فلما رای عمر فی زمانہ امور انکرھا الزمھم الثلاث '' (اوجز المسالک ٤/٤٢٥) ان عبارت کا حاصل اور خلاصہ وہی ہے جس کی تفصیل ماقبل میں گزرچکی۔ ( بشکریہ ماہنامہ ندائے شاہی ،مراد آباد،انڈیا )