Deobandi Books

استحضار عظمت الہیہ

ہم نوٹ :

17 - 42
نہیں؟ کیوں کہ اس کا ارادہ یہ ہے کہ بکرا تگڑا ہو جائے اور خوب مضبوط ہوجائے تو میں اس کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں عیدِقربان کے دن قربانی کروں گا۔ تو اپنے نفس کو بھی اس نیت سے اچھا کھلائے کہ اس سے خوب عبادت کرائیں گے، خوب محنت کرائیں گے اور اسے اللہ پر فدا کریں گے لیکن جو بکرے کو اچھا کھلائے تو اس پر فرض ہے کہ اس کو زہر کھلانے سے بھی بچائے۔
جو کہا گیا اور سنا گیا اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے قبول فرمائے اور اللہ ہی کا سہارا ہے، سچ کہتا ہوں مجھے اپنی تقریر کا بھی سہارا نہیں ہے، اللہ! آپ ہی کے کرم کا سہارا ہے، آپ کی یاری کا ہی سہارا ہے، ہماری اشکباری اور آہ وزاری بھی آپ کی محتاجِ یاری ہے، اگر آپ توفیق نہ دیں تو یہ نعمت ہم کو نہ ملے۔ اے اللہ! ہم سب بے وطن ہیں، اپنے گھر اور بال بچوں سے دور ہیں، ہم سب آپ ہی کے لیے اپنے گھروں سے دور ہیں، ہم بے وطنوں اور غریب الوطنوں پر آپ اپنی رحمت کی بارش فرمادیجیے اور سمندر جو آپ کی اتنی عظیم مخلوق ہے اپنی اس خلّاقیتِ عظمیٰ کے صدقے میں ہم مچھروں کو معاف بھی فرمادیجیے اور پاک بھی فرما دیجیے اور اس پاکی پر دوام بھی نصیب فرمائیے اور ہمیں ایسا ایمان و یقین اور اپنی محبت نصیب فرما دیجیے کہ اے خدا! ہم سب کی ہر سانس آپ پر فدا ہو، ایک سانس بھی ہم آپ کو ناراض کرکے گناہوں کا زہر نہ کھائیں، آپ کے ذِکر کی غذا کھائیں اور حلال نعمتیں بھی کھائیں مگر اپنے دل میں آپ کو ناراض کرکے کوئی حرام خوشی نہ لائیں کیوں کہ اس میں برکت نہیں ہے، اللہ کی ناراضگی میں کیسے برکت ہوسکتی ہے؟
 بس دوستو! یہی ایک عمل کرلو کہ عمل نہ کرو، یہی ایک کام کرلو کہ کام نہ کرو، یہی ایک مجاہدہ کرلو کہ مجاہدہ نہ کرو یعنی گناہ کی تکلیفیں نہ اٹھاؤ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو صاحبِ تقویٰ اور صاحبِ نسبتِ اولیائے صدیقین بنادے جو اولیاء اللہ کا سب سے آخری مقام ہے جس کے آگے پھر نبوت شروع ہوتی ہے۔ اے خدا! ہم سب کو ولایت کے اس دروازے تک پہنچا دے جو آپ نے کھولا ہوا ہے، ہم اپنی نالائقی سے آپ کے کھولے ہوئے دروازے تک نہیں پہنچ رہے ہیں۔ آپ ہم سب کو ہمت و توفیق دیجیے کہ ہم آپ کی رحمت سے اولیائے صدیقین کی خط منتہا تک رسائی حاصل کرلیں، اور ایک لمحہ بھی نہ میں آپ کو ناراض کروں، نہ میری اولاد آپ کو ناراض کرے، نہ میرے احباب آپ کو ناراض کریں کیوں کہ مجھے غم ہوتا ہے اور ہر
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 عشق و محبت بھی تابع شریعت ہو 6 1
3 غیبت سے بچنے کا طریقہ 7 1
4 اصلی پاسِ انفاس کیا ہے؟ 8 1
5 تعلق مع اللہ کی دولت تمام نعمتوں سے بڑھ کر ہے 11 1
6 وسوسوں کا علاج 12 1
7 وضو کے بارے میں وسوسے 14 1
8 موت کے وقت شیطانی وسوسے 14 1
9 حصولِ دین کے لیے مجاہدات کی اہمیت 14 1
10 اللہ کے عاشقوں کی مراد صرف اللہ ہے 15 1
11 ( ماریشس کے جنگل میں ) 19 1
12 اولیائے صدیقین کا مقام 19 1
13 شیخ کی صحبت حصولِ تقویٰ کا سبب ہے 20 1
14 راہِ سلوک میں مجاہدہ 22 1
15 (سمندر کے کنارے دیگر ملفوظات) 23 1
16 اہل اللہ کی صحبت کے ثمرات 24 1
17 حصولِ ایمانِ کامل کے لیے طلبِ رحمتِ الٰہیہ 25 1
18 لذّتِ نامِ خدا بقدرِ مجاہدہ عطا ہوتی ہے 25 1
19 آیت فَاذۡکُرُوۡنِیۡ اَذۡکُرۡکُمۡ کی ایک منفرد شرح 27 1
20 مہربانی بقدرِ قربانی 28 1
21 سلطان ابراہیم ابنِ ادہم کی قربانی 29 1
22 نظر بچانے کے لیے لذّتِ بصارت کی قربانی 30 1
23 امام احمد ابن حنبل کی قربانی 31 1
24 راہِ خدا میں خرچ کی فضیلت 32 1
25 غیر اللہ کو مراد بنانے والا نامرادِ سلوک ہے 32 1
26 مولیٰ والا لیلیٰ کے حسن کا نمک چور نہیں ہوتا 34 1
27 تواضع کی حقیقت 35 1
28 راہِ فنا میں صحبتِ شیخ کی اہمیت 36 1
29 خدا کو مراد بنانے کے لیے غیر اللہ سے جان چھڑانا ضروری ہے 37 1
30 حفاظتِ نظر کے نسخے 38 1
Flag Counter