استحضار عظمت الہیہ |
ہم نوٹ : |
|
طاری ہوتی ہے کہ میں نے دو ماہ تک مارے ڈر کے آسمان نہیں دیکھا، اﷲ کی عظمت اتنی غالب ہوئی کہ میں آسمان کی طرف دیکھ نہیں سکا،اتنی ہیبت طاری ہوتی تھی کہ ایسا لگتا تھا جیسے کوئی بادشاہ آرہا ہے۔ حضرت نے اپنے شیخ حکیم الامت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کو خط لکھا، حکیم الامت رحمۃ اللہ علیہ نے ان کا خط پڑھ کر اپنی مجلس میں سنایا کہ اعظم گڑھ سے ایک خط آیا ہے، اس میں لکھا ہے کہ جب میں زمین پر چلتا ہوں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں آخرت کی زمین پر چل رہا ہوں۔ حضرت تھانوی نے فرمایا کہ یہ صاحب اس زمانے کے صدیقین کا ایمان رکھتے ہیں کہ جس کو دنیا کی زمین آخرت کی زمین معلوم ہو۔ جب حضرت تھانوی کسی کام سے گھر چلے گئے تو ضلع سلطان پور کے حاجی عبد الواحد صاحب نے چپکے سے اس خط کو دیکھ لیا۔ ایک مرتبہ میرے شیخ نے مجھے سلطان پور ایک کام سے بھیجا تو حاجی عبد الواحد صاحب نے مجھے بتایا کہ میں تمہارے شیخ مولانا عبدالغنی صاحب کا ایک مقام بیان کرتا ہوں اور پھر سارا قصہ سنا کر کہا کہ میں نے خط دیکھا تو اس میں تمہارے شیخ کا نام لکھا ہوا تھا۔ شیخ کی صحبت حصولِ تقویٰ کا سبب ہے اسی لیے عرض کرتا ہوں کہ جب شیخ کے ساتھ رہو، پیر کے ساتھ رہو، مُربّی کے ساتھ رہو تو علم کے اضافہ کے لیے مت رہو اگر چہ علم حاصل ہو مگر نیت یہ نہ کرو بلکہ نیت یہ ہونی چاہیے کہ استحضارِ عظمتِ الٰہیہ، عطائے کیفیتِ احسانیہ اور بقائے کیفیتِ احسانیہ اور ارتقائے کیفیتِ احسانیہ حاصل ہو ورنہ ایک آدمی جو صرف ملفوظات نوٹ کرتا ہے وہ کہے گا کہ شیخ کے پاس کیا ہے؟ وہاں تو ہر وقت یہی بیان ہوتا رہتا ہے لہٰذا الفاظ کومت دیکھو،تکرارِ علم کو مت دیکھو، تقویٰ کو دیکھو اور اپنے علم کو دیکھو کہ میرا کتنا علم عمل سے مقرون ہے اور کتنا علم عمل سے محروم ہے، کیفیتِ احسانیہ اور تعلق مع اللہ کی قوت معلوم کو معمول بناتی ہے، یہ ہمارے علم کو عمل تک پہنچاتی ہے، یہ پیٹرول ہے، روشنی ہے، راستہ دیکھ تو رہے ہیں مگر موٹر میں پیٹرول نہیں ہے، روشنی تو ہے، راستہ نظر تو آرہا ہے کیوں کہ علم ہمیں راستہ دکھاتا ہے مگر ہمیں عمل تک اللہ والوں کی صحبت پہنچاتی ہے۔ قطب العالم حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ کا ارشاد