درس مثنوی مولانا روم رحمہ اللہ |
ہم نوٹ : |
|
مجلسِ درسِ مثنوی ۱۶؍شعبان المعظم ۱۴۱۸ھ مطابق ۱۷؍دسمبر ۱۹۹۷ء بروز چہار شنبہ بعد فجر بمقام خانقاہ امدادیہ اشرفیہ، گلشن اقبال ،کراچی چیست دنیا اَز خدا غافل بُدَن نے قماش و نقرہ و فرزند و زَن ارشاد فرمایا کہ مولانا رومی نے اس شعر میں دنیا کی حقیقت بیان فرمادی کہ دنیا کس چیز کا نام ہے۔ بعض نادان لوگ کہتے ہیں کہ دنیا کو لات مارو، دنیا کو لات مارو۔ میں کہتا ہوں کہ اگر پیسہ نہ ہو، روٹی نہ ملے تو دنیا کو لات مارنے کےلیےلات بھی نہیں اُٹھے گی۔ معلوم ہوا کہ مال و دولت کا نام دنیا نہیں ہے پھر دنیا کس چیز کا نام ہے۔ مولانا رومی ایک ہی مصرع میں سوال قائم فرماتے ہیں اور اسی مصرع میں جواب بھی دیتے ہیں ؎ چیست دنیا؟ اَز خُدا غافل بُدَن فرماتے ہیں دنیا کیا چیز ہے؟ اللہ تعالیٰ سے غافل ہوجانا۔ خُدا سے غافل ہوجانے کا نام دنیا ہے۔ نے قماش و نقرہ و فرزند و زن قماش معنیٰ کپڑا۔ کپڑے، چاندی سونا، مال و دولت اور بیوی بچے دنیا نہیں ہیں۔ اگر یہ چیزیں کسی کو اللہ سے غافل نہیں کرتیں اور اللہ کی مرضی کے مطابق دنیا رکھتا ہے، اپنی دنیا کو اللہ کی نافرمانی میں نہیں لگاتا تویہ شخص اللہ والا ہے، ہر گز دنیا دار نہیں۔ اور ایک شخص مُفلس ہے، تنگی ترشی اور فاقوں میں زندگی گزارتا ہے لیکن اللہ سے غافل ہے، نافرمانی میں مبتلا ہے یہ شخص پکا دنیا دار ہے۔ معلوم ہوا کہ عین امارت اور بادشاہت میں آدمی دیندار اور ولی اللہ ہوسکتا ہے اور عین مُفلسی اور فاقہ کشی میں اللہ سے دور اور پکّا دنیا دار ہوسکتا ہے۔ اسی لیے مولانا نے غفلت من اللہ کو فرمایا کہ یہ دنیا ہے نہ کہ مال و دولت