المشتري ۔(۶۵۲) قال إلا أن یوکلہما بالخصومۃ ۱؎ لأن الاجتماع فیہا متعذر للإفضاء إلی الشغب في مجلس القضاء والرأي یحتاج إلیہ سابقا لتقویم الخصومۃ (۶۵۳)قال أو بطلاق زوجتہ بغیر عوض أو بعتق عبدہ بغیر عوض أو برد ودیعۃ عندہ أو قضاء دین علیہ۱؎ لأن ہذہ الأشیاء لا یحتاج فیہا إلی الرأي بل ہو تعبیر محض وعبارۃ المثنی والواحد سواء۔۲؎ وہذا
سے اچھا مشتری تلاش کرنے میں مدد ملے گی ۔
ترجمہ : (٦٥٢) مگر یہ کہ دونوں کو وکیل بنائے مقدمہ کے لئے۔] تو ایک وکیل کا مقدمہ لڑ لینا کافی ہے [
ترجمہ : ١ اس لئے کہ قضا کی مجلس میں دونوں کا جمع ہونا متعذر ہے اس لئے کہ مجلس میں شور و شغف ہوگا ، باقی رہی رائے دینا تو مقدمہ سے پہلے اس کی ضرورت پڑتی ہے تاکہ مقدمہ صحیح رخ پر دائر ہو ۔
تشریح : یہاں پانچ مثالیں دی ہیں ان سب کا حاصل یہ ہے کہ جن کاموں میں رائے کی ضرورت نہیں ہے صرف موکل کی بات پیش کرنا ہے ان میں اگر دو آدمیوں کو وکیل بنایا اور ایک وکیل نے کام کر لیا تب بھی درست ہو جائے گا۔ مثلا اگر خصومت کے لئے دو آدمیوں کو وکیل بنایا اور دونوں مجلس قضاء میں بولنے لگیں تو شور ہوگا اور آداب مجلس کے خلاف ہے۔اس لئے ایک وکیل کا بولنا کافی ہے۔ اور دونوں کی رائے تو مقدمہ دائر کرنے سے پہلے لی جائے گی تاکہ صحیح رخ پر مقدمہ دائر کیا جا سکے ۔
لغت : افضاء : پہنچائے گا ۔شغب : شور شغب ۔تقویم الخصومة : مقدمہ صحیح کرنے کے لئے ۔
ترجمہ:(٦٥٣)یا بغیر عوض کے اپنی بیوی کو طلاق دینے کے لئے یا بغیر عوض کے اپنے غلام کو آزاد کرنے کے لئے یا اس کے پاس جو امانت تھی اس کو واپس کرنے کے لئے یا اس پر جو قرض تھا اس کو ادا کرنے کے لئے ۔
ترجمہ : ١ اس لئے کہ ان چیزوں دوسرے کی رائے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ان میں موکل کی جانب سے محض تعبیر ہے ، اس لئے دو وکیلوں کی بات اور ایک وکیل کی بات برابر ہے ۔
تشریح : اسی طرح بغیر عوض کے بیوی کو طلاق دینا ہے تو چونکہ عوض نہیں لینا ہے صرف شوہر کی بات کو نقل کرنا ہے جس سے طلاق واقع ہو جائے گی۔اس لئے اس میں دوسرے وکیل کے مشورے کی چنداں ضرورت نہیں اس لئے ایک ہی وکیل کام کر لے تو درست ہے۔بغیر عوض کے غلام آزاد کرنے میں بھی یہی حال ہے۔ اپنے پاس کسی کی امانت ہے اس کو واپس بہر حال کرنا ہے اس لئے دوسرے وکیل کی رائے کی ضرورت نہیں۔یا قرض ادا کرنا ہے جو بہر حال کرنا ہی ہے اس لئے دوسرے وکیل کے مشورے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔اس لئے ایک وکیل کردے تو درست ہو جائے گا۔
ترجمہ : ٢ بخلاف اگر دو وکیلوں سے کہا کہ اگر تم دسونوں چاہو تو عورت کو طلاق دے دو ، یا کہا کہا کہ عورت کا معاملہ تم