للحرمة فلابد من تقدیمہا علی الوطی لیکون الوطی حلالا(١٩٩٨)قال وتجزی فی العتق الرقبة الکافرة والمسلمة والذکروالانثیٰ والصغیر والکبیر) ١ لان اسم الرقبة یطلق علیٰ ہولاء اذہی عبارة عن الذات المرقوق المملوک من کل وجہ ٢ والشافعی یخالفنافی الکافرة ویقول الکفارة حق اللٰہ تعالیٰ فلایجوزصرفہ الیٰ عدواللٰٰہ کالزکوة
میں بھی ہو نا چاہئے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ظہار کرنے سے جو حرمت پیدا ہوئی ہے کفارہ دینا اس حرمت کو ختم کرے گا تب وطی حلال ہو گی ، اس لئے کھانا کھلانا بھی وطی سے پہلے ہو نا چاہئے ۔
وجہ: اس اثر میں اس کا ثبوت ہے ۔عن الزھری و قتادة قالا العتق فی الظہار و الطعام و الصیام من قبل ان یتماسا۔ ( مصنف عبد الرزاق ، باب التکفیر قبل ان یتماسا ، ج سادس ، ص ٣٢٨، نمبر ١١٥٤٤) اس اثر میں ہے کہ آزاد کرنا اور روزہ رکھنا ، اور کھانا کھلانا سب وطی سے پہلے ہو نا چاہئے ۔
لغت: المسیس : چھونا،مراد ہے صحبت کرنا۔ منہیة: آخری تک پہونچانے والی چیز، ختم کرنے والی چیز۔
ترجمہ: (١٩٩٨)اور کافی ہے اس میں کافر غلام کا آزاد کرنا اور مسلمان کا اور مذکر کا اور مؤنث کا اور چھوٹے کا اور بڑے کا۔
ترجمہ: ١ اس لئے کہ آیت میں رقبہ کا نام سب کو عام ہے اور ان سب پر بولا جاتا ہے اس لئے کہ رقبہ کا ترجمہ ہے جو مرقوق ہو ہر اعتبار سے مملوک ہو ] اس لئے ان سب کے آزاد کرنے سے کفارہ ادا ہو جائے گا [
تشریح : کفارۂ ظہار میں غلام آزاد کرنا ہے ۔لیکن حنفیہ کے نزدیک ہر قسم کا غلام باندی آزاد کرنا جائز ہے۔کفارۂ قتل کی طرح مؤمن ہونا ضروری نہیں ہے۔ چاہے وہ مسلمان ہو چاہے کافر ہو ، چاہے مذکر ہو چاہے مونث ہو چاہے چھوٹا ہو چاہے بڑا ہو ، کیونکہ ان تمام کو غلام کہتے ہیں اور آیت میں مطلق غلام آزاد کرنے کے لئے کہا ہے اس لئے ان سب سے کفارہ ادا ہو جائے گا ۔
وجہ: اوپر کی آیت میں تحریر رقبة ہے۔جو کافر اور مؤمن کو عام ہے۔اس لئے دونوں غلام کافی ہوںگے۔البتہ مومن آزاد کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ترجمہ: ٢ امام شافعی ہماری مخالفت کرتے ہیں کافر کے بارے میں ، اور وہ فرماتے ہیں کہ کفارہ اللہ تعالی کا حق ہے اس لئے زکوة کی طرح اللہ کے دشمن کی طرف پھیرنا جائز نہیں ۔
تشریح : امام شافعی فر ماتے ہیں کہ کفارہ ظہار میں مومن غلام ہی آزاد کرنا ہو گا کافر غلام کافی نہیں ہے ۔ موسوعة میں ہے ۔علی ان لا یجزی رقبة فی الکفارة الا مومنة کما شرط اللہ عزوجل العدل فی الشہادة فی موضعین۔ ( موسوعة امام شافعی ، باب عتق المومنة فی الظہار ، ج ١حدی عشرة ، ص ٤٨٦، نمبر ٢٠٤١٧) اس عبارت میں ہے کہ مومن کے علاوہ کوئی اور غلام آزاد