٣ وہذا لانہ جنایة لکو نہ منکر ا من القول و زو را فینا سب المجازاة علیہا با لحرمة وارتفا عہابالکفارة ٤ ثم الوطی اذا حرم حرم بدواعیہ کیلا یقع فیہ کما فی الاحرام بخلا ف الحا ئض والصائم لانہ یکثر و جودہما فلو حرم الدواعی یفضی الی الحرج و لا کذلک الظہار والاحرام(١٩٨٣)فان وطیہا قبل ان یکفر استغفراللہ تعا لی ولا شٔ علیہ غیر الکفارة الا ولی ولا یعاود حتی یکفر)
ترجمہ: ٣ اور یہ اس وجہ سے ہے کہ ظہار جرم ہے ، کیونکہ یہ فحش اور جھوٹ ہے پس مناسب ہے کہ مرد کو اس کے کہنے پر حرام کئے جانے سے سزا دی جائے اور اس حرمت کا دور ہو نا کفارے کے ساتھ ہے ۔
تشریح: لفظ ظہار سے حرمت موقت کیوں ثابت ہو تی ہے اس کی وجہ بیان کی جا ر ہی ہے ، کہ بیوی کو حرمت میں ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دینا ، اور بیوی کو ماں کی طرح حرام سمجھنا ایک نا مناسب بات ہے ، اور جھوٹ بھی ہے ، کیونکہ بیوی تو حلال ہے وہ ماں کی پیٹھ کی طرح حرام نہیں ہے اس لئے اس کی سزا یہ ہو گی کہ کفارہ ادا کرنے تک بیوی حرام قرار دے دی گئی ، اب کفارہ سے یہ حرمت اٹھے گی ۔
وجہ : اس آیت میں بیوی کو ماں کے ساتھ تشبیہ دینے میں قول زور کہا ہے ۔ الذین یظاھرون منکم من نسائھم ما ھن أمھاتھم ان امھاتھم الا الآیء ولدنھم و انھم لیقولون من القول و زورا و ان اللہ لعفو غفور o۔ (آیت٢ ٤٣ سورة ،المجادلة ٥٨)۔
ترجمہ: ٤ پھر جب وطی جب حرام ہوئی تو اس کی دواعی بھی حرام ہوئی ، تاکہ حرمت میں نہ پڑے جیساکہ احرام کی حالت میں ہے ، بخلاف حائضہ عورت کے اور روزے دار کے اس لئے کہ اس کا پایا جانا زیادہ ہو تا ہے پس اگر دواعی حرام کر دی جائے تو حرج تک پہونچائے گا ، اور ظہار اور احرام ایسا نہیں ہے ۔
تشریح : ظہار میں اور احرام کی حالت میں وطی بھی حرام ہے اور وطی کی طرف پہونچانے والی چیز مثلا بوسہ دینا ، شہوت سے چھونا سب حرام ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں امور کبھی کبھار پیش آتے ہیں اس لئے دواعی وطی سے روکنے سے کوئی حرج نہیں ہے ، دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر دواعی حرام نہ کریں تو وطی کرکے حرام میں مبتلاء ہو سکتا ہے اس لئے دواعی وطی سے بھی روک دیا گیا ۔ اس کے برخلاف حائضہ عورت سے وطی کر نا حرام قرار دیا گیا ہے لیکن اس سے دواعی وطی کر سکتا ہے ، اسی طرح جو عورت روزہ دار ہو اس سے وطی تو نہیں کر سکتا لیکن دواعی وطی کر سکتا ہے ، کیونکہ یہ بار بار پیش آتا ہے اس لئے اگر اس میں دواعی وطی حرام کر دی جائے تو حرج میں مبتلا ہو جائے گا اس لئے یہاں دواعی وطی جائز رکھا ہے ۔
ترجمہ:(١٩٨٣)پس اگر صحبت کر لی کفارہ دینے سے پہلے تو اللہ سے استغفار کرے اور اس پر کوئی چیز نہیں ہے پہلے کفارہ کے علاوہ، اور جب تک کہ کفارہ نہ ادا کر ے دوبارہ وطی نہ کرے ۔