Deobandi Books

اثمار الہدایہ شرح اردو ہدایہ جلد 5

209 - 508
٣  وہذا لانہ جنایة لکو نہ منکر ا من القول و زو را فینا سب المجازاة علیہا با لحرمة وارتفا عہابالکفارة  ٤  ثم الوطی اذا حرم حرم بدواعیہ کیلا یقع فیہ کما فی الاحرام بخلا ف الحا ئض والصائم لانہ یکثر و جودہما فلو حرم الدواعی یفضی الی الحرج و لا کذلک الظہار والاحرام(١٩٨٣)فان وطیہا قبل ان یکفر استغفراللہ تعا لی ولا شٔ علیہ غیر الکفارة الا ولی ولا یعاود حتی یکفر)

ترجمہ:  ٣  اور یہ اس وجہ سے ہے کہ ظہار جرم ہے ، کیونکہ یہ فحش اور جھوٹ ہے پس مناسب ہے کہ مرد کو اس کے کہنے پر حرام کئے جانے سے سزا دی جائے اور اس حرمت کا دور ہو نا کفارے کے ساتھ ہے ۔ 
 تشریح:  لفظ ظہار سے حرمت موقت کیوں ثابت ہو تی ہے اس کی وجہ بیان کی جا ر ہی  ہے ، کہ بیوی کو حرمت میں ماں کی پیٹھ سے تشبیہ دینا ، اور بیوی کو ماں کی طرح حرام سمجھنا ایک نا مناسب بات ہے ، اور جھوٹ بھی ہے ، کیونکہ بیوی تو حلال ہے وہ ماں کی پیٹھ کی طرح حرام نہیں ہے اس لئے اس کی سزا یہ ہو گی کہ کفارہ ادا کرنے تک بیوی حرام قرار دے دی گئی ، اب کفارہ سے یہ حرمت اٹھے گی ۔ 
وجہ : اس آیت میں بیوی کو ماں کے ساتھ تشبیہ دینے میں قول زور کہا ہے ۔  الذین یظاھرون منکم من نسائھم ما ھن أمھاتھم ان امھاتھم الا الآیء ولدنھم و انھم لیقولون من القول و زورا و ان اللہ لعفو غفور o۔ (آیت٢ ٤٣ سورة ،المجادلة ٥٨)۔
 ترجمہ:  ٤   پھر جب وطی جب حرام ہوئی تو اس کی دواعی بھی حرام ہوئی ، تاکہ حرمت میں نہ پڑے جیساکہ احرام کی حالت میں ہے ، بخلاف حائضہ عورت کے اور روزے دار کے اس لئے کہ اس کا پایا جانا زیادہ ہو تا ہے پس اگر دواعی حرام کر دی جائے تو حرج تک پہونچائے گا ، اور ظہار اور احرام ایسا نہیں ہے ۔ 
 تشریح :   ظہار میں اور احرام کی حالت میں وطی بھی حرام ہے اور وطی کی طرف پہونچانے والی چیز مثلا بوسہ دینا ، شہوت سے چھونا سب حرام ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں امور کبھی کبھار پیش آتے ہیں اس لئے دواعی وطی سے روکنے سے کوئی حرج نہیں ہے ، دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر دواعی حرام نہ کریں تو وطی کرکے حرام میں مبتلاء ہو سکتا ہے اس لئے دواعی وطی سے بھی روک دیا گیا ۔ اس کے برخلاف حائضہ عورت سے وطی کر نا حرام قرار دیا گیا ہے لیکن اس  سے دواعی وطی کر سکتا ہے ، اسی طرح جو عورت روزہ دار ہو اس سے وطی تو نہیں کر سکتا لیکن دواعی وطی کر سکتا ہے ، کیونکہ یہ بار بار پیش آتا ہے  اس لئے اگر اس میں دواعی وطی حرام کر دی جائے تو حرج میں مبتلا ہو جائے گا اس لئے یہاں دواعی وطی جائز رکھا ہے ۔ 
 ترجمہ:(١٩٨٣)پس اگر صحبت کر لی کفارہ دینے سے پہلے تو اللہ سے استغفار کرے اور اس پر کوئی چیز نہیں ہے پہلے کفارہ کے علاوہ، اور جب تک کہ کفارہ نہ ادا کر ے دوبارہ وطی نہ کرے ۔  

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 بابُ تفویض الطلاق 8 1
3 فصل فی الاختیار 8 2
4 تفویض طلاق کا بیان 8 3
5 فصل فے الامر بالید 22 3
6 فصل فی المشیۃ 35 3
7 باب الایمان فی الطلاق 61 1
9 فصل فی الاستثناء 89 7
10 باب طلاق المریض 94 1
11 باب الرجعة 114 1
12 فصل فیما تحل بہ المطلقة 142 11
14 باب الایلاء 156 1
15 باب الخلع 177 1
16 باب الظہار 207 1
17 فصل فی الکفارة 220 16
18 با ب اللعان 251 1
19 باب العنین وغیرہ 280 1
20 اسباب فسخ نکاح 295 1
21 فسخ نکاح کے اسباب 295 20
22 باب العدة 324 1
23 فصل فی الحداد 357 22
24 سوگ منانے کا بیان 357 23
25 باب ثبوت النسب 379 1
26 ثبوت نسب کا بیان 379 25
27 باب حضانة الولد ومن احق بہ 408 1
28 حضانت کا بیان 408 27
29 فصل بچے کو باہر لیجانے کے بیان میں 424 27
30 باب النفقة 428 1
31 فصل فی نفقة الزوجة علی الغائب 455 30
32 فصل کس طرح کا گھر ہو 455 30
33 فصل فی نفقة المطلقة 467 30
34 فصل مطلقہ عورت کا نفقہ 467 30
35 فصل فی نفقة الاولاد الصغار 475 30
36 فصل چھوٹے بچوں کا نفقہ 475 30
37 فصل فی من یجب النفقة و من لا یجب 483 30
38 فصل والدین کا نفقہ 483 30
40 فصل فی نفقة المملوک 504 30
Flag Counter