Deobandi Books

العلم و الخشیۃ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

30 - 37
واقعی آج کل کوئی مولوی کسی رئیس سے ملنے جاتا ہے تو اس کو اول یہ خیال آتا ہے کہ شاید چندہ کا سوال ہوگا ۔ اس لیے میں کہتا ہوں کہ علماء یہ کام ہر گز نہ کریں بلکہ رؤساء وعوام خود چندہ کریں اور مولویوں سے دین کا کام لیں۔
مگر آج کل تو علماء کی مثال ڈوم کے ہاتھی جیسی ہورہی ہے کہ اکبر نے ایک ڈوم کو انعام میں ہوتھی دے دیا تھا ۔ وہ بڑا گھبرایا کہ اس کا خرچ کہاں سے لاؤں گا۔آخر ایک دن اکبر کی سواری نکلنے والی تھی آپ نے ہاتھی کے گلے میں ڈھول ڈال کر راستہ میں چھوڑ دیا ۔ اکبر نے دیکھا کہ شاہی ہاتھی گلے میں ڈھول ڈالے ہوئے پھر رہا ہے ۔ پوچھا یہ کیا قصہ ہے ، ڈوم کو بلایا گیا کہ تم نے اس ہاتھی کے گلے میں ڈھول کیوں ڈالا ہے ؟ کہا حضور! آپ نے مجھے ہاتھی تو دے دیااب میں اسے کھاتا پلاتا کہاں سے  میں نے اس سے کہا کہ بھائی میں تو گا بجا کر کھاتا ہوں تو بھی گلے میں ڈھول ڈال کر گا بجا کر اپنا پیٹ بھر لے ۔اکبرہنس پڑا اور ڈوم کو اس کی امداد کے لیے بھی عطا فرمادیا۔
یہی حال آج کل مولویوں کا ہے کہ لوگوں نے ان کے گلے میں ڈھول ڈال دیا ہے کہ جاؤ گاؤ بجاؤ اور روپیہ جمع کرکے خود ہی سب کام کرو۔ یاد رکھو ایک جماعت سے دو کام نہیں ہوسکتے ۔کام کا طریقہ یہی ہے کہ روپیہ تم خود جمع کرواور مولویوں سے صرف دین کا کام لو ۔ بلکہ روپیہ جمع کر کے اپنے پاس رکھو۔ علماء کو روپیہ دو بھی نہیں ۔ کیونکہ آج کل بہت لوگ جو واقع میں مولوی نہیں تھے مگر مولویوں میں جا گھسے تھے ۔ انہوں نے مسلمانوں کے چندوں میں بہت خیانتیں کی ہیں جس سے مولوی بدنام ہوگئے۔
اس لیے میری رائے یہ ہے کہ رؤسا چندہ کر کے اپنے ہی پاس رکھیں مولویوں کو نہ دیں ۔ کیونکہ اس سے علماء پر دھبہ آتا ہے ۔ تو کیا آپ کو یہ گوارا ہے کہ آپ کے علماء بدنام ہوں ۔ ہرگز نہیں۔آپ کو تو چاہئے کہ اگر علماء چندہ کرنا بھی چاہیں تو آپ ان کو خود روکیں کہ یہ کام آپ کے مناسب نہیں۔یہ کام ہم خود کریں گے ۔
بلکہ ایک صورت سب سے اچھی یہ ہے کہ ایک ایک رئیس ایک مبلغ کی تنخواہ اپنے ذمہ کر لے ۔ اس میں کسی جھگڑے ہی کی ضرورت نہیں ۔اور اگر ایک آدمی ایک مبلّغ کی تنخواہ نہ دے سکے تو دو چار مل کر ایک مبلّغ رکھ لیںاور اس کا حساب اپنے پاس رکھیں ۔ یہ صورت تو روپیہ کے انتظام کی ہے۔ 
تبلیغ کا طریقہ
رہا تبلیغ کاقاعدہ اور طریقہ ، یہ علماء کی رائے سے ہونا چاہئے تم روپیہ جمع کرکے علماء سے طریقہ پوچھو اور مبلّغ بھی انہی کی رائے سے مقرر کرو۔اس مشورہ کے لیے ایک کمیٹی بناؤ ۔ علماء کو اس میں مشورہ اور رائے دینے سے انکار نہ ہوگا اور میں علماء سے بھی کہتا ہوں کہ وہ اس سے انکار نہ کریں ۔ پھر اس طرح اﷲ کانام لے کر کام شروع کریں ۔ انشاء اﷲ بہت جلد کامیابی ہوگی۔گو 
Flag Counter