Deobandi Books

العلم و الخشیۃ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع

15 - 37
رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کا شبہ ہو ۔ بلکہ عرفی غیر مراد ہے اور عرف میں غیر کہتے ہوں اجنبی کو ۔ چنانچہ کہاکرتے ہیں کہ بھائی تم تو غیر نہیں ہو ۔ تو کیا وہ منطقی عین ہے اور کیا اس پر احکام بھی عین کے جاری ہوںگے کہ دونوں کی بیویاں ایک دوسرے کے حلال ہو جائیں ؟ ہرگز نہیں۔
اسی طرح یہاں پر غیر سے مراد اجنبی ہے جس کا تعلق حق تعالیٰ سے مانع ہو ۔ اس معنی کر رسول اﷲصلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت اور شیخ کی محبت غیر محبت حق نہیں تو اس کی نفی بھی مقصود نہیں مگر صوفیاء نے نااہلوں سے اخفاء کے لیے منطقی وعرفی اصطلاحات میں خلط کر رکھا ہے تاکہ ان کو راز کا پتہ نہ چلے چنانچہ کہتے ہیں   ؎
بامدعی مگوئید اسرارِعشق و مستی
بگزار تابمیرد در رنج خود پرستی
(مدعی سے عشق ومستی کے راز بیان مت کرو ان کو رنج اور خود پرستی میں مرنے دو )
اور فرماتے ہیں   ؎
اصطلاحے ہست مر ابدال را
(ابدال کی ایک اصطلاح ہے )
ان کی اصطلاحیں سب سے الگ ہیں۔ اس لیے پہلے ان کی اصطلاحیں معلوم کرنا چاہئیں پھر اعتراض کرنا چاہئے ۔ جب غیر کے متعلق ان کی اصطلاح معلوم ہوگئی تو اب اس شعر پر کیا اعتراض ہے   ؎
ہرچہ بینم درجہاں غیر تو نیست
یا توئی یا خوئے تو یا بوئے تو
(یعنی جہاں میں آپ کی مامور ہیں ۔ ہر ایک سے آپ ہی کا جلوہ نظر آرہا ہے )
مطلب یہ ہے کہ تمام عالَم آپ کی صفات کا مظہر ہے ۔ ہر چیز کو آپ سے تعلق ہے اس لئے غیر کا وجود ہی نہیں ۔ ہر جگہ آپ ہی کا ظہور ہے ۔ مگر عنوان ایسا ہے جس سے جاہلوں کو دینیت کا دھوکا ہو سکتا ہے ۔ پس اس معنیٰ کر محبت شیخ بھی غیر محبت حق نہیں کیونکہ وہ وصول الی اﷲ میں معین ہے ۔ یہ اصل ہے تصور شیخ کی ۔ 
مگر اس کی یہ صورت اس شرط سے جائز ہے کہ اسی کو لے کر نہ بیتھے کہ اس کا وظیفہ خاص مقرر کرے کہ اس وقت اگر خدا تعالیٰ کا تصور آجائے تو قصدًا اس کو بھی دفع کردے ۔ اسی سے منع کیا ہے مولانا شہیدؒ نے تو بزرگوں کی صحبت وزیادت تو بڑی چیز ہے ۔ ان کا تصور بھی نافع ہے ۔
یہی اصل ہے تبرّکات کی کیونکہ ان کی چیزوں کو دیکھ کر ان کی یاد تازہ ہوتی ہے اور ان کی یاد سے دل میں نور آتا ہے حق تعالیٰ کے ساتھ تعلق پیدا ہوتا ہے مگر اس سے بزرگوں کی تصویر رکھنے کی اجازت نہ سمجھ لی جائے کہ اس سے بھی یاد تازہ ہوتی ہے کیونکہ لباس اور تصویر میں فرق ہے ۔ لباس کی 
Flag Counter