Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2011

اكستان

8 - 64
حضرت اَبو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو لشکر روانہ کیا ہے شام کے لیے تو اُنہیں جو ہدایات دی ہیں وہ یہ ہیں کہ کوئی پھل دار درخت نہ کاٹیں وغیرہ ۔اَب اِس پر یہ بات چلتی ہے کہ اُن علاقوں کے کہ جہاں حملہ کیا جارہا ہو فوجیں جارہی ہوں درخت کاٹنے نہ کاٹنے جائز ہیں یا ناجائز۔ تو فوج کے لیے ایک قانون کی ضرورت پڑی کیونکہ اَبو بکر رضی اللہ عنہ نے یہ فرمایا یہ ہدایت دی تو اِس پر غور کیا گیا تو اِس کی وجہ یہ بنی کہ اَبوبکر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ  ۖ  کے بتلانے سے اِس بات کی خبر تھی کہ یہ علاقہ فتح ہوگا یہ مسلمانوں کو مِل جائے گا کیونکہ اُس کا فتح ہوجانا یقینیات میں سے تھا اُن کے لیے اِس واسطے اُنہوں نے یہ ہدایت دی کیونکہ جب فتح ہوجائے گا تو مسلمانوں کا ہوگا اَور مسلمانوں کے لیے وہ درخت کارآمد ہوں گے اُس وقت، ایک درخت کو بونا اَور چار سال پانچ سال یا تیس چالیس سال اِنتظار کرنا اُس کے پھل کا اِس کی کیا ضرورت ہے وہ علاقہ تو فتح ہونا ہی ہے اَور رسول اللہ  ۖ نے اِطلاع دی تھی۔ تواُن کا اِیمان تو بہت ہی زیادہ مظبوط تھا اِیمان بالغیب تھا ایسے  جیسے کہ دیکھنے کے بعد کسی کا اِیمان قیامت کے دِن ہوگا ویسے اُن کا دُنیا میں تھا۔ 
میںیہ کتاب پڑھ رہا تھا سِیَرُالْکَبِیْر اُس میں یہ ہے کہ جب اُنہوں نے لشکر روانہ کیا ہے تو(رُخصت کرنے کے لیے ) چلتے گئے پیدل ، لشکر کے جو سردار تھے اُنہوں نے کہا کہ جناب میں بھی اُترا جاتا ہوں یا آپ بھی سوار ہوجائیں کسی سواری پر ،فرمایا نہ تم اُترو نہ میں سوار ہوں گا اِسی طرح چلیں گے توکچھ دُور چلتے گئے پھر جہاں رُخصت کرنا تھا اُن کو وہاں تک ہدایات دیتے گئے وہاں رُخصت کیا جا کر ،اُن ہدایات میں یہ بھی ہدایات تھیں کہ زیادتی نہ ہو ،ظلم نہ ہو، فلاں کو نہ مارنا ،فلاں کو مارنا کیونکہ مسلمانوں کے یہاں خون ریزی تو نہیں ہے بلکہ مسلمانوں کی جو لڑائی ہوتی اُس کا ایک مقصد ہوتا ہے خاص وہ یہ ہے کہ کَلِمَةُ اللّٰہِ ھِیَ الْعُلْیَا  اللہ تعالیٰ کا کلمہ بلند رہے اُس کو بلندی حاصل ہو اَور اَغراض اُس میں نہیں ہوتے تو یہ مقصد کہ بچوں بڑوں مرد عورتوں سب کو جمع کر کے ماردیا جائے نسل کُشی کر دی جائے یہ اِسلام میں ہے ہی نہیں اِسلام کا جو طریقہ ہے  اُس میں بہت زیادہ فائدے ہیں حقیقتًا لڑائی کا فائدہ اِسی میں ہے کہ صرف لڑنے والوں کو مارا جائے ،لڑنے والوں میں اَگر کوئی بوڑھا بھی آگیا ہے تو وہ اَلگ بات ہے اُن کا جنرل ہے کوئی وہ بوڑھا ہے وہ مستثنیٰ ہے  کیونکہ وہ لڑنے والوں میں شامل ہوگیا کوئی راہب ہے وہ اُن کو اُبھارتا ہے آکر وہ بھی مارا جائے گا لڑنے والوں میں شامل ہے باقی جو راہب عبادت کر رہے ہیں تارک الدنیا بیٹھے ہوئے ہیں اُن میں کوئی حرج نہیں
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 4 1
3 درس حديث 7 1
4 اِسلامی جنگی مہم کے بعد مشکلات جنم نہیں لیتیں : 9 3
5 مفتوحہ علاقوں کی عورتوں کے ساتھ سلوک : 9 3
6 مفتوحہ علاقوں کے لوگ بخوشی اِسلام قبول کرتے رہے کسی پر جبر نہیں کیا گیا : 9 3
7 بادشاہوں کا ظالمانہ روّیہ : 10 3
8 حضرت اَبوبکر کی ہدایات ،ایک خاص دُعا اَور اُس کی وجہ : 11 3
9 خلافت علی منہاج النبوة اَور عام خلافت میں فرق : 12 3
10 دارُالخلافہ کی مدینہ منورہ سے کوفہ منتقلی : 12 3
11 بعد والوں کے لیے حضرت معاویہ کا طرز ممکن العمل ہے : 13 3
12 مسئلہ رجم 15 1
13 اِمام شافعی فرماتے ہیں : 16 12
14 قسط : ١٠ اَنفَاسِ قدسیہ 28 1
16 رُفقائِ سفر کے ساتھ : 28 14
17 قسط : ٢٧ تربیت ِ اَولاد 32 1
18 ( حقوق کا بیان ) 32 17
19 اَولاد کے حقوق میں کوتاہی اَور اُس کا نتیجہ : 32 17
20 اَولاد خبیث اَور بدمعاش کیسے ہوجاتی ہے : 33 17
21 بچوں کے اَخلاق اَورعادتیں کیسے خراب ہوجاتی ہیں : 33 17
22 چوری کی عادت رفتہ رفتہ ہوتی ہے : 34 17
23 آج کل کی تعلیم وتربیت کے برے نتائج : 34 17
24 بدحالی کا تدارک اَور اِصلاح کا طریقہ : 35 17
25 قسط : ٤ حضرت اِمام حسن بن علی رضی اللہ عنہما 36 1
26 حُلیہ مبارک : 36 25
27 اَزدواج کی کثرت : 36 25
28 بیویوں سے برتاؤ : 36 25
29 اَولاد : 37 25
30 ذریعہ معاش : 37 25
31 فضل وکمال : 38 25
32 حدیث : 38 25
33 خطابت : 38 25
34 شاعری : 40 25
35 حکیمانہ اَقوال : 40 25
36 اَخلاق وعادات : 41 25
37 اِستغنا ء وبے نیازی : 41 25
38 وفیات 42 1
39 قسط : ٣ ، آخری 43 1
40 دارُالعلوم کے مردِ دَانا و دَرویش کی رِحلت 43 39
41 نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہوتا ہے : 47 39
42 مولانا کی کارگاہِ سیاست 55 1
43 اَذان کی عظمت و شان مَد کی دَرازی سے ہے 59 1
44 دینی مسائل ( وقف کا بیان ) 62 1
45 وقف کیسے لازم اَور مکمل ہوتا ہے : 62 44
46 وقف کا حکم : 62 44
47 متولی وقف کی معزولی : 62 44
48 اَراضی وقف کو اجارہ طویلہ پر دینا : 63 44
Flag Counter