ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2011 |
¾اكستان Ù |
|
لیے کتنے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ مائیکل(ریمنڈ) کی رہائی کے لیے کوٹ لکھپت جیل پر اَمریکہ کمانڈو ایکشن کر سکتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے ہی سے آرمی کے ذریعہ اِس کا سدِّ باب کر لینا چاہیے تاکہ اَگر کوئی بھی ہنگامی صورت پیش آجائے تو اَمریکہ کو ایک بار پھر تیس برس قبل کے اُس اِیرانی صحرائی آپریشن کی یاد تازہ کرادی جائے جس کے زخم آج تک وہ چاٹ رہا ہے۔ یہ بات بھی سننے میں آ رہی ہے کہ مائیکل کی مدد کو اَمریکی قونصل خانہ سے آنے والے قاتل جاسوس امریکی سرکار کی سرپرستی میںخفیہ طور پر پاکستان سے فرار ہو کر اَمریکہ پہنچ چکے ہیں جس سے یہ بات روزِروشن کی طرح واضح ہو جاتی ہے کہ مجرموں کے بارے میں ملکی اَور عالمی قوانین کے احترام اَور بالادستی سے بدتہذیب اَمریکیوں کا کچھ تعلق واسطہ نہیں اَور اَخلاقی طور پر یہ دُنیا کی سب سے گری ہوئی قومی حکومت ہے۔آج سے چند برس قبل اَمریکہ میں شیہد ایمل کانسی کے ہاتھوں ایک امریکی جاسوس اِدارے کا ذمہ دار ہلاک ہوا تھا جو کہ خود اَمریکہ ہی کی عالمی نا اِنصافیوں کا ردّعمل تھا،بعد اَزاں اُس کو ڈیرہ غازی خان سے پکڑ کرپاکستانی حکمرانوں نے اَمریکہ کے حوالے کیااَور اَمریکہ میں اُس پر مقدمہ چلا کر زہر یا کرنٹ کے ذریعہ شہید کر دیا گیا۔اِس حوالے سے بھی آج بجا طور پر ہم یہ حق رکھتے ہیں کہ مفرور قاتل اَور فرار میں مدد دینے والی اَمریکی سرکار کو عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کریں اَور چھوٹے بڑے دونوں مجرموں کو قرار ِواقعی سزا دے کر جلتے سینوں کی تشفی کا سامان کریں،حق بھی یہی ہے اَور وقت کا بھی تقاضا ہے کہ حساب برابر کر دیا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو۔