ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2011 |
¾اكستان Ù |
|
کھڑا نہیں ہو گا لیکن جب اِس دستور کو یا اِس کے اِسلامی تشخص کو چیلیج کیا جاتا ہے تو شکایات پیدا ہو تی ہیں اَور مسلمان اکثریت کے لیے یہ بات قبول نہیں ہوتی کہ پاکستان کی اِسلامی بنیادوں اَور دستور کے اِسلامی تشخص کی نفی کی جائے۔ دُوسرے نمبر پر حقوق کے نام پر جب کچھ عناصر پاکستان کے اِسلامی تشخص کے خلاف عالمی اِستعمار کی یلغار اَور مہم کا حصہ بنتے ہیں تو اِس سے اِشتعال پیدا ہوتا ہے مثلاً ناموس ِرسالت ۖ کے تحفظ کا قانون دیکھ لیجیے۔ جب ا ِسے مکمل طور پر ختم کر نے کی بات کی جاتی ہے تویہ عالمی سیکو لرزم کے اُس ایجنڈے کی تائید ہوتی ہے جس پر وہ پاکستان کے اِسلامی تشخص کو ختم کرنے کے لیے عمل کر رہا ہے۔ اِس قانون کے مبینہ طورپر غلط اِستعمال کو روکنے کی بات اِس سے مختلف ہے اَور سرے سے قانون کو ختم کرنے کی بات قطعی طورپر اِس سے اَلگ ہے۔ اَنبیاء کرام علیہم السلام کی توہین تمام مذاہب میں سنگین جرائم کی فہرست میں آتی ہے اَور اِس پر موت کی سزا بائیبل میں بھی مذکور ہے اِس لیے جب اِسے قانون سے بالکل ختم کرنے کامطالبہ ہوتا ہے تو اِس سے کسی مذہب کی نمائندگی نہیں ہوتی بلکہ مذہب کی نفی کر نے والے عالمی سیکو لرزم کی تائید و تقویت ہوتی ہے جس سے مسلمانوں کو شدیداِختلاف ہے۔ اِسی طرح قادیانیت کا مسئلہ ہے کہ قادیانی گروہ سرے سے پاکستان کے دستور کو تسلیم نہیں کر رہا اَور منتخب پارلیمنٹ کے متفقہ دستوری فیصلہ کو مسترد کر رہا ہے اِس لیے جب مذہبی آزادی کے نام پر قادیانیوں کے اِس غیر دستوری اَور غیر جمہوری روّیے کی تائید کی جاتی ہے اَور اُنہیں سپورٹ کیا جاتا ہے تو اِس سے مسلم اَکثریت کے جذبات کامشتعل ہونا فطری بات ہے۔ اِن گزارشات سے مقصد یہ ہے کہ بین المذاہب مفاہمت کے فروغ اَور مکالمہ بین المذاہب کے لیے جب ہم بات کرتے ہیں تو اِس کے اَہداف ہمارے سامنے ہونے چاہئیں اَور اِبہام کی فضاء میں مذہبی شدت پسندی کا عنوان دے کر مذہبی حلقوں کو خواہ مخواہ ہدف ِتنقید بنا کر ہمیں کنفیوژن میں اِضافہ نہیں کرنا چاہیے۔ گول مول باتوں اَور اِبہا م کی فضاء سے کنفیوژن بڑھتا ہے اَور مسائل حل ہونے کے بجائے مزید اُلجھ کر رہ جاتے ہیں۔