ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2009 |
اكستان |
|
ویڈیو اَور سی ڈی سے سکرین پر حاصل شدہ صورت کا حکم ( حضرت مولانا ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحب ) چند دن پہلے اِس موضوع پر دارالعلوم کراچی کا متفقہ فتوی پڑھنے کو ملاپھر ذوالحجہ 1429ھ کے البلاغ میں مولانا زاہدالراشدی صاحب اور جامعہ امدادیہ فیصل آباد کے مولانا زاہد صاحب کے شائع شدہ مضامین نظر سے گزرے۔ جون 2008ء کے محدث میں جامعہ اشرفیہ کے مولانا یوسف خان صاحب کا مضمون دیکھ چکا تھا۔ یہ سب حضرات ویڈیو اَورسی ڈی سے سکرین پرحاصل شدہ صورت کو تصویر نہیں مانتے۔ہمیں اِن حضرات سے اتفاق نہیں ہوا اور مناسب معلوم ہوا کہ ہم واضح دلائل کے ساتھ اپنا مؤقف بھی پیش کردیں اور ضروری وضاحتیں بھی کردیں وما عیلنا الا البلاغ ۔(عبدالواحد غفرلہ) بِسْمِ اللّٰہ حَامِدًا وَّ مُصَلِّیًا ! ایک وقت تھا کہ کسی سطح پر کسی صورت کے بننے یا بنانے کے اعتبار سے دوصورتیں ہوتی تھیں : 1۔ ناپائیدار عکس جو کسی کی صنعت کے بغیر پانی پر یا آئینہ پر خود بخود بنتا ہے اور شے کے سامنے سے ہٹ جانے پر خودبخود ختم ہو جاتا ہے۔ 2 ۔ کاغذ یا کپڑے یا کسی اور چیز پر پائیدار نقش بنایا جائے جس کی بقاء کا مدار عکس کے خلاف ذی صورت کے سامنے ہونے نہ ہونے پرنہ ہو۔ کسی جاندار کی صورت گری کی پہلی صورت یعنی کسی جاندار کو مثلاً آئینہ کے سامنے کھڑا کرنا بالاتفاق جائز ہے جبکہ دُوسری صورت یعنی کاغذ یا کپڑے وغیرہ پرکسی بھی طریقے سے کسی جاندار کا پائیدار نقش بنانا برِ صغیر کے ہمارے علماء کے نزدیک بالاتفاق ناجائزہے۔ اور بنیادی طورپر یہی دو صورتیں ہیں اور اِن کے علاوہ کوئی تیسری صورت نہیں ہے لیکن جدید زمانے میں صورت گری کے دو نئی صورتیں سامنے آئیں :